سپریم کورٹ میں کل کیا خاص ہونے والا ہے؟ بڑی خبر آگئی!

Image result for ‫سپریم کورٹ‬‎

اسلام آباد -پاناما کیس کا فائنل راؤنڈ کل سے شروع ہوگا جبکہ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3رکنی بنچ کل صبح ساڑھے 9بجے درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر فریقین نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرنے کی بھرپور تیاریاں کرلیں، تحریک انصاف کے وکیل چوہدری فیصل نے کہاکہ تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھ کر اپنی معروضات تیار کرلی ہیں اور تحریک انصاف کا موقف بھرپورانداز میں پیش کیاجائے گا، شریف خاندان کا جانا ٹھہر گیاہے۔ادھر جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے بھی جے آئی ٹی رپورٹ کے جائزہ کا عمل مکمل کرلیا ہے، جماعت اسلامی نے کل سراج الحق کے عدالت میں آنے کی تصدیق کی ہے جبکہ عمران خان کے بھی عدالت آنے کے واضح امکانات ہیں۔

دوسری جانب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خواجہ حارث کی سربراہی میں شریف خاندان کے وکلا کی ٹیم نے جے آئی ٹی رپورٹ کو چیلنج کرنے کے لیے درخواست کا مسودہ تیار کر کے دائر کرنے کی منظوری حاصل کر لی ہے، سپریم کورٹ سے استدعا کی جائے گی کہ کوئی بھی کارروائی شروع کرنے سے پہلے اس درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان کی طرف سے جے آئی ٹی کو رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے اور کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کوبدنام کرنے کے لیے جھوٹی اور غیرمصدقہ دستاویزات کا سہارا لیکر ایسی رپورٹ تیار کی، اس کا واحد مقصد عوام کو حکمران خاندان سے بدظن کرنا اور سیاسی نقصان پہنچانا ہے، رپورٹ میں موجود مواد اور دستاویزات جے آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے اکٹھی کی گئیں۔بظاہر گواہوں کو محض خانہ پری کے لیے طلب کیا گیا اور جن دستاویزات کو وزیراعظم اور اہلخانہ کیخلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا بیانات قلمبند کرواتے وقت ان کو ان کے سامنے نہیں رکھا گیا اورموقف نہیں لیا گیا، ثبوت پر گواہ کو کنفرنٹ نہ کرانا قانون شہادت کی خلاف ورزی اور غیرقانونی ہے اور اسی سے جے آئی ٹی کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے، جے آئی ٹی نے جانبدار ہو کر پہلے سے متعین کردہ خطوط پر انکوائری کی اور کرپشن کے کوئی ٹھوس شواہد پیش کیے بغیر وزیراعظم اور ان کے خاندان کیخلاف نتائج اخذ کیے۔

ذرائع کے مطابق درخواست میں جے آئی ٹی ارکان کی جانبداری کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا کہ گواہوں پر بیانات تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی، عدالت عظمیٰ کو گمراہ کیا گیا اورجے آئی ٹی جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے وضع کردہ سوالات سے ہٹ کر حدیبیہ پیپر ملز اورچوہدری شوگر ملز کے معاملے میں پڑ گئی حالانکہ یہ معاملات پہلے سے کسی نہ کسی شکل میں مختلف فورمز پرنمٹائے جاچکے ہیں، عدالت سے رپورٹ مسترد کرنے اور عدالت کو گمراہ کرنے پر جے آئی ٹی کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

دریں اثنا سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ اور ریڈ زون کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، عدالت کی عمارت کے گرد اضافی خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں ، ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل ہاشمی کے مطابق کل ریڈ زون سیل کر دیا جائے گا اورغیرمتعلقہ افراد کا داخلہ بند ہوگا تاہم وکلا اور میڈیا کے نمائندے داخل ہو سکیں گے جبکہ ریڈ زون کے داخلی راستوں پر اضافی نفری تعینات ہوگی۔ علاوہ ازیں اٹارنی جنرل آفس نے پاناما لیکس کیس میں 10جولائی کو جاری حکم کی روشنی میں لیگی رہنماؤں خواجہ سعد رفیق ، طلال چوہدری اور آصف کرمانی کی تقاریر کے متن سپریم کورٹ میں جمع کرادیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کی طرف سے 106صفحات کی متفرق درخواست داخل کی گئی، تینوں رہنماؤں کے ٹرانسکرپٹ 106 صفحات پر مشتمل ہیں۔

مزید براں سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے 5 بنچ تشکیل دے دیے گئے، 3 بینچ اسلام آباد جبکہ 2 کراچی رجسٹری میں سماعت کریں گے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *