جینا اسی کا نام ہے

gul-nokhaiz

دو کالے سیاہ بندے اکٹھے سفر کر رہے تھے۔ دونوںکو شکوہ تھا کہ دنیا ان کے کالے رنگ سے نفرت کرتی ہے‘ کاش وہ بھی گورے ہوتے۔ اتنے میں ایک دریا کے قریب انہیں بڑی سی بوتل تیرتی نظر آئی۔ ایک نے قریب جاکر بوتل کا ڈھکن کھولا تو اندر سے جن نکل آیا۔ ہمیشہ کی طرح ایک بیہودہ سا قہقہہ لگایا اور پھر جھک کر بولا 'حکم میرے آقا‘۔ دونوں بہت خوش ہوئے لیکن جن نے فوراً ہی ان پر واضح کر دیا کہ چونکہ وہ کافی عرصے سے بوتل میں قید رہا ہے لہٰذا اس کی تقریباً تمام صلاحیتیں ختم ہوچکی ہیں تاہم وہ دونوں کی ایک ایک خواہش ضرور پوری کر سکتا ہے۔ پہلے بندے نے جلدی سے کہا'مجھے گورا چٹا کردو‘۔ جن نے منتر پڑھ کراُس پر پھونکا اور وہ یکدم 'بٹ‘ بن گیا۔جن نے دوسرے بندے کی طرف دیکھا'تمہاری کوئی خواہش؟‘۔ دوسرے نے کچھ دیر سوچا اور پھر بے اختیار بولا 'اینوں فیر کالا کردے‘...!!
آپ کے اردگرد جو بندہ بھی بلاوجہ بہت خوش نظر آئے یقین کرلینا چاہیے کہ اُس کے کسی قریبی عزیز کا بہت بڑا نقصان ہوگیا ہے۔آج کل پانچ لاکھ کا پرائز بانڈ نکلنے کی اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی اس بات کی ہوتی ہے کہ ہمسائے کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی ہے۔ یقین کریں ایسے موقعوں پر افسوس کرنے والوں کے لیے اپنی دندیاں تک چھپانا مشکل ہوجاتاہے۔آپ کے گھر فریج ہو...اور میرے گھر بھی تو کتنے دُکھ کی بات ہے۔ نہ آپ میرے سامنے اکڑ سکتے ہیں نہ میں۔ کسی ایک کا پلڑا تو بھاری ہونا چاہیے۔کئی دوست اس اذیت میں گرفتار رہتے ہیں تاہم انہیں ایک چھوٹا سا طریقہ بتادیتا ہوں‘ جب بھی اپنی چیز کے بارے میں بتائیں‘ تھوڑی سی ڈنڈی مارجائیں۔ مثلاً اگر پانچ مرلے کا گھر ہے تو کوئی مضائقہ نہیں‘ سوا پانچ مرلے کہہ دیں۔گاڑی 1990ماڈل کی ہے تو کہہ دیں کہ 'ہے تو 90 ماڈل لیکن رجسٹریشن 91 کی ہے‘۔ یاد رہے کہ دوستوں میں کبھی اپنی چیز کی بات پہلے شروع نہ کریں ورنہ مخالف جیت جائے گا۔ پہلے اُس سے پوچھیں کہ تمہارے موبائل کی بیٹری کتنی دیر چلتی ہے‘ وہ سات گھنٹے کہے تو آپ کا جواب نوگھنٹے ہونا چاہیے۔ الحمدللہ آپ کو عجیب وغریب طرح کی روحانی خوشی نصیب ہوگی۔بچوں کے حوالے سے بات چلے تو خود خاموشی اختیار کریں اور سامنے والے کو بولنے دیں‘ جونہی وہ کہے کہ بچے تو آج کل موبائل اور انٹرنیٹ کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں...فوراً سینہ تان کر جواب دیں 'یار میرے بچے تو رات تک کتابوں میں ہی غرق رہتے ہیں‘۔ہر وقت کرید کرید کر دوستوں سے ان کی خامیاں پوچھیں ‘ یقینا یہ خامیاں آپ میں بھی ہوں گی لیکن آپ نے ریورس گیئرلگانا ہے‘ جوکچھ وہ کہیں اس کے بالکل الٹ جواب دیں۔یہ جو اکثر شادی شدہ جوڑے ہر محفل میں ایک دوسرے سے چپک کر ہنستے ‘ مسکراتے ‘ کھلکھلاتے نظر آتے ہیں اور جن کے بارے میں بیویاں عام طور پر رشک کرتے ہوئے کہتی نظر آتی ہیں کہ 'کتنی انڈرسٹینڈنگ ہے دونوں میں‘۔ ایسے جوڑوں کی ڈرامہ بازی پر قطعاً دھیان نہ دیں‘ یہ محفل میں 'پریمی ‘ ہوتے ہیں لیکن گھر جاتے ہی ایک دوسرے کا خاندان ادھیڑ کے رکھ دیتے ہیں۔آپ کو بھی چاہیے کہ آپ بھی یہ ڈرامہ بازی سیکھیں اور محفل میں بیوی کا ہاتھ تھام کر پیار بھرے لہجے میں کہیں 'بھئی شکیلہ کے بغیر تو میں ایک پل نہیں رہ سکتا‘۔حالانکہ آپ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ اصل میں آ پ شکیلہ کے ساتھ بھی ایک پل نہیں رہ سکتے۔ گھرمیں بے شک آپ کپڑے خود استری کرتے ہوں‘ جوتے خود پالش کرتے ہوں‘ بچوں کو خود نہلاتے ہوں...باہر یہی کہنا ہے کہ 'یار میں تو کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اتنی وفا شعار بیوی مجھے کیسے مل گئی...وہ تو مجھے لقمہ بھی اپنے ہاتھ سے توڑ کر کھلاتی ہے‘۔ (نوٹ! یہ کہتے ہوئے دھیان رہے کہ آپ کی آنکھوں میں نمی نہیں ہونی چاہیے)۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کی عزت کرے تو آپ کو خصوصاً اُس وقت امیر لگنا چاہیے جب آپ کی جیب خالی ہو ورنہ کوئی منہ نہیں لگائے گا۔بینک بھی اُس وقت ایک لاکھ قرضہ دیتا ہے جب آپ کے اکائونٹ میں دو لاکھ موجود ہوں۔امارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے چند ایک چیزوں کے نام رٹ لیجئے‘ کام بن جائے گا۔ مثلاًخود کو 'برینڈ کانشیئس‘ ظاہر کیجئے۔ بے شک پچاس روپے والا انڈہ شامی برگر کھائیے لیکن یہی کہیے کہ 'یار ! پتا نہیں اس کے برگر میں کیا خاص بات ہے‘ میں ہر روز گاڑی اِدھر موڑ لیتاہوں‘۔پندرہ سو روپے والا موبائل رکھئے اور برملا کہئے'یار ! کال سننے کے لیے اس سے اچھاٹاک ٹائم کسی کا نہیں‘۔سستا پرفیوم لگائیے کہ یہ خوشبو میرے والد مرحوم کو بہت پسند تھی۔ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر استعمال کیجئے اور جب کوئی حیرت کا اظہار کرتے تو بے بسی کا اظہار کیجئے 'کیا کروں یار! جونہی نئے ماڈل کا لیپ ٹاپ لاتا ہوں میرے بچے لے لیتے ہیں‘۔
روز دوستوں سے ڈسکس کیجئے کہ نئی گاڑی کون سی اچھی ہے۔میرا ایک دوست گزشتہ پچیس سال سے کسی اچھی گاڑی کی تلاش میں ہے اوراسی ایک جملے کی وجہ سے اس کا مقام آج بھی اونچا ہے۔آپ کے گھرمیں اے سی نہیں تو یہ راز فاش کرنے سے گریز کریں اور اگر کسی دوست کے آنے پر آپ کو پسینے میں شرابور استقبال کرنا پڑے تو یہ شکوہ ضرور کریں کہ 'انورٹر اے سی تو بالکل ہی کولنگ نہیں کرتے‘۔کسی امیر دوست کی امارت سے متاثر ہونے کی بجائے الٹا اسے 'ساڑ کے سواہ‘ کردیں۔ میرا دوست ایسا ہی کرتاہے۔ تین مرلے کے کرائے کے گھر میں رہتا ہے ‘ ایک دن ایک دوست اسے اپنا دو کنال کا نیا بنگلہ دکھانے لیے لے گیا۔ موصوف نے پونے پانچ کروڑ کے گھر پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالی اور بے نیازی سے فرمایا 'لان چھوٹا ہے‘۔
ایسے لوگ بڑے پرسکون رہتے ہیں‘ ان پر کوئی بات اثر نہیں کرتی۔ آپ ان کے سامنے بی ایم ڈبلیو لے آئیں‘ یہ اپنے ویسپے کو اُس سے بہتر قرار دے دیں گے۔ان کا بچہ میٹرک میں تھرڈ آجائے تو زبردستی مبارکبادیں وصول کرتے ہیںاور کسی عزیز کا بچہ فرسٹ پوزیشن بھی لے لے تو تعلیمی معیار کی گراوٹ پر افسردہ نظر آتے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ہم سب کو اِن جیسا بن جانا چاہیے ورنہ ہمارے جیسے ساری ساری رات یہی سوچ کر کُڑھتے رہتے ہیں کہ ساتھ والے ہر شام گاڑی پر سیر کرنے کیوں جاتے ہیں؟ تو دوستو بزرگو! صحیح طریقہ یہی ہے کہ اپنی چیز کو چھ سے ضرب دینا سیکھیں۔ آہستہ آہستہ خود بھی یقین ہونے لگے گا۔آج کے بعداگر آپ کا بجلی کا بل پانچ ہزار آئے تو آپ نے مہنگائی کا رونا روتے ہوئے محلے والوں کو یہی بتانا ہے کہ آپ کو تیس ہزار کی ڈز پڑ گئی ہے۔گھرسے چھ سو روپے چوری ہوجائیں تو تھانے میں چھ لاکھ ہی لکھوانے ہیں۔مجبوری ہے بھیا! یہ سب نہیں کریں گے تو مرجائیں گے۔پیسہ ہونہ ہو‘ کم ازکم پیسے کا ذکر تو ہونا چاہیے۔ میرا تو مشورہ ہے کہ اپنے گھر کی پلستر اکھڑی دیواروں کے ساتھ تصویریں بنوانے کی بجائے کسی بڑی سی کوٹھی کے سامنے تصویر بنوائیں اور فیس بک پر لگاکر لکھ دیں 'ہوم سویٹ ہوم‘۔میرا دعویٰ ہے کہ آپ بہترین نیند سوئیں گے اور آپ کے عزیز و اقارب ساری رات لوٹنیاں لیتے رہ جائیں گے۔لیجئے اب مجھے اجازت دیجئے‘ میں ذرا ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی گپ شپ کرلوں‘ شکریہ!(گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *