انتہا پسندی کی عیاں اور پنہاں حرکیات

ڈاکٹر عائشہ صدیقہayesha

جب تیزی سے واقعات پیش آنا شروع ہوجاتے ہیں تو ذہن چکرا کر رہ جاتا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہم ایک نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں جسے انتہا پسندوں کے چنگل سے تقریباً آزاد کرا لیا گیا ہے۔ اچانک انسدادِ دھشت گردی کی عدالتوں نے تیزی سے کام کرنا شروع کردیا،دھشت گردوں کو سزا دینے کے لیے فوجی عدالتیں قائم ہوگئیں اور واشگاف انداز میں یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اب تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سول سوسائٹی کے احتجاج کرنے والے افراد، جو بمشکل ایک درجن کے لگ بھگ ہوتے تھے، کی تعداد اب بڑھ کر چند سو تک جا پہنچی ہے۔اسی دوران سول سوسائٹی کے افراد کے پاس کیش کی رسد بھی دکھائی دیتی ہے اور وہ ملک بھر میں سفر کرتے ہوئے تشدد کو برداشت نہ کرنے کا درس دیتے سنائی دیتے ہیں۔ ماضی کے برعکس ، اب مذہبی رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج ہوسکتے ہیں اور توقع کی جاسکتی ہے کچھ نہ کچھ کارروائی بھی دیکھنے میں آئے گی۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دھمکیوں کے باوجود سول سوسائٹی کو اب انتہا پسندوں کا کوئی خوف نہیں۔ جہاں تک لوکل جہادی تنظیموں کا تعلق ہے تو ہم سکون بھرے سانس میں کہہ سکتے ہیں، جیسا کہ عوامی سطح پر دانشور قرار پانے والے ایک مشہور اینکر نے بھارت میں انٹر ویو دیتے ہوئے کہا ، کہ ان جہادیوں سے کہہ دیا ہے کہ وہ اب اپنی دوکان بند کرکے فلاحی کام شروع کردیں۔ اب فوج بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے اور تمام مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ یہ سب کچھ کانوں کو بہت بھلامعلوم ہوتا ہے.... اتنا بھلا کہ جو کچھ نہیں ہورہا اور جو کچھ دکھائی نہیں دے رہا،لوگ اُس پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ایک اہم بات ہے۔
کیا ہم یہ سمجھیں کہ اب چیزیں تبدیلی ہوگئی ہیں؟ کئی برسوں سے پھیلایا جانے والے جہاد ی کلچر اور کی جانے والی برین واشنگ نے معاشرے کو انتہا پسند ی کا آتش فشاں بنا دیا ہے۔ جہادی کلچر کی بنیاد انتہا پسندی پر ہے ، لیکن اسّی کی دہائی میں معاشرے میں سرائیت کرجانے والے جہادی کلچر سے بہت پہلے ہمارے ادارے بتدریج بنیادپرستی کی طرف مائل ہوتے جارہے تھے۔ اس بنیاد پرستی کا تصور مذہب کی اپنے طریقے سے کی جانے والی من پسند تشریح پر مبنی ہے، اس تشریح میں کوئی لچک نہیں ہوتی اور نہ ہی تبادلہ خیال کی گنجائش ہوتی ہے۔ معاشرے کو اس بنیاد پرستی اور انتہا ئی نظریات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا اور کسی کو اس کے خلاف بات بھی کرنے کی اجازت نہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں ملک کی ایک ’’مقبول جہادی تنظیم ‘‘ کے اہم عہدیدار نے غامدی اور مولانا وحدالدین کو احمدی اور بھارتی ساز ش کے مہرے قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ریاستی اداروں میں بنیادپرستی کے سرائیت کرجانا ایک حقیقت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ 1999 کے ابتدائی ماہ میں اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ، جنرل محمود ، نے ایک امریکی وفد کو بتایا کہ تقریباً پندرہ سے سولا فیصد افسران انتہاپسندی کے رجحانات رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تصور یہ بھی پھیلایا گیا کہ نچلے درجے کے سپاہی اور جونیئر افسران اسلام کے مجاہد ہیں۔ اعلیٰ افسران کی طرف سے اس سوچ کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اب اس موضوع پر مکمل سکوت ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ قائل ہوجائیں کہ جو بیانیہ انہیں پہلے ذہن نشیں کرایا گیا تھا، وہ غلط تھا اور پشاور واقعے کے بعد باور کرایا جانے والا بیانیہ درست ہے ، حالانکہ پہلے بھی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری تھا اور پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی تھی؟اگر ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات پر یقین کرلیا جائے تو پشاور واقعے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر انتہا پسندانہ ذہنیت اپنے سابقہ تصورات سے کیسے دست بردار ہوگی؟
یہ بات کرنے کا مقصد اس حقیقت کا ادراک ہے کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سامنے حقیقی چیلنج کیا ہے۔ دونوں بلاشبہ اعلیٰ تربیت یافتہ پیشہ ور افسران ہیں۔ اُنہیں اپنے ادارے کی تاریخ سے بھی گہری واقفیت ہے اور وہ یقیناًجانتے ہوں گے کہ اس ادارے میں نظریاتی بگاڑ کس حد تک ہے۔ تاہم یہ دونوں افسران پہلے نہیں جو فوج کو انتہا پسندی سے پاک یا بھارت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ان سے پہلے جنرل(ر) مشرف نے بھی یہ دونوں کام کرنا چاہے تھے، تاہم اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا چشم کشا باب ہے۔ ان کے بعد جنرل کیانی کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جاتارہا، لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ بنیاد پرست ہر گز نہ تھے۔ اس بات کا علم ہمیں بہت بعد میں ہوا تھا کہ بہت سے جنرلوں نے مشرف کے انڈیا پلان کو منظور نہیں کیا تھا۔ یقیناًعوام کو اس پر کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن پھر پلان اور مشرف کے ساتھ معاملات بگڑ تے چلے گئے۔ کیا یہ سب کچھ محض اتفاق تھا؟
انتہا پسندی ایک بجلی کی تار کی طرح ہے جس نے ریاست اور معاشرے کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ پاکستان کے حالات پر نظر دوڑانے سے علم ہوجاتا ہے کہ جب بھی درکار ہو، یہ تشدد کو تحریک دیتی ہے۔ خیبر پختونخواہ ، جو جغرافیائی قربت کی وجہ سے جنگ کی شدید تمازت محسوس کررہا تھا، کے علاوہ دیگر حصوں میں ہونے والے تشدد کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔چند دفاعی اہداف، مزارات اور مختلف فرقوں کی عبادت گاہوں کے علاوہ کیے جانے والے دیگر حملے پشاور واقعے سے کم شدت رکھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حملے سنگین نہیں تھے، لیکن اُنہیں پریشان کن تو سمجھا گیا لیکن ریاست کے لیے خطرے سے تعبیر نہ کیا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ یہ کیفیت بہت دیر تک جاری رہی۔ کچھ پولیس افسران ، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ انتہا پسند تنظیمیوں کی قیادت یا پھر دیگر علاقوں میں اہلِ تشیع کی قیادت کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، ابھی تک اپنے اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انتہا پسندوں کے ساتھ نباہ کررہے ہوں اور بہت کم چانس ہے کہ وہ ان کے ہم عقیدہ ہوں، لیکن فوری طور پر اس مسلے کا حل تلاش کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح شدید خیالات رکھنے والی تبلیغی تنظیموں کو کینٹ کے علاقے میں تبلیغ کی میسر سہولت پر نظرِ ثانی کی جائے۔ اس مسلے کو سیکولرازم یا دین پرستی کے آئینے میں نہیں بلکہ حقائق کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے کہ ماضی میں بنیاد پرست گروہوں کو تبلیغ کی اجازت کس نے دی تھی۔ اگرچہ ہم کہتے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت پشاور حملے کی مذمت کرتی ہے، لیکن ہمیں قطعی طور پر علم نہیں کہ اس کے برعکس لوگوں کی کیا تعداد ہے( ہم جانتے ہیں کہ مولانا عبدالعزیزنے اس حملے کی مذمت نہیں کی)۔
جہاں تک بنیاد پرستی کے خاتمے کے لیے شروع کیے جانے والے پروگرامز کا تعلق ہے تو اُن کا بھی قریبی جائزہ لینا چاہیے۔ میں جانتی ہوں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پنجاب پولیس کی طرف سے شروع کیے جانے والے تین پروگرامز میں سے دوجنوبی پنجاب میں تھے۔ بہت سے لوگوں کو الیکٹریشنز بننے کی تربیت دی گئی اور پھر انہیں آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے گئے تاکہ وہ اپنا کام شروع کر سکیں۔ اس کاوش سے انتہا پسندی کے نظریات رکھنے کی طرف مائل ہونے والے عام افراد کی تو اصلاح ہوگئی لیکن جن کے دل میں ایسے نظریات راسخ ہوچکے تھے، اُن پر یہ محنت بے اثر رہی۔ درحقیقت ایسے افراد نے رقم لے کر اپنے اپنے مدراس کوتوسیع دے لی یا نئے مدرسے قائم کرلیے۔ اس تجربے سے سیکھا جانے والے سبق یہ ہے کہ نظریات کی جانچ کرنے والا کوئی پیمانہ نہیں موجود نہیں۔ مزید خرابی یہ کہ اگر گوں مگوں کی کیفیت برقرار رہتی ہے تو انتہا پسندی کو مزید تقویت ملے گی۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں کے پاس کافی معلومات ہیں اور وہ اقلیتوں پر حملوں اور فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث افراد کا کھوج لگاسکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات سخت لگے لیکن حقیقت یہ کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب ریاست خون بہائے۔ یہ انتہا پسند وں کو اب سخت پیغام جانا چاہیے۔ صرف خون بہانے کے لیے نہیں، پیغام دینے کے لیے کہ اب خونریزی برداشت نہیں ہوگی۔ جہادیوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے لیکن اُس کا وقت بعد میں آئے گا، لیکن ضروری ہے کہ خاموشی سے معاشرے میں گھل مل کر وقتی طور پر غائب ہونے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *