شریف برادران کی طاقت کے اعصابی مرکز پر دہشت گردوں کی دستک

(تجزیہ: باسط علی)bombblastatlahore

سانحہ پشاور کے بعد میاں نوازشریف کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کے اعلان نے اس جنگ میں ایک نیا عنصر داخل کر دیا تھا۔ دہشت گردوں کی جانب سے یہ کھلا اعلان ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کیا گیا تھا کہ اب اُن کا نشانا نئے حکمران ہوں گے۔ لاہور کے تازہ ترین واقعے سے دہشت گردوں نے دراصل شریف برادران کی سیاسی طاقت کے اعصابی مرکز پر دستک دی ہے۔دہشت گردوں نے ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کہیں پر بھی بروئے کار آسکتے ہیں۔
لاہور پولیس لائنز پر دہشت گرد حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور 29؍ افراد زخمی ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب فوجی سربراہ افغانستان کا رخ کر رہے تھے۔ جہاں وہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی اُن گتھیوں کو سلجھا رہے تھے جو افغانستان میں جا کر اُلجھ جاتی ہیں۔ چند روز قبل ہی فوجی ترجمان میجرجنرل عاصم سلیم باجوہ نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ملا فضل اللہ عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ دہشت گرد ہیں اور اُن کی حوالگی کی بات ہر سطح پر جاری ہے۔ فوجی سربراہ کاحالیہ دورۂ افغانستان اس حوالے سے توقعات میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔ مگر دہشت گردوں نے عین اُسی دن لاہور کو نشانے پر لیا جس دن فوجی سربراہ اپنے انتہائی اہم دورے پر افغانستان میں تھے۔
دوسری طرف افغانستان میں افغان طالبان نے بھی ٹھیک اسی دن افغان صوبے لورگر کے دارالحکومت پل علم میں پولیس ہیڈکوارٹر کو ہی نشانے پر لیا۔ جس میں 26 اہلکار اپنی جانیں ہار بیٹھے۔ ماہرین کے مطابق بہار کا موسم شروع ہوتے ہی اپریل یا مئی میں طالبان حملوں میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے۔ جو اس مرتبہ زیادہ شدید ہو سکتا ہے کیونکہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد اب دہشتگردی کے مسئلے سے خود افغان فورسز تن تنہا نمٹ رہی ہے۔ پاکستان میں تاحال اس پر کوئی غور نہیں کیا گیا کہ یہ صورتِ حال خود پاکستان کے لئے کتنی سنگین ہو سکتی ہے؟ اس علاقائی تناظر سے قطع نظر لاہور میں دہشت گردی کا حالیہ واقعہ نہایت خطرناک مضمرات کا حامل ہے۔
آرمی پبلک اسکول پر 16؍ دسمبر کے خوف ناک حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف سول فوجی قیادت کے اتحاد اور تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے یکساں حمایت سے یہ تاثر پید ا ہو گیاتھا کہ اب دہشتگردی کے خلاف محاذ کو اس قدرگرم کر دیا جائے گا اور اُنہیں قانونی سقم سے ملنے والی گنجائش کے تمام چور دروازوں کو بند کر دیا جائے گا۔ اس ضمن میں فوجی عدالتوں کو تمام ہی مسائل کا حل سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر دہشت گردی کے حوالے سے اس بنیادی نکتے کو نظر انداز کر دیا گیا تھا کہ دہشتگردریاستی اقدامات پر اپنی پالیسیوں کو منحصر نہیں رکھتے۔ چنانچہ دہشت گردوں نے ملک میں موجود فضا کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے سب سے پہلے 30؍ جنوری کو شکار پور کا رخ کیا جہاں اہل تشیع کی امام بارگا ہ کو اپنے نشانے پر لیا ۔ اس دہشت گردی کے واقعے نے 53؍ افراد کی جانوں کو نگل لیا۔ اس کے بعد 13؍ فروری کو دہشت گردوں نے ایک بار پھر پشاور کا رخ کیا اورایک بار پھر اہلِ تشیع کی امام بارگاہ کو اپنا ہد ف بنایا جس میں انیس افراد کی زندگی کے چراغ گُل ہو گئے۔دہشت گردی کے اس ماحول میں دہشت گردوں نے خطرے کی نئی گھنٹی تب بجائی جب اُنہوں نے شریف برادرن کی سیاسی طاقت کے مرکز لاہور میں 16؍ فروری کو نئے سال کا پہلا دہشت گرد حملہ پولیس لائنز پر کیا۔اس سے قبل لاہور107 روز قبل دہشت گردوں نے تب نشانے پر لیا تھا جب واہگہ بارڈر پر 2؍نومبر 2014 کو ایک کارروائی میں 62 افراد نگل لئے تھے۔لاہور کا یہ واقعہ سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردوں کی طرف سے ایک نئے خوف ناک رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق دہشت گرد کسی نہ کسی طرح حکمرانوں کے سیاسی مرکز کو گرم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں لاہور میں142 سے زائد عمارتوں کو حساس قرار دیا جاچکا ہے۔ لاہور کے حالیہ حملے کی اطلاعات بھی گزشتہ تین روز سے گردش کر رہی تھیں۔ دیکھنا یہ ہے اطلاعات کے باوجود دہشت گرد حملوں کو روکنے میں ناکامی کو ہم کس طرح دور کرتے ہیں اور شریف برادران اپنے سیاسی طاقت کے مرکز کو دہشت گردی کے عفریت سے کیسے نجات دلاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *