نیا ایکشن پلان۔ کمیٹیوں کے ذریعے جنگ؟

ایازا میرAyaz Amir

 ہم نے بیانات کے ذریعے لوڈ شیڈنگ سے نمٹ لیا۔ الحمداﷲ۔ اب دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اس سے قدرے بہتر حکمت ِعملی… بیان بازی اور کمیٹی سازی… اپنائی جارہی ہے۔ شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو جب کوئی میٹنگ نہ ہوتی ہوجس میں اعلیٰ سطح کے افراد شرکت نہ کرتے ہوں۔ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے چیفس بھی ان میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کے اسٹیمنے کو داددینے کو جی چاہتا ہے۔ یقیناً ان پیہم میٹنگز کے بعد کسی اور سرگرمی کے لیے وقت ہی نہیں بچتاہوگا۔اعلیٰ سطح کی صوبائی کمیٹیوں کی میٹنگیںبھی جاری رہتی ہیں۔ دہشت گردی سے ایسے ہی نہیں نمٹاجاسکتا، یقینا ہر کسی کوکچھ نہ کرنا پڑے گا۔ ان تمام جنگجوئوںکوقطار قطار دیکھیں کہ ان کی وجہ سے قوم کا حوصلہ کتنا دوچند ہوتا ہے!
پشاور اسکول حملے سے پیدا ہونے والے جذبات پہلے ہی تحلیل ہوچکے ۔ اب جبکہ قوم دہشت گردوں کی زد میں ہے اور انھوں نے اپنے حملے مزید تیز کردئیے ہیںتو حکومت کے پاس ان کا ایک جواب مزید میٹنگز، کمیٹیاں اوردہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینے کے بیانات ہیں۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران تمام اتحادی قوتوں نے پانچ سال میں اتنی میٹنگز نہیں بلائی ہوں گی جتنی ہم نے چند ماہ کے دوران دیکھی ہیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ تین امام بارگاہوں، شکار پور، پشاور اور اسلام آباد، پر یکے بعد دیگرے حملے کیے گئے ہیں۔ کیا مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہے کہ ایک طبقہ فکر دہشت گردوں کا خصوصی ہدف ہے؟ اس کے باوجودکیا امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے کچھ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں؟جب مذکورہ بالا شہروں میں حملے کیے گئے تو پولیس اپنی حدود کا تعین کرنے کے مسئلے سے دوچار دکھائی دی۔ کیااس جنگ کے لیے ہماری تیاری یہی ہے؟ یہ فوج کے کمانڈوز تھے جو موقع پر پہنچے۔ اگر ہر کام فوج نے ہی کرنا ہے تو پھر پولیس کا کیا مقصد؟یہ وہی پولیس ہے جو زیادہ عرصہ نہیں گزرا طاہرالقادری کے پیروکاروں کے آگے بھاگ کھڑی ہوئی تھی، اسی اسلام آبادپولیس کے سامنے ایک اکیلے گن مین (سکندر) نے بلوائیریا میں اپنی بیوی اور دوبچوں کے ہمراہ انتظامیہ کی کارکردگی کاپول کھول دیا تھا۔ پولیس ہرگز نہیں جانتی تھی کہ کیا کرے۔
بہرحال پنجاب اور اسلام آباد میں بنیادی طور پر کوئی خامی نہیں۔ اسی دھرتی کے جوان ہیں جو پولیس میں بھی بھرتی ہوتے ہیں فوج میں بھی۔ تاہم فوج انہیں پیشہ ورانہ بنیادوں پر تربیت دیتی ہے۔ اس کے اصول و ضوابط مختلف ہیں۔ وہاں کوئی بھی چین آف کمان میں مداخلت یا اپنی مرضی نہیں کرسکتا ۔ ڈویژنل اور کور کمانڈرز رجمنٹ میں ہونے والی تقرریوں میں مداخلت نہیں کرتے ہیںکیونکہ یہ رجمنٹ کمانڈرکا استحقاق ہوتا ہے۔تاہم ، پولیس میں معاملات کسی اور طرح نمٹائے جاتے ہیں۔ یہاں اہم عہدوں کے لیے پسندیدہ افراد کا چنائوہوتا ہے۔ ایس ایچ اوز کا تقرر عام طور سیاست دانوں یا علاقے کے بااثر افراد کی سفارش سے ہوتا ہے۔ پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ بذات خود ڈی ایس پی رینک کے افسران کا چنائو کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر کو ایک پوسٹ آفس سمجھا جائے گا اور آئی جی کی اپنے دفتر میں بھی کوئی توقیر نہیں ہوگی تو ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ پولیس بھی فوج کی طرح فعالیت دکھائے گی؟ یہ وہ مسئلہ ہے جسے کمیٹیاں اور میٹنگز نہیں حل کرسکتیں۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ سندھ اور کراچی میں پولیس افسران کی تقرریاں میرٹ ، نہ کہ ذاتی پسند و ناپسند ، کی بنیادپرہوں۔ شنید ہے کہ خیبر پختون خوامیں آئی جی کو فری ہینڈ دیا گیا ہے ۔
جب سے فوج اہم فیصلے کررہی ہے(جس سے نرم شب خون کا تاثر ابھرتا ہے) اور جنرل راحیل شریف سویلین حکومت کو آمادہ ٔ عمل کررہے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ آرمی کمانڈخود اس بات کو یقینی بنائے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت نہ ہونے پائے۔ اس جنگ میں پولیس کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ فوج اور خفیہ ادارے اس جنگ میں ایک محاذ پر لڑرہے ہیں لیکن جب تک پولیس فورس متحرک اور فعال نہیں ہوگی ، دہشت گردی کا خاتمہ کرنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جنگ کو اضلاع میں تھانوں کی حدتک بھی لڑا جانا ہے اوراس میں ایس ایچ او کے کردار کو نظر انداز کرنا حماقت ہوگی۔ کیا اب وقت نہیں آگیا جب پولیس کو وی آئی پیز کے پروٹوکول کے غیر ضروری فرائض سے آزاد کیا جائے؟اس وقت صورت ِحال اتنی گمبھیر ہے کہ دہشت گردجہاں چاہتے ہیں، حملہ کرسکتے ہیں لیکن پولیس کی بھاری نفری ان نام نہاد وی آئی پیز کی حفاظت میں لگی ہوئی ہے۔ کون سا امریکی یا برطانوی رہنما ہزاروں پولیس کے جوانوں کے جھرمٹ میں سفرکرتا ہے یا اُنہیں اپنی نجی رہائش گاہ کے باہر کھڑا کرتا ہے؟اگر ان کی نجی رہائش گاہوں پر سے سرکاری سیکورٹی ہٹالی جائے تو مجھے یقین ہے کہ یہ حکمران عوام کو دہشت گردی کےلا حق خطرے سے بخوبی آگاہ ہوجائیں۔
اس کے علاوہ اور کیا کچھ کیاجانا درکار ہے؟ہمارے سامنے دو مثالیں رول ماڈل بن سکتی ہیں۔۔۔(1)بھارتی پنجاب میں پولیس چیف کے پی ایس گل(KPS Gill) نے کس طر ح گولڈن ٹیمپل پر کارروائی کرتے ہوئے سکھ شورش پسندی کو کچل دیا۔ (2)نصیر اﷲ بابر نے 1995میں کس طرح کراچی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا۔ دیگر تفاصیل میں جائے بغیر، اتناکہنا کافی ہے کہ مسٹر گلِ کو بھارتی پنجاب میں مکمل اتھارٹی دی گئی تھی۔وہ خود بھی ایک سکھ تھے لیکن اُنھوں نے سکھ شورش پسندوںکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا۔ اُنہیں ہر اقدام، بشمول پولیس مقابلے میں ماردینے، کی اجازت تھی۔ اس طرح یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ہمارے ہاں بھی نصیر ا ﷲ بابر نے آپریشن کی خود نگرانی کی اور کراچی پولیس کو فری ہینڈ دیا۔ انٹیلی جنس سپورٹ آئی ایس آئی کی بجائے آئی بی کی طرف سے فراہم کی گئی۔ اس طرح وہ آپریشن شروع سے آخر تک سویلین فورسز نے کیا اور کامیابی حاصل کی۔ اُنھوںنے بہت حد تک دہشت گردی کی کمر توڑدی اور شہر کا امن لوٹادیا۔ تاہم جب بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو بعد میں آنے والے حکمران(نواز شریف) نے اس آپریشن کے مقاصد کو دھندلا دیا۔ جب آپریشن ختم کیا گیا تو جن پولیس افسران نے آپریشن میں حصہ لیا تھا اُنہیں دہشت گردوںنے چن چن کر انتہائی اذیتیں پہنچا کر ہلاک کردیا۔ دوسرے الفاظ میں، ریاست نے اپنے افسران،یعنی اپنی رٹ قائم کرنے والوں، کا ساتھ نہ دیا اور اُنہیں قاتلوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ جب حکومت کا یہ طرز ِعمل ہو تو ریاست کے لیے کون جنگ کرنے کی جرات کرے گا؟
اس وقت پاکستان کا مسئلہٗ یہ ہے کہ ہمیں ہر صوبے کے لیے ایک کے پی ایس گلِ یا نصیر اﷲ بابر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ افسران سے دہشت گردوں کو کوئی خوف نہیں ۔ یہ پروٹوکول فورس دیگر اور معاملات کے لیے ٹھیک ہوں تو ہوں، دہشت گردی سے نمٹنا ان کے بس کی بات نہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم قومی حکومت کے قیام یا فوجی حکومت کی راہ دیکھنے لگیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ آپریشنل کمان کسی اور کے ہاتھ میں جانی چاہیے۔ یہ جنگ بیان بازی کرنے والے ٹولے کے بس کی بات نہیں۔ کیا اس وقت تک پولیس کو رائے ونڈ یا بلاول ہائوس سے رہائی نہیںمل جانی چاہیے تھی؟بلوچستان کی صورت ِحال کسی اور اقدام کا تقاضا کرتی ہے۔ دوسری طرف قومی اداروں کو بھی اپنے اصل فرائض کی طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے۔ کیا سی آئی اے یا ایم 16بھی پراپرٹی بزنس کرتی ہیں؟یہاں تو آئی بی بھی اسلام آباد میں ایک بہت بڑی ہائوسنگ اسکیم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فوج کو بھی فیصلہ کرنا ہے۔۔۔ پہلی ترجیح کس کو دی جائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو یا پراپرٹی بزنس کو؟یہ ایک طویل جنگ ہے اور اسے پوری سنجیدگی سے لڑا جانا ہے۔ ہنگامی اور وقتی اقدامات اور بیان بازی کا وقت جاچکا ہے۔ اگر ہمیں کبھی گفتار کی بجائے کردار کے غازیوں کی ضرورت تھی تووہ یہی وقت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *