صحافت۔ جگر کی آگ دبی ہے مگر بجھی تو نہیں!

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

یوم حمید نظامی اور یوم صحافت ایک دوسرے سے مختلف چیزیں نہیں ہیں۔ مجھے حمید نظامی مرحوم کے ساتھ کام کرنے کا موقع تو نہ ملا، مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ وہ آبروئے صحافت تھے، بلکہ انہیں اپنے دور کی صحافت کے گناہوں کا کفارہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے، ایک صاحب ضمیر صحافی بنجر ماحول میں باران رحمت ثابت ہوتا ہے چنانچہ مختلف ادوار میں بوندا باندی تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ صحافت کی کھیتی اپنوں اور غیروں نے اتنی ز یادہ اجاڑ دی ہے کہ آنکھیں ہر وقت آسمان میں بدلیاں ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ ان دنوں بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ اخبارات کے قارئین اور الیکٹرونک میڈیا کے ناظرین پوری معصومیت سے یہی سمجھتے ہیں کہ صحافت آزاد ہے اور بادی النظر میں وہ صحیح سمجھتے ہیں کیونکہ ہم سب کو کھلی آزادی حاصل ہے کہ ہم صدر مملکت ،وزیر اعظم، چیئرمین سینٹ،ا سپیکر قومی اسمبلی، وز رائے اعلیٰ ،سیاست سے وابستہ افراد اور ان کے علاوہ بھی جیسے جی چاہے، منہ بھر کر گالی دیں بلکہ ہم عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کی کردار کشی بھی کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں بھی جو جی میں آئے کہہ سکتے ہیں، کوئی ہمیں روکنے ٹوکنے والا نہیں لیکن کیا یہ صحافت کی آزادی ہے؟ نہیں یہ صحافت کی غلامی کا شاخسانہ ہے جسے آزادی صحافت کہتے ہیں وہ دور گزر چکا ہے ،میں نے وہ دور دیکھا ہے، اس دور میں کوئی صحافی قتل نہیں ہوتا تھا جبکہ’’آزادی صحافت‘‘ سے اب تک بیسوں صحافی قتل کئے جاچکے ہیں ا ور بیسوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، چنانچہ ہم لوگ اپنی عزت رکھنے کے لئے اور قارئین و ناظرین کے سامنے اپنی ’’ٹوہر‘‘ بنانے کے لئے ان تمام عمائدین کی کردار کشی کرتے ہیں جن سے ہمیں کسی قسم کا ضرر نہیں پہنچ سکتا۔
چلئے میں آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں ۔ یہ ان لطیفوں میں سے ایک ہے جو امریکہ، سوشلزم کے خلاف اپنی کوششوں کے دوران پوری دنیا میں پھیلا رہا تھا۔’’راوی‘‘ بیان کرتا ہے کہ سوشلزم کی ٹرین چلتے چلتے رک گئی تو لینن ٹرین سے باہر نکلا اور پوچھا کیا ماجرا ہے؟ بتایا گیا کہ آگے پٹری ختم ہوگئی ہے، لینن نے کہا کہ فکر مت کرو اور نئی پٹری بچھائو چنانچہ سوشلزم کی ٹرین دوبارہ روانہ ہوگئی، کچھ عرصے بعد ٹرین ایک بار پھر رگ گئی تو ا سٹالن ٹرین سے باہر آیا اور ماجرا پوچھا تو بتایا گیا کہ آگے پٹری ختم ہوگئی ہے۔ یہ سن کر اسٹالن نے پستول نکالا اور یہ جواب دینے والے کو وہیں ڈھیر کردیا۔ ٹرین ایک بار پھر چلی مگر تھوڑی دیر بعد پھر اچانک رک گئی، اس بار خروشچیف باہر آیا اور معاملہ دریافت کیا،بتایا گیا کہ آگے پٹری ختم ہوگئی ہے، خروشچیف نے کہا’’کوئی بات نہیں، پچھلی پٹری آگے بچھا کر کام چلائو‘‘ چنانچہ ٹرین ایک دفعہ پھر چل پڑی۔ اسی طرح کی صورتحال میں بزرنیف باہر آبا،اسے بھی بتایا گیا کہ آگے پٹری ختم ہوگئی ہے، بزرنیف نے کہا کوئی بات نہیں ،آدھے مسافروں سے کہو کہ وہ گاڑی سے باہر آجائیں اور کھڑکیوں کے پردے گراکر ٹرین کو زور زور سے ہچکولے دیں تاکہ اندر بیٹھے مسافروں کو یہ تاثر ملے کہ گاڑی چل رہی ہے‘‘۔ سوایسا ہی کیا گیا تو میر ےقارئین اور ناظرین ہم نے بھی آج کل صحافت کی گاڑی کے پردے گرائے ہوئے ہیں اور آپ باہر کھڑے یہی سمجھ رہے ہیں کہ صحافت کی گاڑی چل رہی ہے....سوری فار دس فراڈ۔
اب آپ اس موقع پر مجھ سے ایک نامناسب سا سوال بھی پوچھ سکتے ہیں اور وہ یہ کہ آپ صحافت کو غلام قرار دے رہے ہیں مگر اس کی کوئی مثال نہیں دے رہے تو جناب والا! اگر صحافت کسی ایک نہیں بلکہ دس بارہ مختلف زور آور طبقوں کی غلام نہ ہوتی تو آپ کو یہ سوال کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ میں آپ کو ایک نہیں، اتنی ہی مثالیں دے سکتا تھا جتنے زور آور طبقے ہیں اور جنہوں نے ہمارے قلم اپنے پاس رہن رکھے ہوئے ہیں۔ کراچی میں ایک شخص میر شکیل الرحمان نامی رہتا ہے جو ایک’’چھوٹے سے اخبار‘‘ جنگ اور ایک ’’چھوٹے سے ٹی وی چینل‘‘ جیو کا مالک ہے۔ ہمارے مذہبی رہنمائوں نے جیو کے ایک غیر اہم پروگرام میں ہونے والی ایک غلطی کو بار بار معافی مانگنے کے باوجود معاف نہ کیا حالانکہ میر شکیل الرحمان کا اس کمپنی اور پروگرام سے سرے سے کوئی تعلق بھی نہ تھا، شاید کوئی غلطی اس کے علاوہ بھی تھی، مگر سزا کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، تاہم یہاں ایک وضاحت ضروری ہے خود صحافت میں بھی’’شیدا پستول‘‘ قسم کے کچھ لوگ داخل ہوچکے ہیں جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بہت ترقی کی ہے۔ یہ صحافت کا بھتہ گروپ ہے، کسی زمانے میں ان کا بھتہ بس اتنا ہی ہوتا تھا کہ وہ بھتے کے طور پر آٹا تک قبول کرلیتے تھے، مگر اب تو کئی ادارے ان کے ’’رازق‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ ایک نامور کالم نگار نے اپنے صوبے کے انفارمیشن سیکرٹری کو فون کیا کہ جناب! میں حج پر جارہا ہوں ،براہ کرم میرا ماہانہ پیشگی ادا کرکے ثواب دارین حاصل کریں۔ ہمارے صحافت کے بڑوں نے ان’’شیدا پستول‘‘ قسم کے صحافیوں پر کسی قسم کا کوئی ضابطہ اخلاق لاگو نہیں کیا حالانکہ مجھے یاد ہے بچپن میں جب ہم کوئی چیز خریدنے دکاندار کے پاس جاتے اور اسے پانچ پیسے کا سکہ (آنہ) دیتے تو وہ ایک آدھ منٹ کبھی اپنی ایک آنکھ اور کبھی دوسری آنکھ کو مختلف زاویوں سے گھما پھرا کر اسے چیک کرتا تھا کیونکہ یار لوگوں نے ایک آنے کے کونے گھسا گھسا کر اسے چونی میں تبدیل کیا ہوتا تھا، بہرحال دکاندار پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد سکے کو اپنے’’گلے‘‘ میں ڈالتا اور مطلوبہ چیز فراہم کرتا تھا، تو گویا ایک وقت تک جب ایک آنہ بھی پرکھا جاتا تھا اور اب یہ وقت ہے کہ کسی کو صحافت کے ایوان میں داخل ہونے سے پہلے بھی پرکھا نہیں جاتا......میرے خیال میں اس ایوان کے دروازے پر انہیں ڈیٹیکٹر سے گزارا جانا چاہئے پھر آپ دیکھیں ان کے ا ندر سے کیسی کیسی مخفی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
خواتین و حضرات! مجھے لگتا ہے کہ میں نے صورتحال کی تصویر کچھ زیادہ ہی گمبھیر پیش کردی ہے لہٰذا گھبرا ئیں نہیں اس نہایت تکلیف دہ صورتحال میں بھی ہمارے درمیان کم از کم دس بارہ صف ا ول کے ایسے صحافی موجود ہیں جو اپنی کشتیاں جلا کے بیٹھے ہیں۔ ساری کشتیاں تو نہیں، دو چار بچا کر بھی رکھی ہوئی ہیں کہ وہ جانتے ہیں بعد میں کسی کو رونے کی اجازت بھی نہیں ملنی ....میں چاہوں تو یہ پوری لسٹ یہاں درج کرسکتا ہوں مگر اس تفصیل میں جانے کی بجائے یہ صرف جان لیں کہ حمید نظامی سے پہلے ،ان کے دور میں اور ان کے بعد سے شکیل الرحمان تک آزادی صحافت کا بھرم رکھنے والے لوگ بہرحال موجود رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں.... صحافت کے جن ستاروں کا خون ہوتا ہے صبح کے آثار بھی وہیں سے پھوٹتے ہیں۔ میں اپنی بات آپ کو صرف یہ دو اشعار سنا کر ختم کررہا ہوں، اس کے بعد مجھے اجازت دیں
ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں
جگر کی آگ دبی ہے مگر بجھی تو نہیں
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسرمیداں مگر جھکی تو نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *