کیا ہیلری کلنٹن مستقبل کی امریکی صدر ہیں؟

  Ashraf qدُنیا کے بیشتر ممالک اور امریکہ میں بالخصوص دنیا بھر کے سیاسی رہنماو¿ں اور نمایاں لوگوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا کام ہر وقت جاری رہتا ہے۔ بالخصوص جن لوگوں کا ملکی قیادت کرنے کا امکان ہوتا ہے، اُن کے نجی حالات، پسند نا پسند، سیاسی، مذہبی، معاشی خیالات و نظریات، کامیابیاں، ناکامیابیاں، دوستیاں، دشمنیاں ، تمام کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔ جب یہ لوگ کسی ملک کی قیادت سنبھالتے ہیں اور ان سے معاملات کی نوبت آتی ہے تو ان معلومات کی روشنی میں اُن سے ڈیل کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ ایسا کوئی نظام نہیں ہے، اس لئے جان کیری جیسے لوگ پاکستان میں جا کر اس طرح دندناتے پھرتے ہیں، گویا پاکستان میں وائسرائے لگ گئے ہوں۔

ہیلری کلنٹن آئندہ صدارتی امیدوار ہوں گی؟ .... یہ تو طے ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں آئینی نامزدگی ملنا بھی شاید اتنا مشکل نہ ہو۔ ری پبلیکن کی طرف سے ابھی تک کوئی قابل ذکر امیدوار نہیں ہے۔ امریکہ میں بھی اس وقت صحیح معنوں میں قحط الرجال ہے اور دونوں جماعتوں کو مقابلے میں اُتارنے کے لئے مناسب امیدوار ہی میسر نہیں ہیں۔ ہیلٹری کلنٹن کی کامیابی کے صحیح امکانات تو تب سامنے آئیں گے، جب صدارتی امیدواروں کی نامزدگی عمل میں آچکی ہوگی، لیکن کہا جاسکتا ہے کہ وہ آئندہ کے صدارتی انتخاب میں ایک فیورٹ امیدوار ہوں گی۔ اس امکان کو پیش نظر رکھتے ہوئے قارئین کی دلچسپی کے لئے ہیلری کلنٹن کی زندگی کے بعض گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ ہیلری کی سیاسی یا نجی زندگی کا مکمل خلاصہ تو ہرگز نہیں ہے، مَیں نے اپنی سوچ کے مطابق بعض اہم پہلو اُجاگر کئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ کچھ پہلو بالکل غیر اہم ہوں اور بہت سے اہم پہلو مجھ سے پوشیدہ رہے ہوں یا مَیں نے انہیں نظر انداز کر دیا ہو۔ بہرحال اس سے امریکہ کی آنے والی صدر کی شخصیت کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہمارے ادارے اس کام کو احسن طور پر سر انجام دے سکیں تو مستقبل کی حکمت عملی کے لئے یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔

ہیلری کلنٹن ریاست الی نائے میں پیدا ہوئیں، اسی ریاست سے موجودہ صدر باراک اوباما کا تعلق ہے۔ اُنہوں نے ژیل یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی بل کلنٹن کو اپنی زندگی کا ساتھی منتخب کر لیا تھا۔ بل کلنٹن کے ساتھ وہ ریاست آرگنساس منتقل ہوگئیں، جہاں بل کلنٹن گورنر رہے۔ بل کلنٹن کے صدر بننے پر وہ خاتونِ اول بنیں تو انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ امریکہ کی پہلی خاتون اول تھیں جو پوسٹ گریجوایٹ تھیں۔ اس حوالے سے اُنہیں اولیت کے کئی دوسرے اعزاز بھی حاصل رہے۔ وہ خاتون اول بننے تک اپنے پیشہ وارنہ معمولات میں خاصی معروف تھیں اور بدستور کام کر رہی تھیں۔ وائٹ ہاو¿س میں خواتین اول کو معمول کے مطابق ایسٹ ونگ میں ایک دفتر ملتا ہے۔ وہ پہلی خاتون اول ہیں، جنہوں نے ویسٹ ونگ میں بھی ایک دفتر اپنے لئے بنایا۔ اب تک کوئی دوسری خاتون اول کانگریس کی رُکن منتخب نہیں ہوئیں۔ ہیلری کلنٹن پہلی خاتون اول ہیں جو بعد میں نیویارک سے سینیٹر منتخب ہوئیں۔ پہلی خاتون اول جو بعد میں ملک کی وزیر خارجہ مقرر ہوئیں۔ اُن سے پہلے مسز روز ویلٹ واحد خاتون اول تھیں، جنہیں انتظامی امور میں دخل حاصل تھا۔

ہیلری کلنٹن نے وائٹ ہاو¿س کی انتظامیہ کے تقرر میں بہت مو¿ثر کردار ادا کیا۔ گیارہ اعلیٰ ترین اہل کار اُن کی مرضی سے تعینات ہوئے اور نچلے درجے کے درجنوں دیگر اہل کار بھی اُن کی مرضی سے مقرر ہوئے۔ اُن کے مخالفین نے اس مداخلت اور طاقت کو تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن صدر بل کلنٹن (امریکہ میں صدور کے ساتھ سابق نہیں لکھا جاتا اور اکثر ریٹائرمنٹ کے بعد جرنیلوں کے نام کے ساتھ جنرل لکھنے کا رواج بھی نہیں ہے) نے کہا کہ اُنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں واضح کر دیا تھا کہ آپ مجھے ووٹ دیں اور ”ایک کی قیمت میں دو“ حاصل کریں۔ مخالفین اُنہیں طنزاً کو پریذیڈنٹ اور بلیری(Billary) کہتے تھے۔ آرکنساس کی گورنری کے دوران ہی یہ جوڑا بل اور ہیلری کی بجائے بلیری کہلانے لگا تھا)۔ گورنر کی بیوی ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے ظاہر، یعنی لباس وغیرہ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی، لیکن خاتون اول بن کر اُن کے ہیئر سٹائل وغیرہ اکثر موضوع بحث بنتے رہے۔ ایک ویب سائٹ صرف اُن کے ہیئر سٹائل دکھاتی تھی جو آئے روز بدلتے رہتے تھے۔ اس دور میں مین ہٹن (نیویارک) کے اصلاح گیسو کے ادارے کو اس حوالے سے بھی شہرت ملی تھی۔

ہیلری کلنٹن نے ویلز لی کالج سے پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کی، وہ سال اول کی طالبہ کی حیثیت سے ”ینگ ری پبلیکنز کی صدر منتخب ہوئیں۔ گویا زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست کا آغاز ہوگیا، لیکن یہ آغاز بطور ری پبلیکن تھا۔ بطور طالب علم اُنہوں نے ری پبلیکن کے نمائندوں کی کانفرنس اور قومی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ اُنہیں ایک تعلیمی پروگرام کے تحت واشنگٹن بھیجا گیا تھا۔ یہاں طلبہ کو کانگریس، کانگریس مینوں اور سنیٹروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ امریکن سول رائٹس موومنٹ اور ویت نام کی جنگ کے حوالے سے اُن کے خیالات میں تبدیلی واقع ہونے لگی۔ ایک موقع پر ایک وزیر کو لکھے گئے خط میں اُنہوں نے اپنے بارے میں کہا: ” مَیں ذہنی طور پر کنزرویٹو ہوں جس کا دل لبرل ہے“۔ (یہاں کے لبرل ہمارے ہاں کے لبرلز کی طرح نہیں، بلکہ ایک سیاسی فلسفہ ہے، جس میں حکومت کی کم سے کم مداخلت اولین ترجیح ہے اور سیاسی طور پر یہ ری پبلیکن کے اندر ایک طبقہ ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ران پال بھی لبرلز میں سے تھے، جنہیں نامزدگی نہ مل سکی اور میٹ رومنی ری پبلیکن امیدوار قرار پائے) ....مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل کے موقع پر انہوں نے طلبہ کی دو دن کے لئے ہڑتال کرا دی تھی۔ ان کے ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک دن صدر امریکہ ہوں گی۔

 ہیلری کلنٹن نے اپنا تحقیقی مقالہ سول ایلنسکی پر لکھا۔ ایلنسکی ایک لکھاری تھا، جسے کمیونٹیز کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ کمیونیٹز امریکہ میں مخصوص طبقات کی طبقاتی جدوجہد کی تنظیمیں ہوتی ہیں۔ ایلنسکی سیاہ فاموں کے حقوق کا علم بردار تھا، اس کی تصنیف Rules for Redicals بہت مشہور ہے۔پاکستان میں خان عبدالقیوم خان نے اپنی کتاب "Guns and Gold" پر خود پابندی لگائی تھی۔ ہیلری کلنٹن خاتون اول بنیں تو کچھ لوگوں کو ان کے تحقیقی مقالے کی تلاش ہوئی جس تک رسائی کے لئے حکومت نے پابندی لگا دی۔ اب اس کے مندرجات کے بارے میں محض قیاس آرائیاں کی جاسکتی ہیں۔ بچوں کی فلاح و بہبود ہیلری کلنٹن کی دل چسپی کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے قانون کی تعلیم کے دوران بھی بچوں کے بارے میں قوانین کا مطالعہ کیا۔ وہ بچوں کی بہبود کی کئی تنظیموں کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔ گورنر کی بیوی ہوتے ہوئے بھی بچے اُن کی توجہ کا مرکز رہے اور خاتون اول بن کر بھی بچے اور بچوں کی بہبود اُن کی دلچسپی کا مرکز رہے۔ انہوں نے بچوں کی صحت، انشورنس کا قانون پاس کرانے کے لئے خاصی تگ و دو کی۔

طالب علمی کے بعد سینیٹر منتخب ہونے پر اُن کی عملی سیاست کا آغاز ہُوا۔ اس دوران انہوں نے دونوں جماعتوں سے بہتر تعلقات استوار رکھے۔ وہ خود میتھوڈسٹ چرچ سے تعلق رکھتی ہیں جو پروٹسٹنٹ اور ایوینجلیکل کا امتزاج ہے، لیکن وہ سینٹ میں مذہبی رجحان رکھنے والے سینیٹرز کے دعائیہ ناشتے میں بھی شرکت کرتی تھیں۔ وہ بجٹ کمیٹی، مسلح افواج کے امور کی کمیٹی، ماحولیات اور پبلک ورکس کی کمیٹی، صحت، تعلیم، لیبر اور پنشن کمیٹی کے علاوہ ضعیف شہریوں کے معاملات کی کمیٹی میں شامل رہیں۔ یورپ کے ساتھ سیکیورٹی اور تعاون کے کمیشن کی وہ کمشنر تھیں۔ 9/11 کو جواز بنا کر اکتوبر 2001ءمیں شہری و سیاسی حقوق کو محدود کرانے والا بِل پیٹریاٹ متعارف کرایا گیا تو ہیلری نے اس کے حق میں ووٹ دیا.... (امریکہ میں ووٹر اور میڈیا باقاعدہ اس بات کا حساب رکھتا ہے کہ کس نے کس بل کی حمایت یا مخالفت کی تھی۔ جان کیری نے صدر بش کے ہر بل کی حمایت میں ووٹ ڈالے تھے۔ صدارتی مقابلے میں ووٹروں نے بجا طور پر سوچا کہ اگر ری پبلیکن ٹھیک کام کر رہے ہیں اور انہیں جان کیری کی حمایت حاصل رہی ہے تو اب ان کی جگہ جان کیری کو لانے کی کیا ضرورت ہے اور جو ڈیموکریٹ بش کی پالیسیوں کے سخت خلاف تھے، اُن کی نظر میں بش اور جان کیری میں کوئی فرق نہیں تھا۔

2006ءمیں اس ایکٹ کی توسیع کے وقت ہیلری نے اس میں شہری آزادیوں کے سلسلے میں بعض تحفظات دور کرنے کی ترامیم پیش کیں اور ایک بار پھر یہ بل بھاری اکثریت سے پاس ہوگیا۔ اس وقت ڈیموکریٹس کے بائیں بازو کے دانشور اس بل کے خاتمے کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ باراک اوباما سے اسی لئے ناراض ہیں۔ دیکھیں اس بل کی حمایت کرنے کی سزا ہیلری کلنٹن کو ملتی ہے یا اس میں ترامیم کی جزا ملتی ہے؟ انہوں نے افغانستان اور عراق میں فوج کشی کی بھی حمایت کی تھی، لیکن 2007ءمیں عراق میں مزید فوج بھیجے کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے عراق سے فوجوں کی واپسی کے لئے تاریخ کا تعین کر کے فنڈز جاری کرنے کے بل کی حمایت کی تھی، جسے صدر بش نے ویٹو کر دیا تھا۔ بعد میں بغیر تاریخ کے تعین اور عراقی حکومت کے پیروں پر کھڑا ہونے پر فوجوں کی واپسی کے لئے بل لایا گیا تو ہیلری نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اس بل کی بہت سے ڈیموکریٹس نے بھی حمایت کی تھی۔ اس کے مقابلے میں صرف چودہ ووٹ مخالفت میں ڈالے گئے تھے، جن میں سے ایک ہیلری کا بھی تھا۔ بش دور میں ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کرنے کے بل کی بھی ہیلری نے مخالف کی تھی۔ دیکھا جائے تو ہیلری کلنٹن کا کریڈٹ ، ڈس کریڈٹ برابر ہے، لیکن وقت آنے پر ووٹر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ وقت اور حالات پر منحصر ہے۔

2008ءکے الیکشن کے لئے باراک اوباما کی طرح انہوں نے بھی پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی۔2007ءمیں اُنہوں نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر اپنی امیدواری کا اعلان کر دیا تھا پھر جلدہی فنڈ ریزنگ بھی شروع کر دی تھی۔ امریکہ میں فنڈ ریزنگ بھی مقبولیت کا ایک پیمانہ ہے۔ اُنہیں ابتدائی طور پر سات ریاستوں میں باراک اوباما اور ایڈورڈ پر سبقت حاصل رہی، لیکن اکتوبر میں ہونے والے ایک مباحثے میں باراک اوباما کی کارکردگی ہیلری اور ایڈورڈ سے بدرجہا بہتر رہی۔ ایڈورڈ تو دوڑ سے نکل گیا، البتہ ہیلری نے ساو¿تھ کیرو لینا میں پرائمری کے دوران کچھ ایسا تاثر دیا گویا باراک اوباما سیاہ فام ہونے کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ بات ان کے خلاف گئی اورکئی سیاہ فام اُن کے خلاف ہوگئے، لیکن یہ بات رفتہ رفتہ دب گئی۔ پھر ایک موقع پر صدر کلنٹن نے اس بات کا اعادہ کیا تو پارٹی کے اندر کے اور باہر کے لوگوں نے کہا کہ صدر کو ہیلری کی مہم سے دور رکھا جائے، وہ انہیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔

 بہرحال ڈیموکریٹک امیدواری کا قرعہ فال باراک اوباما کے نام نکلا اور شاید یہ نکلنا بھی چاہئے تھا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ میں بُش طرز فکر کی اکثریت ہے، جسے بش کے دور میں مزید تقویت دی گئی، حتیٰ کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ”شِکروں“ سے بھر گئی۔ یہی اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں تبدیلی کے بعد پرویز مشرف کی پالیسیوں کا تسلسل چاہتی تھی، جس کے لئے این آر او کا اہتمام کیا گیا۔ اس اسٹیبلشمنٹ کو اندازہ تھا کہ بش کے دو ادوار کے بعد ری پبلیکن کی کامیابی کے امکانات مخدوش ہیں، اس لئے وہ ایک ایسا ڈیموکریٹ لے کر آئے جو بش دور کی تمام پالیسیوں کو جاری بھی رکھے اور اس پر ڈیموکریٹس کا لیبل بھی لگا رہے اور یہ حکمت عملی بہت حد تک کامیاب رہی ، پاکستان میں بھی اور امریکہ میں بھی۔

صدر باراک اوباما کا دوسرا دور ختم ہونے پر بش کے نائب صدر ڈک چینی کی طرح غالباً جوزف بائیڈن بھی صدارتی دوڑ میں حصہ لینے سے معذرت کر لیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ پارٹی کے اندر یہ بات طے پا چکی ہو۔ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں شاید ہی کوئی دوسرا امیدوار جم سکے۔ ڈیموکریٹس کی نامزدگی کی جنگ جیتنے کے بعد بھی ہیلری کے لئے شاید کوئی اتنی مشکل سامنے نہ آئے۔ ری پبلیکن میں کوئی ایسی دبنگ شخصیت نظر نہیں آتی جو ہیلری کے لئے حقیقی خطرہ بن سکے۔ ہیلری کو خواتین کے ووٹ بھی مل سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ خاتون اول مشعل اوباما نے گزشتہ ہفتے کیا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار تو نہیں بنیں گی، لیکن کسی خاتون کے صدر بننے کی خواہش ضرور رکھتی ہیں۔ یہ بالواسطہ ہیلری کلنٹن کی قبل از وقت حمایت کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ صدر بش کی بیٹی نے سوشل نیٹ ورک پر ہیلری سے صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کی خواہش کی ہے۔ ہیلری کلنٹن ہم جنس پرستوں کے حقوق کی علم بردار تو نہیں ہیں، لیکن مخالف بھی نہیں ہیں، بلکہ ماضی میں حامی رہی ہیں۔ بچوں کے لئے اُن کی خدمات بھی اُن کے حق میں جاتی ہیں۔ دو سو تینتیس سال بعد امریکہ میں سیاہ فام کی صدارت کے بعد اب شاید اتنے ہی عرصے میں ایک خاتون بھی صدارت تک جا پہنچے، اگر درمیان میں کوئی بڑی انہونی نہ ہوگئی تو ہیلری کلنٹن کا صدارتی امیدواری کی دوڑ جیت کر صدارتی انتخابات جیت لینا بھی بعید از امکان نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *