یہ اپنی ہی دھرتی کو کس طرح لوٹ رہے ہیں 

Mrs Jamshed Khakwani

2013میں نواز حکومت بننے کے کچھ عرصے بعد حکومت نے ایل این جی امپورٹ کا پروجیکٹ لانچ کیا جس میں تکنیکی اعتبار سے سوئی سدرن،سوئی نادرن،پی ایس او،اور انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز نامی کمپنیوں کی شرکت ضروری تھی ۔ایل این جی امپورٹ کرنے سے پہلے فیصلہ کیا گیا کہ کراچی پورٹ پر ایل این جی سٹور کرنے کا ٹرمینل کرائے پر لیا جائے اوراس کے لیے نواز شریف کے ذاتی دوست سیٹھ داؤد کی کمپنی اینگرو کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا جس کے مطابق اسے ہر روز 2لاکھ 72ہزار ڈالرز (تقریبا تین کروڑ روپے روزانہ)کرائے کی مد میں ادا ہونے تھے چاہے اس کا ٹرمینل استعمال ہو یا نہ ہو ،یہ معاہدہ کرنے کے لیے سوئی سدرن کو پریشرائز کیا گیا جس کے ایم ڈی نے پہلے تو انکار کیا پھر وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے اسے تسلی دی کہ وہ معاہدہ سائن کر لے کرائے کی ادائیگی پی ایس او کر دیا کرے گا معاہدہ سائن ہو گیا اور اسی دن سے سیٹھ داؤد کو تین کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے ملنا شروع ہو گئے پھر اس کے بعد پی ایس او کی منیجمنٹ سے کہا گیا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی گیس کی قلت کے پیش نظر قطر سے ہنگامی بنیادوں پر ایل این جی امپورٹ کرے پی ایس او چونکہ پبلک لیمٹڈ کمپنی ہے اس لیے قوائد کی رو سے اس کے ایم ڈی نے اپنے بورڈ کی رضامندی کے بغیر ایسا کوئی کام کرنے سے انکار کر دیا جب پی ایس او نے انکار کر دیا تو وزارت پیٹرولیم نے اسے ریگولر پے منٹس کی ادائیگی بند کر دی جونہی حکومت کی طرف سے پے منٹ ملنا بند ہوئی پی ایس او نے ملک میں پیٹرول کی سپلائی معطل کر دی یہ وہی وقت تھا جب نواز حکومت کی تیسری ٹرم کے کچھ عرصہ بعدپیٹرول کا خوفناک بحران کھڑا ہو گیا تھا اور چند دن کے لیے پورے ملک میں پیٹرول ملنا بند ہو گیا تھا یہ بحران حکومت کا اپنا پیدا کردہ تھا جب میڈیا اور عوام کا پریشر پڑا تو تو وذارت پیٹرولیم نے اس بحران کا ذمہ دار پی ایس او کو گردانتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرکے اس کے ایم ڈی اور بورڈ آف ڈاریکٹر زکوبرخاست کر دیا پھر وزیر پیٹرولیم نے شاہد اسلام نامی شخص کو پی ایس او کا ایم ڈی لگا دیا اور اسے بورڈ کی اتھارٹی بھی تفویض کر دی
جو کارپوریٹ سیکٹر کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا شاہد اسلام نے چارج سنبھالتے ہی قطر کی ایک پرائیویٹ کمپنی ’’کیو تھری ‘‘سے ہوش ربا ریٹس پر مہنگی ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا اور اربوں روپے کی مالیت کی ایل این جی آرڈر کر دی چونکہ یہ خریداری قوانین کے بر خلاف تھی اور پروکیورز منٹ کے رولز پر پورا نہیں اترتی تھی اس لیے اوگرا کا ایکشن لیے جانا یقینی تھا وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے پاس اس کا بھی حل موجود تھا اس نے فوری طور پر اوگرا کے چیئرمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا اور اوگرا کے بورڈ ممبران کی تقرری التوا میں ڈال دی جس سے اوگرا کے بورڈ کا کورم پورا نہ ہو سکا اور وہ پی ایس او کی جانب سے غیر قانونی مہنگے داموں ایل این جی کی فروخت پر اپنا اجلاس بلا کر کاروائی نہ کر سکی
یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے سوئی ناردرن کے ایم ڈی نے ایل این جی ٹرمینل کانٹریکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس کی پاساش میں شاہد خاقان عباسی نے اسے بھی نوکری سے نکال کر نیا ایم ڈی اپوائنٹ کروا دیا اوگرا نے پی ایس او کو ایک لیٹر جاری کر دیا جس میں اسے ایل این جی کی غیر قانونی خرید اور اس کی قیمت کا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کو کہا معاملہ خراب ہوتے دیکھ کر پی ایس او پر شیئرز ہولڈر ز پر دباؤ پڑا تو اس نے جواب میں کہہ دیا کہ ایل این جی کی خریداری وزارت پیٹرولیم کے کہنے پر کی ،معاملہ میڈیا تک آیا اور وہاں سے ہوتا ہوا نیب تک پہنچا جب وزارت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے نیب کے ڈر سے اس کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی ایل این جی کی پے منٹس پھنس کر رہ گئیں اور کوئی فریق بھی زمہ داری اٹھانے کو تیار نہ ہوا مجموعی طور پر 200 ارب روپے کی ا یل این جی کا آرڈر قطر گیا جس کی ادائیگی آپ ٹیکس دھندگان کی جیب سے یعنی قومی خزانے سے کی گئی اب میں ان کو قومی مجرم کیسے نہ کہوں؟اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے دوست سیٹھ داؤد کو بھی تین کروڑ روپیہ ہر روز بغیر کسی ناغے کے ادا ہونا شروع ہو گیا باوجود اس کے کہ اس کا ٹرمینل شائد ایک سال میں حکومت نے دس فیصد بھی استعمال نہ کیا ہو آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ شاہد خاقان عباسی نے جس شاہد اسلام کو پی ایس او کا ایم ڈی لگایا تھا یہ وہی شاہد اسلام تھا جو 1997میں پی آئی اے کا چیف فنانشل آفیسرہوا کرتا تھا اور شاہد خاقان عباسی خود اس وقت پی آئی اے کا چیئرمین تھا دونوں نے مل کر پی آئی اے کو اربوں کا نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے مشرف نے ان دونوں کو جیل میں ڈال دیا تھا 2003 میں جب شاہد خاقان عباسی نے ’’ ایئربلو‘‘ نامی ایئر لائن شروع کی تو اس کا پارٹنر بھی شاہد اسلام ہی تھا یعنی یہ دونوں پارٹران کرائم تھے بس۔۔۔
حضور یہ ہیں وہ ذرائع جن کی وجہ سے ایک طرف قومی خزانے کو دو سو ارب روپے کا چونا لگایا گیا دوسری طرف سیٹھ داؤد کو تین کروڑ روپے روزانہ ٹرمینل کے کرائے کے دے کر اس میں سے آدھی سے زیادہ رقم اپنا کمیشن وصول کیا گیا آخری بات بھی سن لیں قطر کی جس کمپنی سے دو سو ارب روپے کی ایل این جی مہنگے داموں خریدی گئی اس کا شیئر ہولڈر وہی قطری پرنس ہے جس کا خط لے کر نواز شریف نے بے شرمی کی داستان لکھی تھی یہ ہے کردار اس ’’صادق و امین‘‘ نواز شریف کا اور یہ رہا کردار اس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا جو میاں صاحب اس قوم پر مسلط کرنے جا رہے ہیں ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے یہ تو اپنی ہی دھرتی کو لے ڈوبے ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *