زندگی کی حقیقت میں اپنوں کاکردار

قرۃ العین

qurat-ul-ain

لفظ زندگی بہت چھوٹا اور معمولی ظاہر ہوتاہے لیکن یہی زندگی بہت لمبی بہت وسیع بہت طویل ہوتی ہے جہاں پر ہر انسان کو اپنے حقوق اور حقائق سے جینے کا حق ہوتا ہے۔لیکن یہی لفظ انسان کو نہ جانے کتنے کتنے اندھیروں سے گزارتا ہے اور پھر کسی جانب ان اندھیروں سے روشنیون کے اجالوں سے بھی وابستہ کراتا ہے ۔انسان کے اوپر زندگی میں اچھااور برا وقت گزرتا ہے لیکن اچھا وقت اسے لوگوں کو پہچانے نہیں دیتا اور برا وقت اسے معاشرے میں ابھرتے ہوئے لفظ اپنوں سے بہت اچھے طریقے سے آشناکرادیتا ہے بظاہر انسان اس دنیا میں اس زندگی کے اندر مختلف لوگوں کے طرح طرح کے رنگ بھی دیکھائی دیتے ہیں جن میں سب سے گہرا اور انوکھا رنگ ہوتا ہے اپنوں کاکہنے کو یہ اپنے آپ کی زندگی کے ساتھی ہوتے ہیں انسان کے دکھ سکھ کی وہ کڑی ہوتے ہیں جو لڑکپن میں آپ کی بے ساکھی بنتے ہیں لیکن شاید آج کل کے معاشرے میں اپنوں کا خون ہی سفید ظاہر ہوتا ہے جنہیں اپنی ذاتی زندگی میں گھومتی ہوئی خوشیوں سے اتنا لگاؤ ہوتا ہے کہ انھیں اپنے اردگرد گھومتے لوگوں کا دھیان ہی نہیں رہتا،کون ہوتے ہے یہ اپنے؟ کیا ہوتی ہے ان کی پہچان؟ کیا ہوتا ہے یہ رشتہ؟ شاید آج تک ایک بہت بڑا سوال ہے جو ہر انسان کی سوچ کے گرد گھومتا ہوا دیکھائی دیتا ہے ۔اس دنیا کے دستور میں جب معاشرہ کانٹوں کی مانندچبھتاہے کیا تب کام آتے ہیں یہ اپنے؟جب زندگی میں پریشانی کے سائے منڈلاتے ہیں کیا جب ساتھ دیتے ہے یہ اپنے؟جب جب اس پیٹ کی بھوک کو روٹی کی طلب ہوتی ہے تو کیا اس بھوک کو مٹانے آتے ہیں یہ اپنے ؟ نہیں آتے حقیقت زندگی میں یہ سارے رشتے فرضی اور بے مطلب ہے۔اس نفسا نفسی کے دور میں کوئی کسی کا نہیں ہوتاشاید یہی زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے کیونکہ جہاں اس دور میں آپ جب درد اور تکلیفوں کے جھولے میں جھول رہے ہوتے ہیں تو ان تکلیفوں کو دور کرنے اپنوں کی جگہ جب غیر آپ کو حوصلہ اور ہمت دیتے ہیں تو ان اپنوں سے کس فیض کی امید رکھتے ہیں ہم،یہی اپنے دنیا کی دلدل میں آپ کو ایسے دھکیلتے ہیں جیسے کوئی دشمن ہوں۔زندگی کے درد اور ستم سے ٹوٹا ہوا انسان ویسے ہی ختم ہوتا ہے لیکن جب یہی انسان اپنوں کی چوٹ کھا تا ہے توپورا مر جاتا ہے۔پل بھر کے میٹھے الفاظ انسان کو زندگی جینے کی لہر دیتی ہے لیکن جب یہی اپنے آپ کی خوشیوں کے سب سے بڑے دشمن ہوتے ہیں تواس لفظ’’ اپنے ‘‘کو زندہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے، کسی نے بالکل صحیح کہا ہے ’’دولت تیرے وجود کو سلام‘‘۔ یہاں آدمی کا وجود دولت کے آگے وہ مٹی کا ڈھیلاہے جو ایک جھٹکے میں پاؤں کے نیچے مسل دجا جاتا ہے۔ دنیا پیسے کو سلام کرتی ہے اور اسی کے نقش قدم پر چلتی ہے۔ بھری جیب پر یہی اپنے آپ کی خوشامد کرتے ہیں لیکن جیب خالی ہوتے ہی یہی اپنے اپنی آنکھیں آسمان پر رکھ لیتے ہیں او اپنے سے کم تر کو حقیر سمجھنے لگتے ہیںیہی حقیقت ہے اس زندگی میں گھومتے ہوئے ا لفاظوں کی جو شاید کڑوی ضرور ہے لیکن زندگی کی سچائی کو واضح کر تی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *