نو عمری میں باپ بننے کا خوفناک نقصان

babyایک سائنسی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف ہوا ہےکہ نوعمری میں باپ بننے والے لڑکوں کے بچوں میں خوفناک ہنی و جسمانی بیماریوں کی شرح نہایت زیادہ پائی جاتی ہے۔ ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ ٹین ایجر لڑکوں کے جینز میں تغیر و تبدیل (میوٹیشن) کی شرح اسی عمر کی لڑکیوں کی نسبت چھ گنا زیادہ ہوتی ہے اور یہ شرح 20 سال سے زائد عمر کے مردوں کی نسبت 50 فیصد یادہ ہے۔ ان کے بچوں میں دماغی مرض شیزو فرینیا، آٹزم اور سپائنابیفیڈر کی شرح ایک تہائی زیادہ ہوتی ہے۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر پیٹر فارسٹر کا تعلق کیمبرج یونیورسٹی سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس مشاہدے کی پہلی وضاحت ہے کہ ٹین ایج لڑکوں کے بچے ذہنی اور جسمانی نقائص کے ساتھ کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ نوعمر بچوں کی اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ وہ نوعمر میں بات نہ بنیں کیونکہ اس میں نہ صرف ان کیلئے شدید مسائل ہیں بلکہ پیدا ہونے والی معصوم جان کو بھی تمام عمر معذوری کے ساتھ گزارنا پڑ سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *