فحش نگاری دنیا کے آخری زمانے کی عکاسی کرتی ہے: بک ریویو

 fifty shadesحال ہی میں شائع ہونے والی کتاب’’ففٹی شیڈز آف گرے‘‘ اور اس سے ماخوذ فلم، اس افسردہ مزاجی اور اذیت پسندی کی عکاسی کرتی ہیں جو تقریباً ہر پہلو سے امریکی ثقافت پر چھائی ہوئی ہیں اور جن کی جڑیں اذیت پسندی اور عالمی سرمایہ داری نظام میں پیوست ہیں۔ یہ کتاب ہمارے معاشرے میں عورت سے غیر انسانی سلوک کو بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے۔یہ اس دنیا کی فتح کی عکاس ہے جو ہمدردی، محبت اور احساس سے عاری ہے اورجنونی مردانہ جنسی قوت سے محبت کرتی ہے۔۔۔اسی جنونی مردانہ جنسی قوت سے محبت جو ان خواتین پر تشدد کرتی ہے، ان کو رسواء کرتی ہے، ان سے غیر انسانی سلوک کرتی ہے اور ان کو اذیتیں دیتی ہے کہ جن سے وہ ان کی شخصیت تک چھین چکی ہے یہاں تک کہ ان کی خواہش صرف یہ رہ جاتی ہے کہ وہ مرد کی جنسی خواہشات کی تکمیل کرتی رہیں۔ یہ فلم، ’’امریکن سنپر‘‘ کی طرح غیر مشروط طور پر ایک ایسی شکاری دنیا کو دکھاتی ہے کہ جہاں کمزوراور زدپذیر ہمیشہ استحصال کے نشانے پر رہتے ہیں۔یہ فلم اس دنیا کو دکھاتی ہے جو سرمایہ دارانہ جہنم کوفطری اور اچھا کہتی ہے۔
فلم دعویٰ کرتی ہے کہ کل تک جب دنیا بھر میں تحریر کیا جانے والا ادب مردانہ جنسی قوت کی درندگی اور وحشت کو دکھاتا تھا توسماج کے ٹھیکے دار اسے فحش نگاری قرار دیتے تھے مگر عہد حاضر کے حالات دیکھ کر انہیں جان لینا چاہئے کہ گزشتہ زمانوں کا ادب دراصل فحاشی کی تریج نہیں کر رہا تھا بلکہ آئندہ زمانے، یعنی آج کے عہد یا تہذیب انسانی کے آخری دور کی ترجمانی کر رہا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *