یاشار کمال، اسماعیل قدارے اور یاسمین کھدرا کے ناول

مستنصر حسین تارڑMHT

ہم جب عالمی ادب کے منظر نامے پر نظر کرتے ہیں تو ایک عجیب مغالطے میں مبتلا رہتے ہیں اور میں اپنے آپ کو بھی ایسے مغالطوں کا شکار سمجھتا ہوں کہ ہم صرف یورپ اور امریکہ کے ناول نگاروں پر ہی نظر کرتے ہیں کہ صرف وہ ہیں جن میں تخلیق کا جوہر ہے اور اپنی کم عملی کے باعث آگاہ ہی نہیں ہوتے کہ ہمارے اپنے سلمان ادیب ایسے ہیں جو بین الاقوامی معیار کے شاہکار ناول تخلیق کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں، میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں شمالی افریقہ کے ناول نگار محمد اچاری کا حوالہ دیا تھا لیکن اس کے سوا تین مسلمان ناول نگار ایسے ہیں جن کی جانب ہم نے توجہ نہیں کی۔۔۔ یعنی ترکی کا یاشار کمال، جسے صرف اس لیے نوبل انعام نہ مل سکا کہ وہ ایک کُرد ہے اور ترکی کی حکومت نے اسے نوبل انعام دینے کی مخالفت کی۔۔۔ اگرچہ ارحان پاموک نے یہ انعام حاصل کرلیا اور وہ اس کا حق دار بھی تھا لیکن یہ یاشار کمال ہے جو ترکی کے جدید ناول کا بانی ہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب اسے صرف اس جرم کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا کہ اس نے کُرد زبان کے حق میں ایک بیان دیا تھا اور جب کچھ صحافیوں نے ترکی کے وزیراعظم سے دریافت کیا اور شاید وہ سلمان ڈیمرل تھے کہ آپ نے ترکی کے سب سے عظیم ادیب کو پابندسلاسل کیوں کردیا ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں یاشار کمال کی تخلیقی عظمت کا معترف ہوں، آج بھی میرے سرہانے اس کے ناول رکھے ہوتے ہیں لیکن ۔۔۔ اس نے ترکی کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے، میں پہلے بھی تذکرہ کر چکا ہوں کہ میں یاشار کا اتنا بڑا چاہنے والا ہوں کہ میں نے اپنے پہلے پوتے کا نام یاشار رکھا۔۔۔ پچھلے دنوں برادرم گوئندی کے توسط سے کہ اس نے اپنے اشاعتی ادارے کی جانب سے یاشار کے ایک ناول کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے، میں نے اپنے پوتے یاشار کی ایک تصویر یاشار کمال کو روانہ کی تاکہ وہ اس پر اپنے دستخط کردے۔ گوئندی نے اطلاع کی ہے کہ یاشار کمال نے بے حد پرمسرت ہو کر کہ پاکستان میں اس کے چاہنے والے ایسے ہیں جو اپنے بچوں کے نام اس پر رکھتے ہیں اس نے میرے پوتے کی تصویر پر لکھا ’’یاشار کیلئے، یاشار کی جانب سے‘‘ ۔
یاشار کمال کے بعد البانیہ کا اسماعیل قادر یا قدار ے ہے جس نے ’’جنرل آف اے ڈیڈ آرمی‘‘ ایسا بڑا ناول لکھا۔۔۔ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے لیکن نوبل ایوارڈ کی کمیٹی نے ابھی تک اس کی جانب نظر التفات نہیں کی حالانکہ وہ اس برس کے نوبل انعام یافتہ فرانسیسی ناول نگار سے ایک برتر اور بے مثال ہے۔ اس فرانسیسی ناول نگار کو صرف اس لئے نوبل انعام سے نوازا گیا کہ اس نے ایک نوجوان یہودی لڑکی کی داستان اگرچہ کمال کی لکھی جو نازیوں کے ظلم کا شکار ہوئی۔ اگر یہ ناول کسی فلسطینی لڑکی کے بارے میں لکھا جاتا جسے اسرائیلیوں نے ہلاک کیا تو نوبل انعام تو کیا اس ناول نگار کو ایک مجرم قرار دیا جاتا۔
اور تیسرا ابھی تک فراموش کردہ مسلمان ناول نگار یاسمین کھدرا ہے اور وہ ایک الجیرین مرد ہے عورت نہیں ہے اگرچہ اس کا نام یاسمین ہے، تو آج میں اس کی ناول نگاری کا تذکرہ کروں گا کہ وہ کسی بھی گارسیا مارکینر یا سراماگو سے کم درجے پر فائز نہیں۔۔۔ البتہ ایک الجھن کو ایسا سلجھائے دیتا ہوں کہ اگر وہ ایک مرد ہے تو یاسمین یا یاسمین کھدرا کیوں کہلاتا ہے، وہ الجیریا کی فوج میں ایک میجر کے عہدے پر فائز تھا اور کوئی یقین کرے یا نہ کرے فوج کی تنظیم میں ڈھلے کچھ روبوٹ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اندر تخلیق کی بے پناہ قوت انہیں اظہار کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اس سلسلے میں ہم اپنی فوج میں شامل کچھ افسروں کے حوالے فخر سے پیش کرسکتے ہیں جن کے بغیر اردو ادب کی تاریخ نامکمل رہ جاتی ہے یعنی جنرل شفیق الرحمن، کرنل محمد خان اور میجر ضمیر جعفری۔۔۔لیکن یہ نہ بھولئے کہ یہ تینوں بنیادی طور پر مزاح نگار تھے اور مزاح کو قبول کرنے میں کچھ حرج نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجے میں کسی انقلاب یا تبدیلی کا کچھ خدشہ نہیں ہوتا جبکہ سنجیدہ تحریریں خطرناک ہوتی ہیں۔ اگرچہ فیض صاحب مکمل نہیں ایک پارٹ ٹائم فوجی رہے تھے لیکن انہیں زنداں میں ڈال دیا گیا، اسی طور محمد مُسلحال ایک میجر تھا اور اسے معلوم تھا کہ فوجی کمان اسے ہرگز اجازت نہیں دے گی کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر دھیان دے کر ناولوں میں اپنا ذاتی نقطۂ نظر پیش کر سکے چنانچہ اس نے یہ ناول اپنی بیوی یاسمین کے نام سے چھپوائے۔۔۔ اور جب فوج سے فارغ ہوا تو وہ اپنی بیوی کے نام سے اتنا نامور ہو چکا تھا کہ اس نے اسی نام کو اختیار کرلیا۔۔۔ ان دنوں وہ فرانس میں مقیم ہے اور اس کی اظہار کی زبان بھی عربی نہیں فرانسیسی ہے۔ میں نے اوپر تلے اس کے تین ناول مسلسل پڑھے اور مجھے بہت تاسف ہوا کہ آخر میں اس عظیم مصنف سے آج تک کیوں بے خبر رہا۔
یاسمین خدرا کا پہلا ناول جس سے میں متعارف ہوا ’’سائرنز آف بغداد‘‘ ہے۔۔۔ بغداد سے بہت دور صحرا میں بدوؤں کی ایک قدیم، نادار اور پسماندہ بستی ہے جہاں سینکڑوں برسوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔۔۔ یہاں تک کہ قبیلے کے ساتھ وابستگی، بزرگوں کا احترام، اپنے حال پر قناعت کرنا اور غربت میں بھی مطمئن رہنا ان کی اخلاقی اقدار میں شامل ہے۔ وہ لاتعلق رہتے ہیں اس امریکی حملے سے جس نے ان کے پُرامن ملک کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے ،جس نے بغداد کو برباد کردیا ہے، وہ اپنے لمحہ موجود میں مست رہتے ہیں اور پھر ایک روز گاؤں کی ایک شادی کے شادیانوں پر ایک میزائل اترتا ہے اور باراتی اور شادی کے خیمے اور روشنیاں پل بھر میں سب کچھ ہلاک ہو جاتا ہے۔۔۔ کچھ روز بعد امریکی فوجی اس قدیم امن کے گہوارے میں دندناتے آتے ہیں اور ایک نوجوان کے تقریباً اپاہج اور بوڑھے باپ کو بے عزت کرتے ہیں ، اسے برہنہ کر دیتے ہیں۔ وہ نوجوان اپنے باپ کی عریانی پر شرمندہ ہوتا ہے ، اس کی بے حرمتی اسے پاگل کردیتی ہے اور وہ اس کا بدلہ لینے کے لئے بغداد چلا جاتا ہے اور ایک ’’دہشت گرد‘‘ ہو جاتا وہے۔۔۔ یاسمین کھدرا کا یہ ناول رلا دیتا ہے اور بلاشبہ یہ ایک بڑا ناول ہے جو عراق کی امریکہ کے ہاتھوں تباہی کی ایک دستاویز ہے۔ (جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *