مِیٹ دی ایڈیٹرز

رؤف طاہرrauf

وزیراعظم نے پہلے سے تیار کردہ ’’ٹاکنگ پوائنٹس‘‘ میز پر ہی رہنے دیئے اور تقریباً 40منٹ کی گفتگو میں دل کی ہر بات زبان پر لے آئے۔ کوئی نصف گھنٹے کا سوال، جواب کا سیشن اس کے علاوہ تھا۔ ’’مِیٹ دی ایڈیٹرز ‘‘ کے نام سے اس تقریب کا اہتمام کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز(CPNE) نے کیا تھا۔ شامی صاحب کے بقول مدیرانِ جرائد سے اس طرح کے تبادلۂ خیال کی ’’بدعت‘‘ کا آغاز جناب زیڈ اے سلہری (مرحوم) نے کیا، یہ ضیاء الحق کا دور تھا۔ عارف نظامی صاحب نے اِسے آگے بڑھایا، انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو مدعو کیا تھا اور اب شامی صاحب کے دورِ صدارت میں، وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ یہ نشست اس لحاظ سے مختلف اور منفرد تھی کہ اس میں ملک بھر سے مدیرانِ جرائد کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے سینئر کالم نگار، ممتاز تجزیہ کار اور اینکر پرسنز بھی موجود تھے۔ (سوالات کی اِجازت صرف سی پی این ای کے ارکان کے لیے تھی) خطبہ ٔ استقبالیہ میں شامی صاحب نے بعض ’’پروفیشنل مطالبات‘‘ بھی پیش کئے، مثلاً سرکار کے اشتہاری بجٹ میں پرنٹ میڈیا کا تاریخی حصہ محفوظ رکھتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کے لیے علیحدہ بجٹ کا تعین، سی پی این اے کے دفتر کیلئے اسلام آباد میں قطعہ زمین کی فراہمی، کم وسیلہ اخبار ی اِداروں میں کام کرنے والے اہل ِ قلم کے لیے انشورنس کا ایسا انتظام جس سے اِن کی بیماری میں علاج اور دُنیا سے رخصتی کے بعد پیدا ہونے والے مصائب کا کچھ مداوا ہوسکے، خطبۂ استقبالیہ میں یہ حیران کن انکشاف بھی تھا کہ مدیرانِ اخبارات کی بڑی تعداد کے پاس سرڈھانپنے کے لیے چھت نہیں، شامی صاحب کو اُمید تھی کہ وزیراعظم کا کھلا دِل ان کے لیے بھی اطمینان اور مسرت کا کچھ سامان ضرور کرے گا۔ ان پیشہ ورانہ مطالبات کے علاوہ شامی صاحب کی تقریب کا غالب حصہ بہت اہم سیاسی و نظریاتی مسائل کے حوالے سے تھا کہ جن کے بغیر مدیرانِ جرائد کی اس مؤقر و محترم تنظیم کی طرف سے پیش کردہ خطبۂ استقبالیہ ادھورا بلکہ بے کیف و بے رنگ رہتا۔ شامی صاحب کا ایک ایک لفظ، میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دِل میں ہے، کے مصداق تھا۔ خود جناب وزیراعظم کا کہنا تھا، جو باتیں میں نے کہنا تھیں اور شاید نہ کہہ پاتا، وہ شامی صاحب نے کہہ دیں۔۔۔ ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دستور کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل نہ کر پانا ہے۔ ہمارے ہاں اس بنیادی دستاویز کی تقدیس سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔ اِسے کاغذ کا ایک مجموعہ سمجھ کر ’’طاقتوروں‘‘ نے جب چاہا اور جہاں سے بھی چاہا پھاڑ ڈالا۔ شاید یہ دُنیا کا واحد دستور ہے جس کے ایک ایک صفحہ پر من مانی اور یکطرفہ ترامیم کے اثرات موجود ہیں۔ پاکستان آج جس دہشت گردی اور فرقہ پرستی، بدنظمی، معاشی کم نصیبی اور سماجی افراتفری میں مبتلا ہے اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے دستور سے کھلواڑ ہے، اِسے بازیچۂ اطفال بنایا گیا تو وہ بھوت پیدا ہوئے جنہوں نے مختلف مقامات پر ہمیں یرغمال بنا رکھا ہے‘‘۔
شامی صاحب کی تقریر کے دوران ہمیں وہ تجزیہ کار اور ’’ریٹائرڈ‘‘ عسکری ماہرین بھی یاد آئے جو دھرنا بغاوت کے دوران یہ دعوے کرتے ہوئے پھولے نہ سماتے تھے کہ نوازشریف حکومت صبح گئی کہ شام گئی، ’’طاقتوروں‘‘ نے اسے رُخصت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اپنے اس دعوے کے لیے وہ اس دلیل کو بنیاد بناتے کہ فوج اپنے سابق سپہ سالار(مشرف) کے خلاف بغاوت کے مقدمے پر خوش نہیں، وہ نوازشریف کی بھارت اور افغانستان پالیسی پر بھی ناراض ہے، وہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بھی حامی نہیں۔ (اور یوں فوج کے یہ نادان دوست اور خودساختہ ترجمان فوجی قیادت کے منہ زور ہونے کا تاثر دیتے، جو خود کو آئین و قانون سے ماوراء سمجھتی ہے، جو عوام کی منتخب حکومت کی اِطاعت کو لازم نہیں سمجھتی)۔ خود دھرنے والے بھی ’’ایمپائر کی انگلی‘‘ کا بار بار ذکر کرتے لیکن ’’ایمپائر‘‘ آئین سے وفاداری کے اپنے حلف سے روگردانی پر تیار نہ تھا اور اب اِن ’’ماہرین‘‘ کا کہنا ہے، ’’سافٹ کو‘‘ ہوچکا، حکومت کہاں ہے؟ تمام اہم فیصلے تو ’’چیف‘‘ اور اس کے رفقا کر رہے ہیں۔ تو کیا شامی صاحب کا اِشارہ انہی کی طرف تھا جب وہ کہہ رہے تھے: ’’ہمارے اردگرد ایسے فکری اور نظریاتی دہشت گرد بھی موجود ہیں، جو ہمارے دستوری نظام کو تہہ و بالا کرنے کی توقعات پالتے رہتے ہیں اور وسوسے پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما افواجِ پاکستان کی توجہ ان کے ہدف سے ہٹانا گناہِ عظیم ہے۔ ماضی میں جو تجربات کئے گئے ، ان کا کڑوا پھل آج بھی کھانا پڑ رہا ہے۔ دستور کی چھتری کے بغیر اہلِ حرب کی ضرب لگانے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے‘‘۔
یہ اہلِ صحافت کی تقریب تھی، چنانچہ وزیراعظم کے خطاب کا بیشتر حصہ ان ہی کے حوالے سے تھا۔ 12اکتوبر1999 کی غیر آئینی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا سوال تھا، تب کتنے لوگ تھے، جنہوں نے اس کی مخالفت اور مذمت کی۔۔۔؟وزیراعظم کا کہنا تھا، وہ انہیں بھُولے نہیں، وہ اب بھی ان کی قدر کرتے ہیں، جنہوں نے ڈکٹیٹر کے پہلے روز سے آئین کی عملداری کا پرچم تھامے رکھا۔ انہوں نے دھرنوں کے دوران میڈیا کے ایک حصے کے کردار کا بھی ذکر کیاجو ’’پارٹی‘‘ بن گیا، جس نے حکومت کی رخصتی کو اپنا ایجنڈا بنایا اور وزیراعظم کے استعفے کی خبریں نشر کرتا رہا۔وزیراعظم کا کہنا تھا، میڈیا کے اعتبار اور وقار کا تقاضہ ہے کہ وہ خود اپنے داخلی احتساب کا میکنزم وضع کرے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ (ضربِ عضب) کے حوالے سے میڈیا کے کردار کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔
میڈیاکے ایک حصے سے جناب وزیراعظم کی شکایات بجا، لیکن سوال یہ ہے کہ تب خود حکومتی اِدارے PEMRA نے اپنی ذمہ داری کس حد تک نبھائی۔۔۔؟ یہی سوال اس نشست میں وزیراعظم سے بھی کیا گیا، چند دِن قبل وفاقی وزیراطلاعات جناب پرویز رشید سے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہی سوال کیا گیا تو اُنہیں اپنی بے بسی کے اعتراف میں کوئی عار نہ تھی’’میڈیا بہت طاقتور اور بہت بڑا ہواگیا ہے۔ اس کے لیے اتنا طاقتور اور اتنا بڑا PEMRAکہاں سے لاؤں؟‘‘
میڈیا تو بڑی بات ہے، PEMRA تو کیبل آپریٹرز کے سامنے بھی بے بس تھا، جو اس کے حکم کے باوجود Geo کو آف ایئر کردیتے، یا آخری نمبروں پر لے جاتے اور یہاں بھی نمبروں میں ردوبدل کرتے رہتے۔(کیبل آپریٹرز اس حوالے سے اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں)۔ سانحۂ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے ایک سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا، اس سانحہ سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اتنے سارے لوگ مارے جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔۔۔؟ یہ کیسے ممکن ہے، اس کے لیے ہم عوام ہی کو نہیں، اللہ کے حضور بھی جواب دہ ہوں گے۔ وزیراعظم کا یہ عزم بالجزم بجا، کراچی کا امن گزشتہ دونوں ادوار میں بھی ان کے ایجنڈے کا اہم حصہ تھا، اب تیسری بار اِقتدار سنبھالنے کے بعد بھی انہوں نے اسے اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل کیا وہ اس کے لیے زبردست پولیٹیکل وِل بھی رکھتے ہیں، وہاں بنیادی مسئلہ جرم اور سیاست کو الگ کرنا ہے لیکن اس میں بنیادی کردار سندھ کی صوبائی حکومت کا ہے، کیا وہ اس پر آمادہ ہوگی؟ وفاق آخری چارۂ کار کے طور پر گورنر راج نافذ کرسکتا ہے لیکن اس سے معاملہ مزید نہیں بگڑ جائے گا؟اور آخر میں ایک وضاحت:- خطبہ ٔ استقبالیہ میں ’’پیشہ ورانہ مسائل‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے شامی صاحب نے وزیراعظم کی دریا دلی کا بھی ذکر کیا۔ اس سال 23مارچ کو ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ پانے والوں کی فہرست میں ہمارا نام بھی ہے۔ یہ اعزاز پانے والے اہلِ صحافت میں جو نام یاد آرہے ہیں، ان میں جناب عطاالرحمٰن جناب اِدریس بختیار، جناب صدیق بلوچ، ڈاکٹر طاہر مسعود(شعبہ اِبلاغیات کراچی یونیورسٹی) ہیں۔ تعلیم و تدریس سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ دیگر افراد بھی ان میں شامل ہیں۔ چند روز قبل وزیراعظم سے ملاقات میں شامی صاحب نے اِن کی توجہ اس جانب دِلائی کہ پرائڈ آف پرفارمنس کا ’’معاوضہ‘‘ 5لاکھ سے بڑھا کر 10لاکھ کردیا جائے۔ شامی صاحب کے بقول وزیراعظم نے اسے قبول کر لیا۔سی پی این ای کی تقریب میں عطاالرحمٰن صاحب اور ہم بھی تھے، شامی صاحب نے وزیراعظم کی ’’دریادِلی‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے ہم دونوں کا نام لے دیا۔ ہمارے کرم فرما کو غلط فہمی ہوئی کہ شامی صاحب نے صرف ہم دو افراد کے لیے اس رقم میں اِضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ بہرحال کرم فرما کے یہ الفاظ ہمارے لیے کسی پرائڈ آف پرفارمنس سے کم نہیں کہ ہم کم از کم ڈھنگ کی عبارت تو لکھ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *