وکلاء کو استعمال کرنے کی سازش

Najam Wali Khan

یہ سیاسی مقاصد کے لئے وکلاء کو استعمال کرنے کی سازش کون کر رہا ہے، منتخب آئینی وزیراعظم سے استعفے کے لئے ہڑتالوں کی کال دی جا رہی ہے، یہ درست کہ آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لئے وکلاء نے ہر جمعرات کو نکالی جانے والی ریلیوں پر مشتمل ایک تحریک چلائی، یہ تحریک اس عدلیہ کی بحالی کے لئے بھی تھی جسے ایک آمر نے معطل کر دیا تھا اور اب یہ ایک الگ سوال ہے کہ جو چیف جسٹس وکلاء، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی کوششوں اور قربانیوں سے بحال ہوئے، وہ کس حد تک قوم کی توقعات پر پورا اترے،سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر مسلم لیگ(ن) کے قائد اور موجودہ وزیراعظم تمام تر رکاوٹیں توڑتے ہوئے اور اپنی زندگی کو لاحق خطرات کو نظرانداز کرتے ہوئے گھر سے نہ نکلتے تو کیا وہ بحال ہوتے، کیونکہ اس وقت تک وکلاء کی طرف سے ہر جمعرات کو نکالے جانے والی تمام ریلیاں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام جا رہی تھیں۔بہرحال وہ بحال ہوئے اور خوش فہمیوں کا شکار بھی ، اسی بنیاد پر انہوں نے ایک سیاسی جماعت بھی بنا لی، نجانے اس سیاسی جماعت کا نام کیا ہے اور اس کے کارکنوں کے نام کیا ہیں، حضرت علیؓ سے ایک قول منسوب ہے کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔ مَیں نے ان صاحب کو ایک ٹی وی انٹرویو میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ اگر وہ چیف جسٹس ہوتے تو پہلے ہی مرحلے میں میاں نواز شریف کو نااہل کر دیتے۔یہ ظرف ظرف کی بات ہے، آپ بچھو کو پانی سے نکالتے ہیں اور وہ آپ کو ڈس لیتا ہے، ڈوبتے ہوئے کو نکالنا آپ کا ظرف ہے اور کاٹ لینا اُس کی فطرت۔
مجھے یقین ہے کہ تمام وکلا ایسے نہیں ہیں، بہت سارے ایسے ہیں جو حق اورسچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، آئین اور قانون کی محافظت کرتے ہیں، مگر اس وقت پاکستان بار کونسل سمیت مختلف ایسوسی ایشنوں میں وہی حامد خان گروپ برسراقتدار ہے،جو اپنا تعارف پروفیشنل گروپ کے طور پر کرواتا ہے، اس گروپ کے مخالف ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ پروفیشنل ہیں تو کیا ہم نان پروفیشنل ہیں۔ حامد خان صاحب عمران خان صاحب کے پرانے ساتھی اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہیں، جن کی زندگی بھر کی سیاسی جدوجہد کا حاصل ہی میاں نواز شریف کاایک استعفا ہے، جس کے لئے وہ خود اپنی سیاست کی قربانی دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ وکلاء کی سیاست کچھ پیچیدہ ہے، یہ نظریاتی بھی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف چیمبرز کا بڑا کردار ہوتا ہے، جن سے وکلاء وابستہ ہوتے ہیں،آپ اسے اپنی سیاست میں برادری اور کمپنی کی طرح سمجھ لیں۔ بلاشبہ حامد خان صاحب کا گروپ مضبوط بھی ہے اور فعال بھی، اس گروپ نے کوشش کی کہ عدلیہ بحالی تحریک کی کلغی اپنے ماتھے پر سجائے رکھے، حالانکہ یہ کسی ایک گروپ کی تحریک نہیں تھی۔زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ اس تحریک کی سرخیلی کسی طور بھی گھاٹے کا سودا نہیں تھی، معزول چیف جسٹس بحال ہوئے تو اس گروپ کی چاندی ہو گئی ۔ وکلاء جانتے ہیں کہ جب ججوں کی تقرری کا معاملہ آیا تو سب سے بڑی تعداد ان چیمبرز سے منتخب کی گئی، جن کا تعلق پروفیشنل گروپ سے تھا، جبکہ مخالفین نظرانداز ہونے لگے یوں یہ گروپ اس تحریک کے فوائد سمیٹتے ہوئے بار ہی نہیں، بلکہ بنچ میں بھی حاوی نظر آنے لگا، دوسری طرف وکلاء سے باہر حلقوں میں یہ سوچ بڑھنے لگی کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار کو تبدیل ہونا چاہئے۔ ماتحت عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار مقابلتا کہیں زیادہ میرٹ ، انصاف اور تربیت پر مشتمل ہے، جبکہ اپیلٹ کورٹس میں وکلاء کے گروپوں، دھڑوں اور چیمبروں کو نوازے کا تاثر ملتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس گروپ کی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ میں اضافہ ہوتا، مگر یہاں حامد خان صاحب کے سیاسی مفادات حاوی ہو گئے اور معاملہ یہاں تک آن پہنچا کہ ایک سیاسی لڑائی میں ان کے گروپ کے نامزد عہدے دار رشید اے رضوی اور چودھری ذوالفقار نے اپنا کردارادا کرنا شروع کر دیا۔ وکلاء کی اکثریت جانتی ہے کہ منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا کھیل کس کا ہے، اس میں عمران خان صاحب کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس گروپ کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں۔عام قارئین کی اطلاع کے لئے عر ض ہے کہ پروفیشنل گروپ کے مقابلے میں بہت سارے چیمبرز اور دھڑے موجود ہیں، مگر عمومی فہم کے لئے بیان کیا جا سکتا ہے کہ حامد خان گروپ کے مقابلے میں عاصمہ جہانگیر اور ان کے حامیوں کا گروپ ہے۔ اس گروپ کو کبھی پیپلزپارٹی کا حمایت یافتہ گروپ بھی سمجھا جاتا تھا، مگر مسلم لیگ(ن) کی طرح پیپلزپارٹی بھی براہ راست وکلاء سیاست میں مضبوط تنظیم والا گروپ نہیں رکھتی۔ عاصمہ جہانگیر بارے کسی ستم ظریف نے کہا کہ ان سے ہزار اختلاف کر لیں، مگر وہ ہر موقعے پر تاریخ کی درست سمت میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ ماضی میں بہت سارے حالات اور اب میڈیا کے بنائے ہوئے ماحول کا شکار ہوجاتے ہیں، مگر عاصمہ جہانگیر کی اپنی سوچ ہے۔
ایک آئینی ، قانونی، سیاسی اور جمہوری سیٹ اپ کے خلاف متحرک دوسرے صاحب احسن بھون ہیں جن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کا سابق جج نہیں لکھا جا سکتا، یہ وہ صاحب ہیں، جنہوں نے مشرف کے بدنام زمانہ پی سی او کے تحت جج بننے کا حلف اٹھایا اوربعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 31 جولائی 2009ء کے فیصلے کے نتیجے میں اپنے اس عہدے سے ہٹائے گئے، یہ وہ تاریخی فیصلہ ہے جس کے تحت اس وقت کے صدر اور آرمی چیف کی طرف سے 3نومبر 2007ء کو لگائی گئی ایمرجنسی پلس اور ججوں کو فارغ کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا تھااور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے احسن بھون اور ان کے ساتھیوں کو بھی فارغ کر دیا تھا۔ تاریخ دانوں نے قرار دیا تھا کہ یہ فیصلہ وکلاء کے اجتماعی ضمیر کا بہترین عکاس ہے، مگر احسن بھون اسے کالافیصلہ کہتے رہے ہیں، ان کا غصہ کچھ دوسری نوعیت کا ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی تحریک اور ججوں کی بحالی نے ان کی نوکری اور اچھا خاصا مستقبل تباہ کر دیا۔ وہ اس سے پہلے پروفیشنل گروپ کے مخالف ہوا کرتے تھے، مگر اب مفادات کی یک جائی نے انہیں بھی اکٹھا کر دیا ہے۔ وہ بھی ججی سے ہٹنے کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ وکلاء کی بڑی تعداد نے حامد خان اور احسن بھون کے مفادات کے اس کھیل کو سمجھ لیا ہے ۔ ان میں بہت سارے ایک طویل رفاقت اور وکلاء کی اندرونی دھڑے بندیوں کی وجہ سے حامد خان صاحب کا گروپ تو نہیں چھوڑ رہے، مگر وہ اس کھیل کو پوری طرح سمجھ رہے ہیں اور اسی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ ہفتے دی جانے والی ہڑتال کی کال جزوی رہی۔ اس ہڑتال میں وہی وکلا شامل ہوئے جو بہرصورت نواز حکومت سے بغض اور مخالفت کے مرض میں مبتلا ہیں یا وہ تھے، جن کے نزدیک ان کی دھڑے بندی آئین، جمہوریت اور قومی مفادات سے بھی زیادہ اہم ہے۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وکلاء جس طرح اپنے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکمران پرویز مشرف کے خلاف متحد ہوئے تھے بالکل اسی طرح وزیراعظم محمد نوازشریف اور ان کی حکومت کے خلاف بھی سڑکوں پر نکل آئیں گے تو وہ غلطی پر ہیں۔ وکلاء کی غالب اکثریت آئین اور قانون کی محافظ ہے او ران سے بہتر کون جانتا ہے کہ کرپشن کے موجودہ الزامات میں رائی کا کتنا بڑا پہاڑ بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے موقعے پر حکومتی سیاسی مخالفین کی پھرتیوں اور آنیوں جانیوں نے بتادیا ہے کہ یہ مقدمہ قانونی سے کہیں زیادہ سیاسی ہے اور ہمارے حزب اختلاف کے رہنما وہاں انصاف اور احتساب نہیں،بلکہ اقتدار لینے کے لئے جاتے ہیں، مجھے پوری امید ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد بھی وکلاء بطور برادری خود کو استعمال کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *