منصف گواہ کی تلاش میں

asghar nadeem syed.

کچھ عرصہ پہلے انڈیا کی ایک فلم ’جولی ایل ایل بی‘ آئی تھی جو مقبول ہوئی تو اس کا دوسرا حصہ بھی بنایا گیا۔آج معلوم نہیں کیوں وہ فلم مجھے یاد آرہی ہے۔ اس کے چند مکالمے ذہن میں گونج رہے ہیں۔
’’ارے بھئی تمہیں تو فلموں میں ہونا چاہیے تھا کورٹ میں کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’قانون اندھا ہوتا ہے مگر جج کو سب دکھائی دیتاہے‘‘
’’جج کو پہلے دن ہی پتا ہوتاہے کہ مجرم کون ہے؟ مگر وہ گواہ کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے‘ گواہ آج آئے گا‘ کل آئے گا۔۔۔گواہ نہیں آتا اور مجرم رہا ہوجاتاہے‘‘۔
اب جج خود تو گواہوں کی تلاش میں نہیں نکل سکتاتو گویا گواہ حاضر نہ ہوتو مجرم کو چھوڑ دینا چاہے؟ اس حوالے سے قدیم داستانوں میں وقت کے قاضی اور منصف بااثر مجرم کو سزا دینے کے لیے خود گواہوں کی تلاش میں نکلا کرتے تھے۔ وہ اکثر بھیس بدل کر عوام میں پہنچ جاتے تھے۔کوتوال کی بدمعاشی پکڑنے کے لیے وہ قہوہ خانوں میں جاکربیٹھتے تھے۔وہ گلیوں بازاروں میں جاتے تھے ‘ ایک دن گواہ کو عدالت میں لے آتے تھے اور بااثر بادشاہوں کو کٹہرے میں لے آتے تھے۔وقت کے قاضی انصاف کی نادر مثالیں داستانوں میں رقم کرتے رہے‘ ہم اب داستانوں کے دور میں نہیں رہے‘ اس لیے آج کے منصف بھیس بدل کر گواہ کی تلاش میں گلیوں بازارو ں میں نہیں آسکتے ۔۔۔تو گویا پھر گواہ کہاں سے پیدا کیے جائیں اور منی ٹریل کہاں سے لائی جائے؟؟؟ منصف روزانہ عدالت لگا کر بیٹھتے ہیں اور آواز دیتے ہیں کہ کوئی ہے جو گواہ پیش کرے؟۔۔۔کوئی ہے جو بادشاہ کے حق میں کوئی کاغذ پیش کرے؟۔۔۔جب کوئی نہیں آتا تو منصف اپنا دفتر بند کر دیتا ہے ۔ جس طرح منصف کو گواہ کی تلاش ہے ایسے ہی کہانی لکھنے والے کو کہانی کی تلاش ہوتی ہے۔ ہمارے سعادت حسن منٹو صبح سویرے کہانی کی تلاش میں نکلتے تھے تاکہ جو کہانی ان کے ہاتھ لگے وہ اسے لکھ کر بیس روپے کی دیہاڑی لگا سکیں۔ بقول منٹو صاحب! ان کا روزانہ کا خرچہ پینتیس روپے بنتا تھا۔کبھی وہ بیس کی دیہاڑی لگاتے‘ کبھی تیس روپے کی۔ وہ اسی مشقت میں مبتلا رہے۔ ان پر سرکاری اداروں کے دروازے بند تھے کیونکہ وہ سند یافتہ فحش نگار تھے۔ اس وقت کے میڈیااور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے منٹو صاحب کو جینے نہ دیا اور وہ خون تھوک کر دنیا کو بتا گئے کہ اے دنیا ! تیرا حسن یہی بدصورتی ہے۔ اب ہم اسی بدصورتی میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں جہاں منصف کو گواہوں کی تلاش ہے۔ ان کاغذوں کی تلاش ہے جو بادشاہ کو مجرم بنا سکیں نہیں تو مجرم رہا ہوجائے گا اور جج کو سب کچھ دکھائی دیتے ہوئے بھی اسے قانون کی طرح آنکھیں بند رکھنی ہوں گی۔
منٹو صاحب کو جس طرح کہانی کسی طوائف کے کوٹھے سے مل جاتی تھی‘ کبھی کسی کوچوان سے‘ کبھی کسی دلال سے ‘ کبھی کسی مردہ خانے کے فرش پر پڑی لاش سے‘ کبھی کسی سماجی ٹھیکیدار سے مل جاتی تھی۔ اب ایسے ہوتاہے یا نہیں کیونکہ کہانیاں تلاش کرنے والا مر گیا ہے۔اب کہانی بھٹک رہی ہے کہ کوئی اسے تلاش کرے۔ کہانی اپنے لکھنے والے کی تلاش میں ہے۔ کیا ایسے ہی گواہ بھی اپنے منصف کی تلاش میں تو نہیں ہیں؟ کیونکہ اب داستانوں کا دور گذر چکا ہے جب قاضی بھیس بدل کر گواہوں کی تلاش کر لیا کرتے تھے۔ یہ گواہ کب تک منصف کی تلاش میں رہے گا؟
ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ گواہ موجود ہی نہ ہو۔ خفیہ دستانے پہن کر جرم کر ہر ثبوت مٹا دیا گیا ہو‘ یا گواہ کو کچھ دے دلا کر سلا دیا گیا ہو‘ یا بادشاہ سلامت کے خوف سے گواہ کہیں چھپا بیٹھا ہو۔ اگر گواہ موجود نہ ہو تو وعدہ معاف گواہ پیدا کیے جاتے ہیں جو وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں۔ تب منصف کو گواہ کی تلاش میں بھیس بدل کرنہیں نکلنا پڑتا‘ بلکہ انصاف بھیس بدل کر قاتل کا روپ دھار لیا کرتاہے۔مگر آج کے منصف جو بادشاہ کا مقدمہ سن رہے ہیں‘ بے حد کوشش میں ہیں کہ گواہ پیش ہو کر جرم کو ثابت کرنے میں مددگار بنے ۔ مگر صبح سے شام تک عدالتیں کھلی رکھی گئی ہیں کہ گواہ پیش ہوں ۔ اس کا مطلب ہوا کہ جس طرح کہانی اپنے لکھنے والے کی تلاش میں ہے ۔ اسی طرح منصف اپنے گواہ کی تلاش میں ہے ۔

یا جوج ماجوج کا قصہ ایسے میں یاد آ رہا ہے ۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ یاجوج ماجوج رات بھر دیوار کو چاٹا کئیے یہاں تک کہ دیوار تحلیل ہوتے ہوتے انڈے کے چھلکے کی مانند ہو گئی اور پھر یاجوج ماجوج تھک گئے اور انہیں نیند آنے لگی اور وہ یہ کہہ کر سو گئے کہ باقی دیوار صبح کو چاٹیں گے ۔ مگر جب وہ صبح کو اٹھے تو دیوار پھر اونچی اور موٹی ہو گئی تھی ۔ اگلے دن پھر وہ دیوار چاٹتے رہے اور رات ہونے پر پھر تھک کر سو گئے ۔ صبح دیوار اسی طرح موٹی ہو گئی ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ دیوار چاٹتے رہے ۔ اس کہانی کو انتظار حسین نے لکھا تو مجھے یوں لگا جیسے گذشتہ ڈیڑھ سال سے ہمارے ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز سارا دن وزیراعظم ہاؤس کی دیوار چاٹ رہے ہیں ۔ ہر رات کو تھک کر سو جاتے ہیں ۔ صبح اٹھتے ہیں تو وزیراعظم ہاؤس کی دیوار پھر سے انڈے کے چھلکے سے مضبوط اور موٹی ہو جاتی رہی ہے ۔

ڈیڑھ سال سے یہی ہو رہا ہے ۔ ہم رات کو سونے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس کی دیوار کو انڈے کے چھلکے میں بدلتا دیکھ کر سو جاتے ہیں صبح جب اردو اخبار کی ہیڈلائن دیکھتے ہیں تو وہ دیوار پہلے کی طرح مظبوط ہو چکی ہوتی ہے ۔ کیا ایسا آگے بھی ہوتا رہے گا اور کب تک چینلز کے اینکر پرسنز وزیراعظم ہاؤس کی دیوار کو چاٹتے رہیں گے ۔ اس کا فیصلہ تو اب منصف کو آنا ہے ۔ مگر منصف کے سامنے تو گواہ ہی پیش نہیں ہو رہے ۔ کیا ہم روزانہ یہ دیوار چاٹتے رہیں گے منصف کے سامنے جیسا بھی گواہ پیش ہوا ہے ۔ اسی پر فیصلہ کر دینا چاہئیے اس پر مجھے ایک ڈرامہ یاد آ رہا ہے اس میں ایسا ہی ایک بادشاہ مقدمے کا سامنا کر رہا ہوتا ہے وقت کا قاضی گھنٹے بجا بجا کر منا دیا کرتا ہے کہ کوئی ہے جو بادشاہ کے جرم کے خلاف گواہی دے ۔ کوئی پیش نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کسی نے بادشاہ کا ریکارڈ ٹیمپر کر دیا ہو ۔ قاضی پھر منادیاں کراتا ہے اس پر اس ملک کا ایک نوجوان سچ کی خاطر گواہ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے وہ بستیوں میں آبادیوں میں جنگلوں میں بیابانوں میں خاک چھانتا ہوا بالاۤخر ایک دن بادشاہ کے خلاف ایک گواہ کو ڈھونڈ نکالتا ہے ۔ مخلوق خدا خوشی کا سانس لیتی ہے کہ اب بادشاہ کو اس کے کئیے کی سزا مل جائے گی ۔ اس روز عدالت کے باہر رعایا کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جمع ہو جاتا ہے ۔ وہ نوجوان اس گواہ کو لے کر عدالت میں آتا ہے وقت کا قاضی اسے گواہی کے لئے حکم دیتا ہے ۔ گواہ بولنے کی کوشش میں آں آں کرتا ہے ۔ منصف کہتا ہے بولو مگر وہ گونگا ہوتا ہے بول نہیں سکتا ۔ اس طرح بادشاہ بری ہو جاتا ہے اور رعایا پر مزید ظلم کرنے کی اسے اجازت مل جاتی ہے تو رعایا مانتی ہے کہ وہ اس قابل ہے کہ اس پر ظالمم حکمران ہی حاکم رہے جو قوم گونگے گواہ پیدا کرتی ہے اس پر ایسے بادشاہ نافذ کر دئیے جاتے ہیں ۔

تو آج کے منصف بھی گواہوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ کیا اس بار بھی ایسا تو نہیں ہوگا کہ انہیں جو گواہ ملے وہ گونگا ہو اور وہ اعلان کریں کہ بادشاہ نے کوئی جرم نہیں کیا اور رعایا تسلیم کر لے کہ یہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہے اور پھر سے اینکر پرسنز دیوار چاٹنے پر مامور ہو جائیں کیا ایسا ہوگا ؟ مگر "جولی ایل ایل بی" کا آخری مکالمہ یہ کہتا ہے "مگر آج ایسا نہیں ہوگا" ۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *