عدالتی فیصلے میں اردو ادب کا حوالہ

khalid irshad sofi

آج کل ہر پاکستانی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا منتظر نظر آتا ہے۔ ہر معاملہ پینڈنگ ہے اور ہر ایشو کو‘ چاہے وہ کسی کی منگنی یا شادی ہی کیوں نہ ہو‘ کو فردا پر اٹھا رکھا گیا ہے کہ پاناما کا فیصلہ آ جائے تو کچھ ہل جُل کی جائے۔
کام میں نے بھی مستقبل پر چھوڑ رکھے ہیں‘ لیکن میں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہاہوں کہ عدالت عظمیٰ نے جو فیصلہ محفوظ کر لیا ہے‘ اس میں کسی ناول کا کوئی حوالہ موجود ہو گا یا نہیں‘ جیسے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس کے فیصلے میں ماریو پوزو کے ناول ’’گاڈ فادر‘‘ کا یہ قول رقم کیا تھا: دولت کے ہر بڑے ڈھیر یا مال و زر کی افراط کے پیچھے کوئی بڑا جرم چھپا ہوتا ہے۔ شاید اس سے پہلے بھی عدالتی فیصلوں میں اس طرح ناولوں سے حوالے دئیے جاتے رہے ہوں‘ لیکن عدالت کے اگلے فیصلے میں اس طرح کا کوئی حوالہ ہو گا یا نہیں ؟ ہوتا کیا ہے یہ تو فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی پتا چلے گا‘ فی الحال میری توجہ اس جانب مبذول ہوئی ہے کہ آخر ایسے ناول اتنی شہرت اور اہمیت کیسے اختیار کر لیتے ہیں کہ منصفین کو اپنے فیصلوں میں ان کے حوالے دینا پڑتے ہیں۔ کیا یہ واقعی اتنے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر فیصلے میں جان نہیں پڑتی؟ پھر یہ سوال بھی تو اہمیت کا حامل ہے کہ حوالوں کے لئے غیر ملکی اور دوسری زبانوں کے ناول ہی کیوں؟ اردو ادب کیا اس حوالے سے تہی داماں ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ مغرب میں کتابیں اور اخبارات برصغیر کی نسبت زیادہ بڑھے جاتے ہیں۔ اندازہ ان کی تعداد اشاعت سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں پاکستان میں جب کوئی کتاب چھپتی ہے تو اس کی تعداد اشاعت ہزار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہوتی‘ لیکن مغرب میںیہی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں میں چلی جاتی ہے۔ دیکھا تو نہیں لیکن سننے میں آیا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ میں ہر کوئی اپنا اپنا اخبار خریدتا ہے۔ اسی طرح کتابیں پڑھنے کا رجحان بھی کافی زیادہ ہے۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے بکنے والی کتاب کا عنوان ہے: ہیری پوٹر اینڈ دی ڈیڈلی ہالوز۔ یہ ہیری پوٹر سلسلے کی ساتویں اور آخری کتاب تھی اور اس بات کا اعلان پہلے سے ہی کر دیا گیا تھا کہ یہ اس سلسلے کی آخری کتاب ہو گی۔ اس اعلان نے بھی اس کتاب کی فروخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جے کے رولنگ کی اس تصنیف کی اشاعت کے بعد پہلے چوبیس گھنٹوں میں 8.3ملین یعنی 83 لاکھ کتابیں فروخت ہوئیں یعنی فی گھنٹہ 345833 کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس سیریز کی سبھی کتابوں پر بعد ازاں فلمیں بھی بنیں اور ان فلموں نے بھی ریکارڈ بزنس کیا۔ 2008میں منظر عام پر لائی جانے والی فوربز سلیبرٹی 100کے مطابق اس سیریز کی مصنفہ رولنگ بچوں کی مصنفہ کے طور پر سب سے زیادہ دولت کمانے والی خاتون کا ریکارڈ بھی رکھتی ہیں۔ انہوں نے 2007-08میں 300ملین امریکی ڈالر یعنی 30کروڑ ڈالر محض اس ایک ناول سے کمائے۔اس دولت کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو یہ تین ارب روپے بنتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز ہی جے کے رولنگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہیری پوٹر سلسلے کی دو نئی کتابیں اس سال اکتوبر میں متعارف کرانے جا رہی ہیں؛ تاہم بتایا کہ یہ اس طرھ کے ناول نہیں ہوں گے‘ جیسے انہوں نے اس سے پہلے لکھے تھے۔ انہوں نے اس کتاب کا عنوان: ہیری پوٹر‘ اے ہسٹری آف میجک‘ رکھا ہے۔ دیکھیے اس میں پڑھنے والوں اور فلم سازوں کو کیا ملتا ہے۔ ہیری پوٹر سیریز کا اب تک 78زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں اور دنیا بھر میں ان ترجموں کی 450ملین یعنی 45کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ رولنگ کا کہنا ہے کہ اس کتاب کا آئیڈیا اس کے ذہن میں اس وقت آیا تھا جب مانچسٹر سے لندن جاتے ہوئے ٹرین لیٹ ہو گئی اور اسے انتظار کی کوفت اٹھانا پڑی۔ یہ 1990کی بات ہے۔ اگلے دو تین سال اس نے اس ناول کی منصوبہ بندی میں گزارے اور نوٹس اکٹھے کرتی رہی۔ رولنگ کا کہنا ہے کہ اسے جہاں بھی اس سیریز کے حوالے سے کوئی آئیڈیا آتا تھا‘ وہ اسے فوراً لکھ لیتی تھی‘ چنانچہ اس کے زیادہ تر نوٹس عام گرے پڑے کاغذوں لکھے ہوئے ملتے تھے۔ بہر حال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رولنگ نے اس جدید دور میں بھی کتاب کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ اچھا لٹریچر ہو تو اب بھی پڑھا جاتا ہے۔
مغرب میں کتاب لکھنے کو باقاعدہ ایک فن بنا دیا گیا ہے۔ وہاں کسی بھی موزوں پر پہلے تحقیق کی جاتی ہے۔ اس کے بعد کچھ لکھا جاتا ہے۔ ہماری طرح نہیں کہ ادھر ادھر سے کچھ مواد اکٹھا کیا اور اس پر اپنا نام لکھ کر مصنف بن گئے۔ بلاشبہ ہمارے ہاں بھی بہترین ادب تخلیق ہو۔ انتظار حسین‘ اشفاق احمد‘ مستنصر حسین تارڑ‘ منو بھائی‘ بانو قدسیہ‘ عبداللہ حسین‘ حمید اختر‘ اے حمید‘ امجد اسلام امجد‘ حمید کاشمیری‘ شوکت صدیقی‘ اطہر شاہ خان‘ کمال احمد رضوی‘ غرج کتنے ہی نام ہیں‘ جنہوں نے بہترین کہانیاں‘ افسانے‘ ڈرامے اور ناول تخلیق کئے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہ شعبہ زوال کا شکار ہے۔ اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بلا شبہ کچھ لکھنا کسی کا بھی حق ہے‘ لیکن کچھ بھی لکھتے ہوئے اس بات کا خیال تو رکھنا ہی چاہئے کہ قاری تک جو چیز پہنچے‘ اس میں پڑھنے لائق کوئی چیز تو ہو۔
بات عدالتی فیصلے سے شروع ہوئی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ہر ذہن میں اٹھنے والے اس سوال کا سنجیدگی سے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت قوم ہم کس طر ف جا رہے ہیں؟ ترقی پذیر ہیں یا مائل بہ زوال؟ شاید اس طرح سوچنے ہی سے ہم پر طاری جمود کا خاتمہ ممکن ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *