عمران کی کرپشن

usman ghazi

عمران خان خیبرپختونخوا کو بیچ کر کھاجائیں مگر ان کی کرپشن پر اس لیے سوال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں ہیں جبکہ وہ چار سال سے خیبرپختونخوا کے حکمران ہیں۔

خان صاحب آف شور کمپنیاں بنائیں، منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام ہوجائیں مگر کوئی ان پر سوال نہیں اٹھاسکتا کیونکہ وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں ہیں۔

زکوٰۃ پبلک کا پیسہ ہے اور کسی ٹرسٹ کا ذمہ دار ہونا ایک پبلک آفس ہولڈر ہونا ہے، اسی طرح سیاسی جماعت میں آنے والی فنڈنگ عوام کا پیسہ ہے اور اس سیاسی جماعت کا سربراہ ہونا پبلک آفس ہولڈر ہونا ہے، رکن اسمبلی ہونا پبلک آفس ہولڈر ہونا ہے مگر عمران خان سے سوال ایک ایسے شخص سے سوال ہے جو پبلک آفس ہولڈر نہیں ہے۔

عمران خان کا بنی گالا کی منی ٹریل دینا یا نہ دینا ایک ضمنی معاملہ ہے، یہ بھی ایک ذیلی معاملہ ہے کہ عمران خان نے لندن میں فلیٹ کیسے خریدا، اصل معاملہ یہ درپیش ہے کہ عمران خان کا رہن سہن ان کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جب عمران خان سے اس مطابقت کو ثابت کرنے کا کہا گیا تو موصوف نے کہا کہ انہوں نے کرکٹ کی آمدنی سے محل کھڑا کرلیا اور وہ کرکٹ کی آمدنی ثابت نہیں کرپائے۔

عمران خان اگر یہ منی ٹریل ثابت نہیں کرپائے تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ انہوں نے ہماری اور آپ کی زکوۃ کا پیسہ کھایا، ہم عوام نے انہیں سیاسی مقاصد کے لیے جو فنڈز انہیں دیئے، وہ عمران خان نے اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے، یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے شریف خاندان پر ٹیکس چوری اور قرضہ معاف کرانے کے الزامات ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے پبلک آفس ہولڈر کی بات مسلسل کہنا کوئی سوشل میڈیائی اصطلاح نہیں ہے، یہ خان صاحب کے بچ جانے کی ترکیب ہے، نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 اے 5 کے تحت پبلک آفس ہولڈر یا کوئی اور شخص جب آمدنی سے بڑھ کر ذرائع رکھے گا یا اس کا رہن سہن معلوم آمدنی سے مطابقت نہیں رکھے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے کرپشن کی ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنے رہن سہن یا اثاثہ جات کا قانونی ذرائع سے ہونا ثابت کردے۔

جب حسین اور حسن نواز کو بچانے کے لیے وکیل سلمان اکرم راجہ نے نیب آرڈیننس کی اس دفعہ کا سہارا لیا تو سپریم کورٹ کے ریمارکس تھے کہ یہ قانون صرف پبلک آفس ہولڈر کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ دیگر اشخاص پر بھی لاگو ہوتا ہے کیونکہ اس میں پبلک آفس ہولڈر یا کوئی اور شخص کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

اول تو یہ کہ ٹرسٹ اور سیاسی جماعت کی سربراہی کی وجہ سے عمران خان پبلک آفس ہولڈر کی اسٹینڈرڈ تعریف پر پورا اترتے ہیں تاہم اگر ان کے وکلا کسی طرح یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں ہیں تو بھی حسین اور حسن نواز کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کا بچنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے، عمران خان کے بچنے کی صرف ایک صورت ہے کہ قانون دہرے معیار کا مظاہرہ کرے اور قانون کے اس دہرے معیار کے ساتھ یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ نشانہ صرف نوازشریف کی ذات تھی، کرپشن نہیں۔

عمران خان کی کرپشن کا مقدمہ ایک ٹیسٹ کیس ہے، یہ ثابت کرے گا کہ ہمارے ادارے کسی فرد یا خاندان کے خلاف تھے یا واقعی وہ کرپشن کے خاتمے کے اقدامات میں سنجیدہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *