جرم پر نااہلی یا جوڈیشل واردات؟

بشکریہ: ڈاکٹر زاہد مغل
Dr.zahid mughal
پانامہ کی خفیہ کمپنیاں؟ لندن فلیٹس؟ اربوں کی کرپشن اور خفیہ اثاثوں کی منی ٹریل؟ قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ؟ کروڑوں کی ٹیکس چوری؟ یہ تھے وہ بڑے بڑے الزامات جو ہر روز ہیڈ لائنز کی زینت بنتے تھے مگر احتساب کے نام پر چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ڈرامے میں ان میں سے کسی ایک چیز کے بارے میں بھی پروسیکیوشن کوئی ایک ثبوت پیش نہ کرسکا اور تمام تر ناکامی کے بعد کیس متعلقہ عدالت اور نیب کو ریفر کردیا گیا ہے کہ اب یہ گھوڑے زور لگائیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اب ان گھوڑوں کے ذریعے زور لگوایا جائے گا کیونکہ امکانی طور پر تمام کاروائی پر اسی جج کو نگران بنایا جائے گا جو ایک متعصبانہ فیصلہ دے چکا ہو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ "نیت و مقصد" کیا ہے۔ یاد رہے کہ نیب کو کیس ریفر کرنے کا قانونی مطلب اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ مدعا علیہ "ملزم" ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات کی تفتیش کی جائے۔ فیصلے کے مطابق فاضل بنچ کے ایک جج صاحب اس کیس میں نیب کی کاروائی کی  بایں معنی نگرانی و ہیڈ کریں گے کہ چئیرمین نیب کے اختیارات جج صاحب کو حاصل ہونگے نیز مدعا علیہ کو اپیل کی صورت میں بھی بالاخر انہی جج صاحب کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ جمہوری نظام میں اختیارات کی تقسیم اور چیک اینڈ بیلنس کی خاطر وضع کی گئی "عدلیہ و انتظامیہ" کی تقسیم کو نیست و نابود کردیتا ہے اور ایک ہی وقت میں انتظامیہ کے اختیارات کو عدلیہ کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے ۔ اس سارے "انتظام "کی بنیادی وجہ فئیر ٹرائل کو ناممکن بنانا ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ چھ ماہ کی محنت شاقہ کے بعد اب تک کوئی ٹھوس قانونی بنیاد تلاش نہیں کی جاسکی اور اگر متعلقہ عدالت  و ادارے میں فئیر ٹرائل ہوا تو  مدعا علیہ کے بچ نکلنے کا نہایت قومی امکان ہے لہذا لازم ہے کہ ایک سخت منفی و جانبدار رائے رکھنے والے جج کو "اپنوں سے چھوٹوں" پر نگران بنا کر چھوٹوں سے کام لیا جائے، اب یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ایسے بڑے کے سامنے "چھوٹا" کیا کام کرے گا۔ اگر جے آئی ٹی کی تحقیقات میں ایسی کوئی ٹھوس بنیاد موجود ہوتی تو وہ 28 جولائی کے فیصلے میں بھی جھلکتی۔
اس ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لئے البتہ سپریم کورٹ نے "آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہے؟" کے مصداق ایک بہت ہی "مضبوط" بنیاد تلاش کر لی  اور وہ یہ کہ ایک ایسی آمدن جو اگرچہ وصول نہیں کی گئی تھی نیز متعلقہ ملکی قوانین اس آمدن کے اثاثہ ہونے کے بارے میں بھی واضح نہیں مگر چونکہ ایک (دور ازکار) ڈکشنری کی رو سے وہ اثاثے کی تعریف میں شامل ہیں لہذا اس آمدن کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرکے وزیر اعظم نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اب وہ صادق و امین نہیں رہے! اس فیصلے میں پانچ بنیادی جھول ہیں۔ پہلا یہ کہ اس ضمن میں متعلقہ ملکی قوانین ("روپا ایکٹ")اثاثوں کی ایسی تعریف متعین نہیں کرتے جن کی رو سے مدعا علیہ پر یہ اثاثے ظاہر کرنا لازم ہوں۔ دوسرا یہ کہ اگر ایسا کوئی قانون یا ایکٹ موجود نہیں تھا تو اس کے بعد الیکشن کمیشن کے متعلقہ قوانین کی طرف وجوع کیا جانا چاہئے تھا کہ آیا یہ قوانین الیکشن کمیشن کے فارم میں ان اثاثوں کی ڈیکلریشن کے بارے میں کیا کہتے ہیں، اگر وہ اسے بائنڈنگ نہیں کہتے تو بات ختم کیونکہ الیکشن کمیشن کا فارم بھرتے وقت امیدوار الیکشن کمیشن کے قوانین کا لحاظ رکھنے کا پابند ہے۔ مگر فاضل بنچ نے ایسا کرنے کے بجائے تیسرا راستہ اختیار کیا اور وہ  یہ کہ قانون کی ایک دور ازکار ڈکشنری سے اثاثوں (receivables) کی ایک تعریف پکڑ کر مدعا علیہ کے سر یہ جرم منڈ دیا کہ چونکہ اس تعریف کی رو سے تم پر اثاثے ظاہر کرنا لازم تھا مگر تم نے نہ کئے لہذا اس تعریف کو پچھلی تاریخوں کے لئے موثر مان کر تم مجرم ہو۔ یہ فیصلہ آپ کو جتنا بھی ورطہ حیرت میں ڈالے مگر جان لیجئے کہ "فاضل بنچ" کا فیصلہ بہرحال یہی ہے۔ کوئی فاضل بنچ سے پوچھے کہ کیا اس ڈکشنری کی تعریف الیکشن کمیشن کے متعلقہ قوانین کے اثاثوں کی ڈیکلیریشن کے لئے بائنڈنگ رول کی حیثیت رکھتی تھی کہ مدعا علیہ پر اس کی پابندی لازم تھی؟ کیا الیکشن کمیشن نے اس ڈکشنری کی تعریف کو تمام امیدواروں کے لئے میسر کیا تھا؟ اگر نہیں تو پھر اس ڈکشنری کی تعریف کے تحت کسی کو مجرم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ چوتھی بات یہ کہ عدالت نے اس تعریف کی  بھی غلط تشریح کرکے اسے غیر متعلقہ مقام پر اپلائی کردیا۔  اکاؤنٹنگ کے تکنیکی مباحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے عرض ہے کہ account receivables  اس رقم کو کہتے ہیں جو ایک کمپنی یا بزنس کو کسی دوسرے کی طرف سے واجب الاداء ہو (یعنی متعلقہ کمپنی اسے "اپنے لئے "واجب الاداء بھی سمجھتی ہو)۔ اسے ایسی رقم کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا جسے آپ اپنے لئے واجب الاداء نہ سمجھتے ہوں یا حاصل کرنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں، خصوصا اس صورت میں تو اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہوتا جب آپ نے سالہا سال تک نہ تو کبھی وہ رقم وصول کی ہو اور نہ ہی  کبھی اس کا تقاضا کیا ہو۔ الغرض بزنس ورلڈ کی ایک اصطلاح کو ملکی ادارے کے قوانین سے غیر متعلق ایک ڈکشنری سے دیکھ کر غلط اپلائی کرکے ایک فیصلہ مسلط کردیا گیا۔ پانچواں اور سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس رقم کی بنا پر فاضل بنچ نے یہ سزا سنائی ہے وہ مدعا علیہ کی کل آمدن کے چوتھائی فیصد (0.25 فیصد) سے بھی بہت کم ہوگا، گویا جس شخص پر اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت تلاش کرنے کے لئے فاضل بنچ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی اس پر چھ ماہ کی جرح و غلط سلط تشریحات کے بعد بالاخر یہ جرم ثابت کیا گیا کہ ایک غیر متعلقہ ڈکشنری کی تعریف کو غلط اپلائی کرنے کی رو سے مدعا علیہ نے چونکہ چند ہزار درہم ظاہر نہ کیے (جو نہ تو کبھی اس نے وصول کئے تھے اور نہ ہی متعلقہ ملکی قوانین کی رو سے اس پر ظاہر کرنا ضروری تھے) لہذا وہ صادق و امین نہ رہا۔  یعنی جو شخص اپنے گوشواروں میں کروڑوں کے اثاثے ظاہر کررہا ہو وہ ان چند ہزار کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے جو اس نے کبھی وصول نہ کئے!
پی ٹی آئی اور نواز شریف کے جن مخالفین کے نزدیک یہ فیصلہ گویا اربوں کی کرپشن کا ثبوت ہے نیز یہ کہ دیکھو عدالت نے مدعا علیہ کو چور کہہ دیا، ان کے بارے میں ہمیں کچھ عرض نہیں کرنا۔ فی الوقت وہ خوشی کی حالت میں ہیں اور وہ کسی صورت یہ پسند نہیں کریں گے کہ کوئی ان کی اس کیفیت کو بے معنی ثابت کرے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس کیفیت میں انہیں ہر ہلکی بات بھی بامعنی و قوی دلیل ہی دکھائی دے گی، انہیں فی الوقت خوش ہونے کا حق ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ سیاسی کشمکش کے قانونی  پہلو سے زیادہ اہم تر اس کا نفسیاتی و معاشرتی پہلو ہوتا ہے جس میں rhetoric  دلیل کے مقابلے میں زیادہ بامعنی ہوتا ہے اگرچہ یہ بات واضح ہے کہ کامن سنس رکھنے والا بھی ہر شخص اس فیصلے کی مضحکہ خیزیت پر مسکرا کر ایک طرف کھڑا ہوکر قانونی موشگافیوں میں لذت حاصل کرنے والوں کی تاویلات پر مسکرانا شروع کردیتا ہے۔ اس فیصلے اور اسکی  تاویلات کرنے والوں پر حیرت اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ جو عدلیہ ایک بغاوت کرنے والے کے حق بغاوت کو "بارہ صفر" کی اکثریت سے قانونا جائز قرار ے سکتی ہو وہ آخر "پانچ صفر" کی اکثریت سے جمہوری وزیر اعظم کو ایک مضحکہ خیز بنیاد پر "تاحیات غیر صادق و امین" قرار دے کر "انصاف کا بول بالا" کیوں نہیں کرسکتی؟
باقی ہمیں فی الحال اس بات پر کچھ عرض نہیں کرنا کہ اس سب کا مقصد کیا ہے کیونکہ اس پر پہلے بھی بہت کچھ کہا جاچکا ہے کہ پس پشت مقصد "سبق سکھانا" ہے۔ مگر اس طرح کے سبق سکھانے والے یاد رکھیں کہ ان طریقوں سے آج تک کسی لیڈر کا سیاسی کیرئیر ختم نہیں کیا جاسکا یہاں تک کہ ان کا بھی نہیں جنہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ رہیں کچھ احباب کی یہ باتیں کہ "اب احتساب کا عمل شروع ہوگیا ہے جسے جاری رہنا چاہئے، بدعنوان پکڑا گیا ہے، انصاف کی فتح ہوئی وغیرہ"، تو ان باتوں کو 1977 سے لے کر اب تک کی ہر قسط میں اپنے اپنے حصے کے "نابغہ" ہمیشہ میسر آتے رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ اسی سلسلے کا تسلسل ہے جس کا مقصد ایک مخصوص گروہ کی بالادستی  برقرار رکھنے کے لئے نیشنل لیڈرشپ کو سائیڈ لائن کرنا رہا ہے اور بس۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو اس جوڈیشل واردات کے لئے بطور کھلونا استعمال کیا جانا بھی کوئی نہیں بات نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *