نحوست فری حکومتیں

احمد نواز

ahmed nawaz

آپ اسے منیوفیکچرنگ فالٹ کہیے یا اس عوام کی بدقسمتی کہ وہ جس بھی حکومت کی طرف اپنے دکھوں دردوں کی داد رسی کے لیے دیکھتے ہیں کچھ عرصہ بعد اس بے چاری کی اپنی آہیں ، سسکیاں اور دردیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ یہ حکومتیں کم اور وبائی امراض میں گھرا ہوا مریض زیادہ دکھائی دیتی ہیں ۔ان کا حال جوڑوں کے درد کے اس مریض جیسا ہوجاتا ہے جو چلتے پھرتے باقاعدہ ہائے ہائے درد ناک صدائیں لگا کر بتاتا ہے کہ اصل میں اسے بیماری کیا ہے ۔ یہ بدنصیب عوام جس حکومت کو اپنی نجات دہندہ سمجھ کر اس سے تھوڑی سی بھی آسیں اور امیدیں باندھتے ہیں وہ احتیاط اپنا سامان باندھے اپنی نجات کی راہیں نکالتی رہتی ہے۔اپنی رعایا کو گردش ایام کی تلخیوں سے بچانے کا عزم رکھنے والوں کے اپنے ستارے ان کے نیک ارادوں سمیت ایسے گردش میں آتے ہیں کہ آخرتک گردش میں ہی رہتے ہیں ۔ مالی اور اخلاقی اسیکنڈلز،سنگین بحران اور سیاسی آزمائشیں چاروں طرف سے ہر حکومت کو اس طرح گھیر لیتے ہیں جیسے بدنصیبی اور مشکلات بارہ مہینے ان کے غریب ووٹرزاور سپوٹرز کو کو گھیرے رکھتی ہیں ۔ اب ایسی مصیبت ذدہ حکومت نہائے گی کیا اور نچوڑے کی کیا؟؟؟
اسے ہمارے سیاست دانوں کی کرشمہ سازی کہیں یا ہمارے نظام سیاست کا طرہ امیتاز کہ یہاں جمہوریت سارا سال شدید تفکرات اور انتہائی سنجیدہ خطرات میں اکیلی (یعنی جمہور کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا) ہی گھری رہتی ہے ۔یہ مسائل اور روکاوٹیں اندر ہی اندرکسی بھی جمہوری حکومت کو ایسے ہی پولا کردیتے ہیں جیسے آم کے شوقین ۔۔۔۔کھانے سے پہلے آم کو ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں عوام کو حکومت اور بجلی جانے کا دھڑکا ہر وقت ہی لگا رہتا ہے۔ان حالات نے ہمارے عوام کو اتنا سمجھ دار اور صابر و شاکر بنا دیا ہے کہ وہ جیسے ہی اپنی حکومت کو کسی سیاسی بحران یاکسی آئینی آزمائش میں گھرا ہوادیکھتے ہیں تواس سے اپنی توقعات اسی طرح ختم کرلیتے ہیں جس طرح والدین گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی سے اپنا تعلق۔ کیونکہ جن حکومتوں کے اپنے حالات غبی امداد ( اس میں آئی ایم کی مالی امداد سرفہرست ہے) اور قوم کی دعاووں کے طلب گارہوں ان سے کسی عوامی ریلیف کی توقع رکھنا سراسر بے وقوفی ہے اور ہمارے عوام سب کچھ ہوسکتے ہیں وقوف نہیں۔
اس پھٹچڑ نظام کی سب سے بڑی نحوست یہ ہے کہ یہاں آج تک خلاف توقع کوئی حکومت ایسی نہیں گزری جس نے کسی تاریخی داغ د ھبے کے بغیر اپنی مدت اقدار مکمل کرنے کی پوری ایمانداری سے کوشش کی ہواور عوام توقعات کے مطابق ڈلیور کرکے بھرپور عوامی عزت اور پذیرائی سمیٹی ہو۔ یا شاید ہی کسی نیک بخت وزیراعظم کو اب تک ا پنے اقتدارکی تمام بہاریں کھل کر دیکھنا نصیب ہو سکی ہوں ۔ہماری سیاسی اقدار اور سیاسی روایات پر گہری نظر رکھنے والے اہل دانش اور سیاسی حکماء کو مستقبل میں بھی اس صورت حال میں کسی خاطر خواہ بہتری کے کوئی معقول آثار دکھائی نہیں دیتے تاوقت یہ کہ اہل سیاست اپنے طرز سیاست اور سیا سی اخلاقیات اور اقدار پر خلوص نیت سے نظرثانی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرلیتے۔آزادی کے بعد تین نسلیں جوانی سے بڑھاپے کو پہنچ گئیں مگر ہماری سیاست کے حالات اور روزو شب ہنوزجوں کے توں ہی ہیں ۔وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ اہل سیاست نے اب تک کی غلطیوں کے صرف یہی سیکھا ہے کہ غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھنا۔زبانی کلامی حد تک توسیاست کو باقاعدہ عبادت کا درجہ ہے حاصل ہے لیکن عملی طور ایک بھرپور منافع بخش کاروبار ہے جس میں کمائے جانے والے اثاثے قیامت تک آنی والی نسلوں کو ہر قسم کے مادی احساس محرومی سے بچا کر رکھنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے تو روزاول سے ہمارا سارا فوکس اقدار کی سیاست کی بجائے صرف اور صرف اقتدار اور کاروبار کی سیاست پر ہے۔
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرسے ملے ہوئے
تمام جماعتوں کی ٹاپ سیاسی لیڈرشپ کی تقاریر ، فکر مندی اورخصوصاانتخابی نعرے سنے تو لگتا ہے کہ ان کی ساری جدوجہد اور ڈور دھوپ کامقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ حقیقی جمہوری اقدار کا فروغ، عوام کی خوشحالی اور ملک کی ترقی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے زمینی حقائق جو بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں وہ مذکورہ بالا زبانی جمع خرچ سے تھوڑی بہت مشابہت بھی نہیں رکھتی۔ہمار ے قومی سیاست کے منظر نامے پر ہمیشہ ایک ہی سین اون رہتا ہے اور یہ سین ہے جمہوریت کو الجھائے رکھنے اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنے کا سین ۔گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام یہ ایک ہی منظر باربار دیکھ کر نہ صرف اچھا خاصا بور ہوچکے مکمل طور پر اکتا بھی چکے ہیں، اس پہلے کہ ان کااعتبار اور اعتماد تبدیلی کے اکلوتے ذریعے ووٹ پرسے مکمل طور پر اٹھ جائے، تمام جمہوریت پسند قوتوں سے دراخوست ہے کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم سین ہی تبدیل کرلو۔وہ تمام جمہوریت پسند قوتیں اور سیاست دان جو دل کی گہرائیوں سے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ وطن عزیز کے تمام مسائل کاحل، خوشحالی اور ترقی ایک صاف ستھرے اور حقیقی جمہوری نظام سے ہی ممکن ہے، انہیں چاہیے کہ اپنے اس عقیدے کو اپنے قول کے ساتھ ساتھ اپنے فعل کے ذریعے عملی طور پر نافذکرنے میں اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرکے اس ملک و ملت پر احسان عظیم فرمائیں تاکہ آنے والی تمام جمہوری حکومتیں نحوستوں سے فری رہ کر اپنی ساری توانائیاں اپنی کھال بچانے کی بجائے صرف اور صرف ملک و قوم کی خدمت اور ترقی پر صرف کرسکیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *