فریب

محمد طاہرM tahir

یہ عہدِ کج نظر اپنی فریب کاریوں اور نظری دھوکوں کے باعث انسانی نسلوں کے لئے ہمیشہ ایک مثال بن کر رہے گا۔ معلومات کی افراط میں حقیقت کی تفریط کا یہ دور اپنی مغالطہ آمیز روش کے باعث انسانی ذہنوں کی اُپج کے عروج میں اپنی نارسائیوں کا ماتم کرے گا۔اس عہدِ زبوں حال و زیاں کار میں کیسے کیسے جھانسے دیئے اور کیسے کیسے مغالطے تخلیق کئے گئے؟ سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ سب سے زیادہ جہالت کے شکار ہوئے اور سب سے زیادہ باخبر لوگ سب سے زیادہ بے خبری کے بہاؤ میں رہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ میں پہلا حملہ سچ پر ہوتا ہے۔ سچ کی تخلیق کے جھوٹے عمل کو ایسا قرینِ حقیقت بنا لیا گیا ہے کہ اچھے بھلے لوگ اپنے مغالطہ آمیز ’’سچ‘‘ کے بے نقاب ہونے پر بھی اِسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اپنے اپنے’’ سچ‘‘ کو نبھانے کے لئے فرضی کہانیوں کے ایسے ذہنی جال بُن لئے جاتے ہیں کہ اس سے خود بھی نکل نہیں پاتے۔ نفسیاتی طور پر یہ ایک موضوع ہے کہ جھوٹ گھڑنے اور صداقت کو شکار کرنے کی شعوری کوششوں میں مبتلا عیار نظام کے مکار کار پرداز رفتہ رفتہ اس پر خودبھی کیوں یقین کرنے لگتے ہیں؟ خفیہ اداروں کے سربراہا ن جو اس’’ کاروبار ‘‘کو ایک پیشے کے طور پر دنیا بھر میں اختیار کرتے ہیں وہ آہستہ آہستہ خود اپنے بھی پروپیگنڈے کے شکار ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماہرینِ نفسیات کے لئے یہ موضوع خوامخواہ پرکشش نہیں رہا۔
اب دیکھئے! افغان طالبان کو امریکا، پاکستان اور افغان حکومت مل کر مذاکرات کے لئے تیار کر رہے ہیں۔اور افغان طالبان اِس عمل کو اپنی مرضی ، اپنے وقت اور اپنی شرائط پر شروع کرنے کے لئے مشاورت کر رہے ہیں ، مگر دانشوروں کا اِصرار یہ ہے کہ طالبان کے لئے اس سے بہتر کچھ اور نہ ہوگا ۔ کیونکہ وہ ایک تحلیل ہوتی قوت ہے اور افغانستان میں تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ اس نوع کا نتیجہ صرف کم علمی کی پیداوار نہیں ہوتا اس کے لئے تعصب کے علاوہ بھی بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ ذہنی پراگندہ خیالی (شیزوفیرنیا) ہی نہیں ایک خام خیال رومان انگیزی کے ماحول میں جب کوئی دانشور خود اپنی ہی ذہانت کی عبادت کر نے لگے تو وہ اس نوع کے نتائج بآسانی نکال لیتا ہے۔طاقت کے رائج ڈھانچوں سے قربت کا جنون وقت کے فیصلوں کو پڑھنے سے اجتناب کی روش بھی اس کا ایک محرک ہوتا ہے۔آج کل یہ روش کسی بھی معاملے میں عام ہے۔ اس کے باوجود کہ دنیا بھر میں واقعات کا بہاؤ کسی بھی طاقت ور ملک یا گروہ کی مرضی کے مطابق نہیں رہا۔ پھر بھی ہم اُن کے ہی گھڑے گھڑائے مصنوعی ماحول میں زندہ رہ کر اُن کے مطابق ہی نتائج اخذکرنے کے کج شعار چلن کے شکار ہیں۔
گزشتہ پندرہ برسوں کی طویل افغان جنگ میں امریکا کی کھلی شکست کے بعد یہ طالبان ہی تھے جنہیں امریکا مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے دائم کوشاں رہا۔ اگر طالبان ایک سکڑتی ہوئی طاقت ہوتے تو جنگ آزما امریکا کویہ حقیقت سب سے پہلے پتا چلتی۔امریکا نے قطر میں طالبان کو مذاکرات کا ایک ماحول دینے کی کوشش کی۔ یہ کوئٹہ شوریٰ کے نام سے معروف طالبان قیادت کا اپنا فیصلہ تھا۔ مگر عملاً اس پورے ماحول کو طالبان نے کبھی بھی امریکا کے حق میں نہیں جانے دیا۔ یہ ایک سپر پاور کی سفارتی محاذ پر شکست کا شرمناک منظر تھا۔ یاد کیجئے! قطر میں 2013 میں قائم کئے گئے دفتر کے بعد کون سے واقعات رونما ہوئے تھے؟طالبان نے سب سے پہلے اُس دفتر پر ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کی چمکتی تختی آویزاں کر دی تھی۔ گویا یہ دفتر نہیں طالبان کی سرکاری حیثیت میں کسی سفارتی پیش قدمی کامنظر تھا۔ طالبان تب جنگ عملاً جیت چکے تھے۔ امریکا میں شائع ہونے والی تقریباً تمام کتابیں اس کا کھلا اعتراف کر رہی تھیں۔ اگر کسی کو اس کا علم نہیں تھا تو وہ صرف پاکستانی دانشور اور ذرائع ابلاغ ہی تھے۔تب افغان صدر حامد کرزئی تھے۔ جو افغانستان کی زمینی حقیقتوں کا خوب ادراک رکھتے تھے۔ طالبان کا جن اُن کے قابو میں نہیں آرہا تھا اور امریکی شکست کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ حامد کرزئی جانتے تھے کہ طالبان کو کسی بھی طرح سے یہ پیشرفت کرنے دی گئی تو اُن کا سفر کسی بھی وقت اپنے اختتام پر پہنچ جائے گا۔ چنانچہ اُنہوں نے نہایت تُرشی اور برہنگی سے اس پورے عمل کو سبوتاژ کر نا شروع کردیا۔طالبان نے کیا حاصل کِیا؟ امریکا کو باور کر ادیا کہ اُن کی اپنی’’ بلّی ‘‘بھی افغانستان میں اُن کو ’’میاؤں میاؤں‘‘ کرنے لگی ہے۔ امریکا نے حامد کرزئی پر اپنا اعتماد اور انحصار دونوں ہی ختم کر دیا تھا۔یہ درست جائزہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض مغربی لکھاری اور پاکستانی دانشور باور کرارہے ہیں کہ قطر کے تب کے مذاکراتی ماحول کو حامد کرزئی کسی بھی طرح ختم کر انے میں کامیاب رہے۔ ہر گز نہیں۔ یہ کامیابی بھی مکمل طور پر طالبان نے سمیٹی تھی۔ وہ اُسی دفتر میں موجود رہے، مگر وہ امریکا کے سامنے ایک مصنوعی ماحول پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ جس میں اُن کی طرف سے مذاکرات کی مشروط آمادگی تھی۔ مگر جس کا مقصد امریکا کو محاذ پر شکست سے دوچارمگر ایک بپھرا ہوا ملک بننے سے بچاتے ہوئے افغانستان سے واپسی کا خاموش راستا دینے کا تاثر تھا۔ طالبان کبھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ امریکا کو یہ مغالطہ پیدا کرنے دیا جائے کہ وہ مذاکرات کے بعد افغانستان سے پلٹ رہا ہے۔ طالبان امریکا کو افغان جنگ میں ایک ناکام ملک کے طور پر محاذ سے شکست خوردہ واپس دیکھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے ایسا کر دکھایا۔ اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے قطر میں اپنا دفتربھی امریکا کی مرضی سے کھلوایا۔قطر میں مذکرات کا سلسلہ دراصل اُن پانچ طالبان رہنماؤں کو آزاد نہ کرنے باعث معطل ہواتھا جو گوانٹا ناموبے سے رہا کرکے قطر میں پہنچا دیئے گئے تھے مگر اُنہیں امریکا کی جانب سے رہا نہیں کیا جارہا تھا۔ امریکا ا س رہائی کے عوض طالبان سے ایک ایسا سودا چاہتا تھا جس کا عملی نتیجہ بآلاخر جنگ بندی نکلے۔ طالبان یہ امریکا کو نہیں دے سکتے تھے۔ چنانچہ مذاکرات کا عمل ٹوٹ گیا۔ طالبان یہی چاہتے تھے۔
اس تناظر میں ایک بار پھر مذاکرات کا غلغلہ شروع ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ طالبان کے اندرونی ذرائع سے پہلی مرتبہ مذاکرات کے متعلق سُن گُن بھی مل رہی ہے۔ مگر یہ پورا معاملہ بھی شکوک وشبہات کے گہرے سایوں میں لپٹا ہوا ہے۔ اور اس پر مکمل یقین کی واقعاتی شہادتیں بہت کمزور ہے۔ اس بات کے ابھی تک کوئی شواہد نہیں ہیں کہ مذاکرات کا یہ عمل واقعی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح یہ امر بھی واضح نہیں کہ طالبان ابھی یہ مذاکرات کیوں کر رہے ہیں جبکہ وہ بہت تیزی سے افغان علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے جارہے ہیں۔ افغان سرزمین پر طالبان کی نئی نسل نے پُرانی نسل کی جگہ سنبھال لی ہے۔ وہ اپنے پچھلوں کے مقابلے میں زیادہ شدت وحدت کے ساتھ بروئے کار ہیں۔ اور افغان حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی نوع کے مذاکرات کے قائل نہیں۔ اُن کا یہ رویہ ہزاروں سال پر محیط مردانِ کوہستان کی جبلت سے تشکیل پایا ہے۔ وہ سیاسی تکثیریت پسند نہیں کرتے۔ اور اپنی زندگی کی قیمت پر اپنی زندگی کو آزاد رکھنے کے قائل ہیں۔ ظاہر ہے کہ افغانستان کے معروضی حقائق کے برخلاف طالبان مذاکرات کے قائل ہو رہے ہیں تو وہ ایسا اپنے گردوپیش کے جبر سے کر رہے ہیں ۔ یہ ایک بار پھر نئے دباؤ کو نئے انداز سے نمٹانے کی حکمتِ عملی ہے۔نیا دباؤ دراصل کیا ہے؟ یہ پاکستان کا بدلتا ہوا کردار ہے۔ جس میں پاکستان کے نئے ’’نپولینوں ‘‘نے دریافت کیا ہے کہ وہ اگر بدل گئے ہیں تو امریکا اور افغانستان بھی بدل گیا ہے۔ مگر نئے حقائق اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے اس نئے ماحول کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اُن سنگین حقائق کو دھیان میں رکھا جائے۔جو خطے میں چین ، امریکا اور بھارت کے علاقائی کردار سے پیدا ہورہے ہیں۔ اِن حقائق پر سب سے زیادہ نگاہ طالبان کی ہے۔ اور اِن حقائق کو سب سے زیادہ نظر انداز پاکستان کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ کر رہی ہے۔
یہ نئے حقائق ہی طالبان کے افغان حکومت سے مذاکرات کی صورت گری کر رہے ہیں۔ اور پاکستان اِن نئے حقائق میں حصہ دار بننے کے بجائے اُس کا شکار بننے پر تُلا ہوا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اگر اِن دونوں فریقوں کو یہ پیغام بھیجا گیا ہے کہ اگر اِن دونوں نے اب تک کسی کو زیر نہیں کیا تو وہ آئندہ بھی نہیں کر سکیں گے۔ تو بلاتردد یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک فضول پیغام ہے۔ افغان حکومت مذاکرات کے لئے اگر بے چین ہے تو اس کا سبب یہ ہر گز نہیں اور اگر طالبان مذاکرات کی طرف طوعاً وکرھاً مائل ہوئے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہ ہرگز نہیں۔ دراصل نئے حالات کو پڑھنے کا یہ ایک پسِ منظر تھا جو زیرنظر تحریر میں زیرِغور لایا گیا۔ نئے حالات اور نئے حقائق کو سمجھنے کی کوشش آئندہ تحریر میں کریں گے۔ مگر کسی بھی ابہام کے بغیر یہ واضح ہو نا چاہئے کہ طالبان اور افغان حکومت میں مذاکراتک کی فضا ایک مغالطہ آمیز افتادکے ساتھ فریب خوردہ ذہنوں نے تیار کی ہے جس کا انجام پہلے کی طرح ہر گز خوشگوار نہیں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *