اعتدال سے اتنا گریز کیوں ؟

khalid mehmood rasool

پولیٹیکل اکونومی کے طالب علم ہونے کے ناطے ہم خود اکونومی میں رونما ہونے والی فالٹ لائینز کی بابت لکھتے رہتے ہیں۔ خوشی ہوتی ہے اگر میڈیا میں یا کہیں اور بھی اس پر بات ہو کیونکہ سیاست کے موضوعات ہماری پبلک لائف اور میڈیا میں اس قدر حاوی ہیں کہ باقی موضوعات کی باری خال خال ہی آتی ہے۔ دو روز قبل ایک چینل پر ایسے ہی ایک پروگرام کو چینل تبدیلی کے دوران دیکھ کر ہم رکے اور دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔
ایک ڈاکٹر صاحب اپنے مہمانوں سے باری باری معیشت پر چبھتے ہوئے سوالات کر رہے تھے۔ بنیادی نکتہ یہ تھا کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے سے معیشت بڑی مشکل میں گھر گئی ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن انہوں نے مہمانوں سے چن چن کر یہ نگلوانے کی کوشش کی کہ اس میں حکومت کا ہی سو فیصد قصور ہے۔ مہمانوں نے اگر کسی اور امر کی طرف اشارہ بھی کیا تو موصوف ان کی قطع کلامی کرکے حکومت کی نالائقی کے طرف گھیر لاتے۔ انہوں نے فیڈریشن آف چیمبرز اور کراچی چیمبر کے صدر سے بات کی اور بار بار اگلونے کی کوشش کی حکومت کے پاس سوائے پانامہ کے کسی اور مسئلے کے لئے وقت نہیں اور اسی لئے ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے اور تجارتی خسارے کی اکلوتی وجہ بھی حکومت کی نااہلی ہے۔ دونوں مہمان گھاگ کھلاڑی تھے، وہ تنقید میں بھی نِرے حکومت کے لتّے لینے سے معترض رہے۔
اسی ادھیڑ بن میں پروگرام دیکھا اور ہم سوچتے رہے کہ تنقید کرتے کرتے ہم یہ ثابت کرنے پر کیوں مصر ہو جاتے ہیں کہ اس ملک خداداد میں کوئی مثبت بات کسی بھی شعبے میں ممکن نہیں۔ تسلیم کہ میڈیا ریٹنگ حکومت پر تنقید سے ہی آتی ہے اور حکومت کے بہت سے اقدامات پر تنقید ہو بھی سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن تنقید اور ہر قیمت پر رگیدنے کے مشن میں تخصیص روا ہونی چاہئے کہ ٌ موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے، گھر کی خاطر سو دْکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے ٌ ۔
تالی دونوں ہاتھوں سے ہی بجتی ہے۔ میڈیا میں اکثر احباب اگر اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو ناظرین بھی اکثر ان پروگراموں میں اعتدال کی تلاش میں نہیں ہوتے۔ اکثر دوست احباب اور ملنے جلنے والوں سے اس موضوع پر جب بھی بات ہوتی ہے وہ عموماٌ ان پروگراموں کو دیکھتے اور تعریف میں رطب السان دیکھے جن میں مہمان ایک دوسرے کے خوب لتّے لیتے ہیں۔ ٹاک شوز ہی پر موقوف کیا، ٹی وی ڈراموں کی بھی کیفیت یہ ہے درجنوں چینل گھماتے جائیں، مجال ہے آپ کو کوئی مسکراتا چہرہ ملے ، جو ملے گا روتا دھوتا، مونہہ بسورتا ہوا۔ مجال ہے زندگی کی کسی خوبصورتی کا ذکر ہو یا انسانی رشتوں کی باہم توقیر ہو یا ان رشتوں پر بھروسے کی کوئی مثال سامنے ہو۔ موضوعات میں شک اور تضحیک ہی کہانی کی جان ہے۔ میاں کا بیوی پر شک اور بیوی کا میاں پر، بہن کا بھائی پر اور بھائی کا بہن، نند کا بھاوج پر اور بھاوج کا نند پر، ساس کا بہو پر اور بہو کا ساس پر، دوست کا دوست پر۔ ہر ڈرامے میں ایک دو عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے اور ان سے بدکلامی کی مدد سے ہی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ پوچھیں تو میڈیا کے لوگوں کا ایک ہی سکّہ بند جواب ہے کہ لوگ دیکھنا یہی چاہتے ہیں۔ جس ڈرامے میں رونے رلانے کے حد پار نہ کی جائے وہ ڈرامہ ریٹنگ میں نیچے کھسک کر اپنی کمرشل ویلیو کھو دیتا ہے۔
اتوار کو ہمارے فرائض منصبی میں ہفتے بھر کے لئے گوشت سبزی وغیرہ کی خریداری بھی شامل ہے۔ چند ایک مر تبہ ہمارے پھل فروش نے ہمیں ٹی وی ٹاک شوز میں دیکھا تو اس وقت سے اس نے ہمیں سیاست اور میڈیا کے گھر کا بھیدی پا کر سیاست پر سوالات کرنا اپنے فرائض منصبی میں شامل کر لئے ہیں۔ عموماٌ اس کا تمہیدی جملہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ ہم عموماٌ گول مول جواب دے کر فروٹ یا سبزی کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو گلہ ہوتا ہے ، آپ چھپا رہے ہیں کچھ، میری بات کا صیح جواب نہیں دیا۔ ایک آدھ بار جلا کٹا جواب دیا تو خوش ہوا۔ اور پھر باقی گفتگو اس نے بڑے جوش میں جاری رکھی کہ یہ سب سیاست دان یوں ہیں ووں ہیں ، ملک لوٹ کے کھا گئے وغیرہ وغیرہ۔ ایک روز ہم نے اس سے پوچھا کہ ٹاک شوز کس وقت اور کون کون سے دیکھتے ہیں۔ جواب ملا کہ رات کو دوکان سے جا کر ، کھا نا کھا کر آرام سے ٹی وی لگا کر ٹاک شوز دیکھتا ہوں۔ چینل گھما گھما کر دیکھتا ہوں ، جس پروگرام میں گرما گرمی زیادہ ہو اور مہمانوں کی آپس میں تو تکار مزے دار ہو ، بس وہ چینل دیکھتا ہوں، باؤ جی بڑا مزہ آتا ہے!!!
بہت پہلے اپنی پروفیشنل لائف میں ایک اصول پڑھا اور بعد میں اسے بار بار صیح پایا۔ آپ کو وہی کچھ مل پاتاہے جس کی آپ میں اہلیت ہوتی ہے۔ ہم اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بھی رہے، یہ اس وقت پاکستان کی ٹاپ تین میں سے ایک ایجنسی تھی۔ ایک تو نو وارد ہونے کی وجہ سے کچھ سیکھنے کی لگن اور کچھ مطالعے کی اپنی عادت کہ ان دنوں ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں ماڈرن ایڈورٹائزنگ کے گرو کا درجہ رکھنے والے ڈیوڈ اوگلوی کی مشہورِ زمانہ کتاب David Ogilvy on Advertising خریدی اور ڈوب کر پڑھی۔ ان کی خاص خوبی کاپی رائٹنگ تھی۔ انہوں نے کاپی رائٹنگ میں نت نئے تجربات کئے اور اختراعات کر کے پرانی روایات کو روند کر رکھ دیا۔ اس کے بعد سے ان کے نام کا وہ ڈنکا بجا کہ خال خال ہی کسی کے حصے میں ایسی کامیابی اور عزت آئی ہو۔
مشہور کنزیومر کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر اشتہارات پر صرف کرتی ہیں کہ ان کے مستقبل کا ا نحصار ان پروڈکٹس کی کامیابی پر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بڑی کنزیومر کمپنیاں ایسی ایڈ ورٹائزنگ ایجنسی کی تلاش میں رہتی ہیں جو ان کی اشتہاری مہم میں وہ جان ڈال دے کہ پروڈکٹ گاہکوں کے دل میں گھر کر جائے۔ اچھی ایڈورٹائزنگ کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ور کہا گیا لیکن ہمیں اور ایک عالم کو اس موضوع پر ڈیوڈ اوگلوی کا لکھا آج بھی حرف آخر لگتا ہے ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ در حقیقت ایجنسی کا معیارنہیں بلکہ کلائنٹ کا اپنا معیار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر کلائنٹ خود اپنا ہوم ورک اچھا کرتا ہے، محنت کرتا ہے تو اس کی ایجنسی بھی اچھے معیار تک پہنچ پائے گی۔ اگر کلائنٹ خود خامیوں سے لبریز ہے تو اچھی سے اچھی ایجنسی بھی اس کے لئے کوئی معرکہ نہیں مار پائے گی۔ اس موضوع پر ڈیوڈ اوگلوی کا یہ معرکتہ الآراء فقرہ آج بھی انڈسٹری کا بنیادی اصول ہے۔ Client gets what he deserves ! ۔ یعنی کلائنٹ کو وہی کچھ مل پاتا ہے جس قابل وہ خود ہوتا ہے۔
کاروبار کی ٹریننگ میں ایک اصول بار بار سکھایا جاتا ہے کہ آپ کا اپنے بارے میں تصور مثبت ہونا کسی بھی کامیابی کے لئے پہلی شرط ہے یعنی Self image ۔ خود احتسابی ایک لازمی اور ضروری جزو ہے کسی بھی بہتری کا لیکن حد سے بڑھی ہوئی زیادتی الٹا کام بھی دکھا جاتی ہے۔ گھر میں اولاد ، تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات اور اداروں میں ملازمین پر مسلسل تنقید اور منفی جذبات کا الٹا اثر ہوتا ہے۔ ہمارے میڈیا میں تنقید کے نام پر منفی پن اس قدر سرایت کر گیا ہے کہ اکثر یہ سوال ذہن میں گونجتا ہے کہ اس ملک میں کوئی مثبت کام بھی کہیں ہو رہا ہے یا نہیں؟ اس ملک میں کوئی ادارہ برا بھلا کچھ تھوڑا بہت کام کر بھی رہا ہے یا ہر جگہ بربادی کا راج ہے۔ پولیس ہو یا صحت، پی آئی اے ہو یا ریلوے، انتظامیہ ہو یا کوئی اور ادارہ، چن چن کر منفی خبروں اور رویوں کو ہی موضوع بنایا جاتا ہے۔ اگر یہ سب ادارے اس قدر بے حیثیت اور بے توقیر ہیں تو انہیں ختم کرنے کی مہم کیوں نہ شروع کر دی جائے۔ اگر یہی حقیقت ہے تو کسی بھی واقعے کے بعد ریاست کی رِٹ کی دہائی کیوں دی جاتی ہے۔
صبح شام اسی ریاست اور اسکے اداروں کو رگیدنے کے بعد مظبوط ریاست کی تلاش بھی ایک مضحکہ خیز منافقت ہے۔ تنقید اور خود احتسابی معاشرے کے لئے جاندار روایتیں ہیں لیکن حد سے گزرنے والی ایسی تنقید اپنے اندر منفی اثرات رکھتی ہے کہ بالآخر ا پنا سیلف امیج بھی منفی ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایسے میں مظبوط ریاست اور اس میں صاف سیاست اور انصاف کی توقع پر ہمیں ڈیوڈ اوگلوی ہی یاد آتے ہیں Client gets what he deserve ! ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *