تھانہ کلچر۔خادم پنجاب کے لیے اصل چیلنج

جناب وزیراعظم کی یہ یاد دہانی بجا کہ پر امن احتجاج عوام اور سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے، پنجاب حکومت اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے Damageکنٹرول کے لیے بر وقت اقدام کیا ورنہ پولیس توبڑی خبر بنانے کے لیے اپنی سی کر گزری تھی ۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ 150(لاہور)کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کاامیدوارپونے چار سوووٹوں سے ہار گیا تھا اس بار پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی موجودگی بھی عام انتخابات کی نسبت زیادہ موثر تھی۔ پولنگ کا عمل امیدواروں کے ایجنٹوں کے سامنے مکمل ہوا ، پھر ان کی موجودگی میں ووٹ گنے گئے اورپریذائڈنگ افسروں نے نتائج کی ایک ایک کاپی ان کے سپرد کردی ۔ ریٹرننگ افسر کا جاری کردہ حتمی نتیجہ بھی پریذائڈنگ افسروں کے دیے گئے نتائج کے عین مطابق تھاچنانچہ اس نے دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کر دی ۔انصاف کی علمبردار جماعت کے سامنے دیگر قانونی راستے موجود تھے ۔وہ اس کے لیے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کر سکتی تھی لیکن اس نے احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا ۔ہفتے کی صبح اسمبلی ہال کے سامنے مال روڈ پر اڑھائی تین درجن افراد کے ساتھ دھرنے کا آغاز ہوا ہی تھا کہ پولیس نے دھاوا بول دیا اور میڈیا کے لیے بڑی خبر بننے لگی۔ اسی دوران تحریک کے صوبائی صدر اعجاز چوہدری اور محمود الرشید(پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ) بھی پہنچ گئے ۔ پولیس نے انہیں بھی دھر لیا ۔مال روڈ پر اچھا خاصا تماشا لگ گیا۔ میڈیا کے لیے ایک بڑی بریکنگ نیوز کا بھرپور اہتمام ہو گیا تھا ۔ وزیر اعلیٰ کو خبر ہوئی تو انہوں نے گرفتار شدگان کی بلا تاخیر رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ رہا شدگان نے دوبارہ اسمبلی ہال کا رخ کیا۔شہر کے مختلف حصوں سے کارکن بھی پہنچنے لگے۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین کی تعدادکسی بھی وقت تین چار سو سے زیادہ نہ تھی لیکن تحریک نے اپنا مقصد پا لیا تھا۔ دوسرے دن بھی ٹی وی اسکرینوں پر پولیس اور مظاہرین میں گزشتہ روز کی کشمکش کے مناظر چلتے رہے۔ بعض ٹاک شوز میں بھی پولیس کا ”وحشیانہ تشدد“ زیر بحث رہا جس میں صرف دو کارکن زخمی ہوئے تھے۔خدا کا شکر ہے کہ انہیں بھی ہسپتال لے جانے کی نوبت نہیں آئی۔ مظاہرین کے ساتھ پولیس کا رویہ اس کے روایتی رویے کی نسبت خاصا معقول تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دھرنے پر دھاوا اور گرفتاریاں ضروری تھیں؟پولیس کا موقف تھاکہ مال روڈپر دفعہ144نافذ ہے ۔ شہر کی اس اہم ترین شاہراہ پر ذرا سا ہنگامہ اطراف کی سڑکوں پر میلوں دور تک ٹریفک کو بری طرح متاثر کرتا ہے چنانچہ ہائی کورٹ کے حکم سے یہاں ہر طرح کے مظاہروں پر پابندی عائد ہے اور دلچسپ بات یہ کہ اس کے لیے درخواست مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر نعیم میرنے دائر کی تھی جو اب تحریک انصاف میں شامل ہیں۔ پولیس کارروائی کے وقت دھرنا اسمبلی ہال کے سامنے سبزہ زار تک محدود تھا،مال روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ اتوار کے روز بھی تحریک کے پرجوش کارکن ، خواتین و حضرات احتجاجی کیمپ میں آتے جاتے رہے اور ایک پکنک کا سماں رہا ۔ان کی تعداد موقع پر پولیس اہلکاروں سے بھی کم تھی۔یہ سطور سوموارکی صبح قلمبند کی جارہی ہیں اور تحریک کی صوبائی قیادت نے آج سہ پہر تین بجے اس چوک میں بھرپور مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف لاہور کے صدر عبدالعلیم خان نے ایک بیان میں کارکنوں سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے لیکن موصوف خود کہاں ہیں؟ای اوبی آئی کے اربوں روپے کے سکینڈل میں ان کا نام بھی شامل ہے وہ تب سے غائب ہیں۔ گزشتہ دنوں پولیس نے ان کے گھر اور دفتر پر چھاپہ بھی مارا۔ انہوں نے اخبار نویسوں کو فون پر بتایا کہ وہ اپنی والدہ کی علاج کے لیے کراچی میں ہیں۔(اللہ تعالیٰ والدہ محترمہ کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازے اور علیم خان صاحب کو ناساز گار حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا فرمائے)
انہی دنوں پولیس کی ایک اور کارروائی بھی صوبائی حکومت کے لیے ندامت کا باعث بنی ۔ منیر احمد خان پیپلز پارٹی کے معروف لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ایئر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال سے کیا تھا ۔ یہاں سے وہ پیپلز پارٹی میں چلے آئے ۔ تب آتش جواں تھا لیکن راکھ میں اب بھی چنگاریاں موجود ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ محترمہ کے بااعتماد حلقے میں شمار ہونے لگے ۔ نواب زادہ مرحوم نے ستمبر 2003 میں ( اپنی وفات سے چندہفتے قبل) بے نظیر صاحبہ سے لندن میں اور میاں صاحب سے جدہ میں ملاقات کے لیے رخت سفر باندھا تو منیر احمد خان ان کے ہم سفر تھے ۔ ایم آر ڈی اور پھر اے آر ڈی کے دنوں میں بھی انہیں کئی مقدمات کا سامنا رہا لیکن اب 20اگست کی شب ان کے ساتھ جو ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے۔2009ء میں ایک خاندانی تنازع میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف پرچے کٹوا دیے۔ ان میں منیر کا نام بھی تھا ۔ بعد میں صلح صفائی ہو گئی لیکن منیر احمد خان وغیر ہ کے خلاف ایف آئی آر فائل میں موجود رہی ۔2010ء میں اس کیس میں وہ اشتہاری قرار دے دیے گئے جس کا انہیں کوئی علم نہ تھا۔ کوئی تین سال بعد ، 20اگست کی شام وہ اپنے گھر میں تھے کہ کچھ سفید پوش دیوار پھلانگ کر صحن میں اترے اور منیر کو ڈانڈا ڈولی کر کے باہر لے جانے لگے۔ انہوں نے اور انکی بیٹیوں نے مزاحمت کی ۔ ان کا استفسار تھا کہ وہ کون ہیں اور انہیں کس جرم میں کہاں لے جا رہے ہیں؟ باہر پولیس کی گاڑی موجود تھی۔ انہوں نے منیر کو اس میں ڈالا اور روانہ ہوگئے۔ منیر کی بیٹیوں نے ہمت کی اور اپنی گاڑی میں پولیس کا تعاقب کر نے لگیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتے گھماتے وہ انہیں تھانہ ہنجروال لے گئے۔ اس دوران ٹی وی چنلز پر یہ خبر چلنے لگی توپولیس افسران بھی تھانے پہنچ گئے۔ منیر نے یہ رات جملہ سہولتوں کے ساتھ تھانے میں گزاری اور اگلے روزمجسٹریٹ نے یہ مقدمہ ہی خارج کر دیا۔ منیر سے ہماری یاد اللہ دور طالب علمی سے ہے ۔ہم نے اظہار افسوس کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ، مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اس میں وزیر اعلیٰ یا ان کی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں لیکن پولیس کی اس کارروائی سے بدنامی تو انہی کی ہوئی۔ ”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی “کا ماٹورکھنے والی اس فورس کے اہلکار اور نچلے درجے کے افسران عوام کے ساتھ جو سلوک روا رکھتے ہیں، اس کے مناظر آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔ فیصل آباد میں جون کے دوسرے ہفتے لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوا اور پولیس نے گھروں کے اندر گھس کر خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا ، ٹی وی کے وہ مناظر لوگوں کو اب تک یاد ہے۔اوکاڑہ میں زیر حراست باپ اور بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا ، اس کا تصور ہی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔تھانہ کلچرکی اصلاح خادم پنچاب کا دیرینہ خواب ہے ۔ گڈ گورننس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ شہروں کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور قانون کے پابند شہری عزت و احترام کی زندگی گزاریں۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس کی تنخواہیں بڑھائیں، ان کے لیے اعلیٰ تربیت کا اہتمام بھی کیا اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی فراخدلی سے کام لیا لیکن خود گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے بقول وزیر اعلیٰ اپنی تمام تر کوشش اور خواہش کے باوجود تھانہ کلچر( اور ایجوکیشن سسٹم) میں خاطر خواہ تبدیلی نہ لا سکے۔ گورنر صاحب کے دعوے کے مطابق پنجاب میں ایجوکیشن سسٹم ان کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیر اعلیٰ تھانہ کلچر کی طرف اب زیادہ بھرپور توجہ دے سکیں گے۔ اپنے صوبے ( اور پورے ملک ) کو تعمیر و ترقی سے ہمکنار کرنے کے خواب دیکھنے اور شب و روز کی محنت سے ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے والے وزیر اعلیٰ کے لیے تھانہ کلچر کی تبدیلی اصل چیلنج ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *