میں نے جمہوریت کو قتل نہیں کیا

asghar nadeem syed.

مجھے بتایا گیا ہے کہ جمہوریت کو پاکستان میں کئی بار قتل کیا گیا ہے ۔ ہر قتل کے بعد جمہوریت کے مردہ جسم میں بڑی جدوجہد کے بعد روح ڈالی جاتی ہے اور جب وہ ذرا سی صحت مند ہونے لگتی ہے تو پھر اسے قتل کر دیا جاتا ہے ۔ کون ایسا کرتا ہے میں تو اپنی صفائی دیتا ہوں کہ میں نے جمہوریت کو قتل نہیں کیا میں کیسے کر سکتا ہوں کیونکہ میں جمہور ہوں ۔ علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا ۔۔۔

آزادی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

اب یہ لائسنس مجھے علامہ صاحب نے دے دیا ہے کہ میں پرانے نقوش مٹا دوں تاکہ پھر کوئی جمہوریت کو قتل کرنے کی جرات نہ کرے ۔ مگر میں پرانے نقوش کیسے مٹاؤں گا۔ جمہوریت کو قتل کرنے والے مجھ سے پوچھ کر تو نہیں آتے ۔ انہیں میں تو مٹا نہیں سکتا لیکن یہ بھی تو دیکھنا ہوگا کہ جمہوریت کو قتل کون کرتا ہے ۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جمہوریت اتنی نازک اور بے بس کیوں ہے کہ اسے آسانی سے قتل کر دیا جاتا ہے ۔ صاحبو یہ بڑی غور طلب بات ہے ۔ کیا جمہوریت ایسی کوئی رضیہ ہے جو خود بخود غنڈوں میں گھر جاتی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ غنڈے کون ہیں اور یہ غنڈے صرف رضیہ کو کیوں گھیر لیتے ہیں ۔ رضیہ اور غنڈوں کی یہ کوئی ملی بھگت تو نہیں کہ جمہوریت کو قتل ہونے میں مزہ آنے لگا ہے اور وہ ہر بار رضیہ کی طرح غنڈوں میں گھر جاتی ہے ۔ رکیں اس پر غور کرتے ہیں ۔ کبھی کبھی بار بار ہونے والے کام سے مزہ آنے لگتا ہے تو کیا جمہوریت کو قتل کا جسکا لگ گیا ہے آج اس کا سراغ لگاتے ہیں ۔

جمہوریت کو آج ستر سال ہو چکے ہیں ۔ ٹھہریں جمہوریت ستر سال کی نہیں ہوئی ہمارا وطن عزیز ستر سال کا ہوا ہے ۔ اسی چودہ اگست کو ہم ستر سال منائیں گے آزادی کے نہیں  ۔ قیام کے ستر سال آزادی انڈٰا کو ملی تھی ہمیں نہیں ۔ ہمارا تو قیام عمل میں آیا تھا ۔ خیر اسے چھوڑیں ان ستر سالوں میں جمہوریت کو کئی بار بے دردی سے قتل کیا گیا اور ہر بار قاتل کا ایک ہی نام لیا گیا کیا وہی قاتل ہے جمہوریت کا یا کچھ اور چھپے ہوئے ہاتھ بھی ہیں ۔ اس تفتیش کو مکمل ہونا چاہئیے اس کے لئے معلوم کرنا ضروری ہے کہ جمہوریت ہے کیا ۔ کہا گیا تھا کہ

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

یہ بھی حضرت علامہ کا شعر ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ جمہوریت میں یہ نہیں دیکھتے کہ کون ووٹ ڈال رہا ہے صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کتنوں نے ووٹ ڈالا اب یہاں جمہوریت کو اغوا کیا گیا اس کی بے حرمتی کی گئی اور پھر اسے کئی بار قتل ہونے دیا گیا ۔ وہ ایسے کہ کاش اگر پہلے ہی دن یہ طے کر دیا جاتا کہ ووٹ ڈالنے والوں کو گننا نہیں تولنا ہے تو شاید جمہوریت قتل نہ ہوتی اب ووٹ ڈالنے والے کون لوگ ہوتے ہیں لو جی مسئلہ حل ہو جائے گا ووٹ ڈالنے والے سادہ قسم کے انسان ہوتے ہیں جنہیں لاؤڈ سپیکر سے بھونپوں سے ، انکی مجبوریوں سے ، انکے خوابوں سے ، انکی خواہشوں سے ، انکی ضرورتوں سے اور انکے گھروں سے راتوں رات اٹھا لیا جاتا ہے ۔ علامہ محمد اقبال نے اپنے وژن کے ذریعے یہ بات سمجھ لی تھی

ایک ہجوم بے کراں بے مہار ۔ بے خیال چل پڑتا ہے اور ٹھپے پہ ٹھپہ لگا دیتا ہے اپنی دیہاڑی اور اپنی بریانی ایک وقت کی وصول کرکے اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جاتا ہے اس حوالے سے ووٹروں کو لانے والے بے شمار ایجنٹ پیدا ہو چکے ہوتے ہیں یہ ایجنٹ تحصیل دار ، پٹواری ، تھانیدار ، مقامی کونسلر ، مقامی چوہدری ، مقامی وڈیرہ ، مقامی خاندانی سربراہ ہو سکتا ہے تو پھر یہ ووٹ ڈالنے والے تو جمہوریت کے قاتل نہیں ہیں اب ہمیں ذرا غور کرنا پڑے گا کیا ایسے ملک میں جہاں شرح خواندگی 10 ، 12 فیصد ہو جمہور کو ووٹ ڈالنے کا حق دینا چاہئیے کیونکہ امیر کبیر لوگ ان سے یہ ووٹ چھین بھی تو سکتے ہیں ۔ ایسے میں پھر خیال آیا کہ کس نے یہ قانون بنایا ۔ یہ تو گورے کا قانون تھا ۔ گورا چلا گیا ۔ قانون رہ گیا ۔ ویسے قانون تو برا نہیں ہے آخر جمہور ہی کی آواز کو آگے جانا چاہئیے تو پھر قانون کا استعمال غلط ہو رہا ہے؟ کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔

میں اس پر بہت غور کرتا رہا ہوں کہ جمہوریت جمہوریت کھیلنے والوں نے بھی اس کھیل کے اصولوں سے بہت ٹیمپرنگ کی ہے ۔ اپنی مرضی کے اصول بنا لئیے مثلاً یہ کہ جمہوریت کی بقا اس میں ہے کہ بھائی کی جگہ بھائی کھیلے گا وہ نہ کھیل سکا تو بیٹا کھیلے گا اور اگر کوئی خاندان کا فرد نہ کھیل سکا تو یہ کھیل ہی بند کرنا پڑے گا ۔ کیا جمہوریت کو خود جمہوریت نے تو قتل نہیں کیا ۔ سچ بات ہے میں بہت کنفیوز ہوں جمہوریت جمہوریت کھیلنے والے ایک دوسرے کا ناڑا کیوں کھینچتے ہیں ۔ اس سے بھی بڑا سوال ہے کہ وہ اپنے لئے جو رولز آف گیم پسند کرتے ہیں وہ دوسرے کے لئے نہیں کرتے ۔ ایسے میں اب جمہوریت کو پہچاننا مشکل ہو رہا ہے ۔ پھر بھی میں تلاش میں ہوں کہ جمہوریت کو قتل کون کرتا ہے ۔ کم سے کم میں ان میں شامل نہیں ہوں ۔ اس لئے کہ میں عام آدمی ہوں اور جمہوریت کے گیسو سنوارنے والے میرے جیسے تمام لوگ نہیں ہوتے ۔ وہ اسمبلیوں میں پہنچنے والے ایسے بڑے بڑے راج دلارے ہوتے ہیں کہ جن کو خود نہیں پتہ ان کی دولت کہاں کہاں پڑی ہے اور کیسے ملک سے باہر گئی ہے اور کیسے انہوں نے عرب ملکوں میں کمپنیاں پھیلا کر اقامے حاصل کئیے ہیں یہ لوگ کیسے اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پھر پہنچ کر اپنی ہی جمہوریت پر وار شروع کر دیتے ہیں اداروں کو لڑاتے ہیں ان سے لڑتے ہوئے لہو لہان ہو جاتے ہیں کیا یہی تو وہ غنڈے نہیں جو ہر دوسرے تیسرے سال رضیہ کو گھیر لیتے ہیں ۔

میں نے خود سے سوال کیا میں اسمبلی میں کیوں نہیں پہنچ سکتا ۔ میرے پاس تو اقامہ بھی نہیں ہے ۔ ٹیکس بھی باقاعدگی سے دیتا ہوں ۔ ہاں یاد آیا دوستو میں ہر سال جو ٹیکس دیتا ہوں ہماری اسمبلی کے ستر فیصد ممبران اس سے کم ٹیکس دیتے ہیں ۔ صاحبو میں اس ہاتھ کی تلاش میں ہوں جو جمہوریت کو قتل کر دیتا ہے ۔ میں اس آدمی کی تلاش میں ہوں جس نے پاکستان بننے کے بعد پہلی بار رشوت لی جس نے پہلی بار قانون توڑا ۔ جس نے پہلی بار کرپشن کی ۔ جس نے پہلی بار انسانی حقوق غصب کرنے کی ابتداء کی ۔ جس نے پہلی بار قوم سے جھوٹ بولا جس نے پہلی بار معاشرے کی اینٹ ٹیڑھی رکھی ۔ میری تلاش جاری رہے گی کیونکہ کم سے کم میں نے جمہوریت کو قتل نہیں کیا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *