دنیا کا سارا ڈیٹا ڈی این اے کی چمچ جتنی ڈرائیو میں سما سکتا ہے: تحقیق

DNA باوجود اس کے کہ یہ تاثر اب بہت تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے کہ انسانیت خود کو زمین کے چہرے سے مٹانے کے درپے ہے، مگر اس بات کا امکان بہرنوع موجود ہے کہ ہماری تخلیقات شاید ہمیشہ زندہ رہیں۔ سرورز، ہارڈڈرائیوز، فلیش ڈرائیوزاور ڈسکس بے توقیر ہو جائیں گی(بالکل اسی طرح جیسے ہماری کتابیں اور لائبریریاں تقریباً بے کار ہو چکی ہیں)۔ لیکن سوئس فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کے ایک گروہ نے ڈی این اے پر کوڈ کرنے کا ایک طریقہ معلوم کیا ہے جو ہزاروں سال تک برقرار رہ سکے گا۔
سوئس سائنٹفک جرنل، ’’نیو سائنٹسٹ‘‘کے مطابق، ایک گرام ڈی این اے ممکنہ طور پر455ایگزابائٹس موادمحفوظ رکھ سکتا ہے۔ جرنل کے مطابق، ’’ایک ایگزابائٹ میں ایک بلین گیگا بائٹس ہوتے ہیں اور 1زیٹابائٹ میں 1000ایگزابائٹ ہوتے ہیں۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنی ای ایم سی نے اندازہ لگایا ہے کہ 2011ء میں دنیا میں مجموعی طور پر 1.8زیٹابائٹس موادموجود تھاجس کا مطلب ہے کہ ہمیں پلیٹو سے لے کر شیکسپیئر تک اور شیکسپیئر سے لے کر بیونسے کے آخری ایلبم تک کے سارے کام کو محفوظ کرنے کیلئے تقریباً صرف 4گرام ڈی این اے کی ضرورت ہو گی (خواہ بیونسے اپنے کام کے ساتھ ساتھ ہر برنچ پر کھینچی اور انسٹاگرام پر پوسٹ کی ہوئی اپنی تصاویر بھی اپ لوڈ کر دے)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *