اسٹیبلشمنٹ اب کھیل بھی بدلے، کردار بھی بدلے

syed arif mustafa

بظاہر یوں لگتا ہے کہ کراچی میں اسٹیبلشمنٹ اپنا وہی تین دہائی پرانا کھیل کھیلنے جا رہی ہے اور ابکے مصطفیٰ کمال اور پرویزمشرف کو یہاں کے راج سنگھاسن پہ بٹھانے کے لیئے ہر سطح پہ کوششیں تیز کردی گئی ہیں... اور نوبت یہ آن پہنچی ہے کہ پرویز مشرف نے اس بارے میں کھل کر بیان بھی دے دیا ہے ...واضح رہے کہ کئی روز سے کچھ احباب اس ضمن میں بہت سرگرم تھے اور اب ان لوگوں‌ کو گورنر سندھ کا بھی تعاون میسر آگیا ہے-

یقینی طور پہ ریاض ملک کی بھرپور معاونت تو پہلے ہی دستیاب ہے کیونکہ وہ مبینہ طور پہ اس کھیل کے سب سے بڑے کھلاڑی بن کے ابھرے ہیں اور جوں جوں اپنی دولت اور طاقت میں اضافہ کرتے جارہے ہیں توں توں انکی بادشاہ گری کی صلاحیت اب خود بادشاہ بن جانے کی خوہش میں ڈھلتی دکھائی دے رہی ہے اور اب خوب سمجھ میں آرہا ہے کہ تین برس قبل انہوں‌ نے ویسے مصطفیٰ کمال کو کراچی سے بلا کے اور انکی سینیٹرشپ ترک کرواکے دبئی میں اپنی ایک اہم ملازمت پہ یونہی فائز نہیں کردیا تھا -

چند روز قبل میں نے اپنے قارئین کو بتایا تھا کہ ایک دوست کے گھر پہ مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی سے ملاقات ہوئی تھی کہ جو خصوصی طور پہ وہاں اظہار خیال کرنے بلائے گئے ،،، لیکن مجھے اسکی غایت پہلے سے نہیں بتائی گئی تھی، لیکن اب بخوبی سمجھ سکتا ہوں‌ کہ یہ تقریب دراصل اسی حکمت عملی کا حصہ تھی جو اوپر بیان کی گئی ہے ،، وہاں مدعوئین بھی چنیدہ تھے اور انکی تعداد بہت کم تھی ۔۔۔ اس تقریب کا مقصد جو وہاں میزبان نے بیان کیا ( میں میزبان کا نام فی الوقت بوجوہ نہیں لکھ رہا ہوں ) وہ یہ تھا کہ کراچی و سندھ شہری کے اردو بولنے والوں‌ کے مختلف سیاسی گروپوں و جماعتوں کے درمیان کسی حد تک ایسا اتفاق رائے پیدا کیا جائے کہ جسکے تحت وہ آئندہ الیکشن میں مل کے مخالفین کا مقابلہ کریں - اس سوچ کو فروغ دینے کی کوششیں کرنے والے 9 اصحاب گروپ نائن کے عنوان سے سامنے آئے ہیں اور ان میں ایک سینیئر اخباری رپورٹر ، سماجی تنظیموں کے چند کرتا دھرتا ، کچھ صنعتکار و تاجر وغیرہ شامل ہیں

اس تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے اپنے روایتی جارحانہ و جوشیلے انداز میں الطاف حسین سے اپنی بغاوت کے اسباب بھی بیان کیئے اورایم کیوایم کے خاتمے پہ زور دیا اورکہا کہ فاروق ستار گروپ درحقیقت لندن گروپ ہی کا حصہ ہے اور یہ اختلافی رنگ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے - انہوں نے کئی انکشافات بھی کیئے مثلاً یہ کہ میئر کراچی وسیم اختر صاحب ہر کام میں 6 پرسنٹ وصول کرتے ہیں اور یہ کہ وہ کوکین سپلائی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ،،،
انکے خطاب کے بعد میں نے ان سے پہلا سوال یہ کیا کہ جب لندن میں 25 برس سے پڑے اینڈتے الطاف حسین نے گزشتہ 2 جولائی کو اپنے خطاب میں واضح طور پہ فاروق ستار کو سؤر کا بچہ اور نطفہء حرام قرار دیا ہے تو آپ عوام کو یہ کیسے یقین دلائینگے کہ وہ اب بھی ایک ہی گروپ ہیں ،،، تو ان کا جواب یہ تھا کہ یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے اور وہ گواہ ہیں کہ انکی الطاف حسین سے وابستگی کے زمانے میں بھی ، فاروق ستار کے لیئے الطاف حسین ایسے متعدد سخت الفاظ ماضی میں انکے منہ پہ کہتے رہے ہیں لیکن فاروق ستار ٹائپ کےافراد کے لیئے یہ کوئی شرم اور غیرت کی بات نہیں ہے

میں نے دوسرا سوال یہ کیا کہ " آپکی جماعت کو ایم کیو ایم کے مستند مجرموں کی لانڈری سمجھا جاتا ہے کہ جس کسی نے جو بھی جرم کیا اگر وہ آپکی چھتری تلے آجائے تو نہا دھوکے پاک کرادیا جاتا ہے ،،، آپ اس تاثر کے بارے میں کیا کہیں‌ گے ۔۔۔" توجیسے ہی مصطفیٰ کمال جواب دینا شروع ہو رہے تھے کہ انیس قائم خانی تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اس سوال کا جواب وہ خود دینا چاہتے ہیں‌ اور انہوں نے تندی اور شیرینی کے ملے جلے لہجے میں کہا کہ ہم اپنے کارکنوں کو اپنے بچوں کوتنہا نہیں چھوڑسکتے اور ان سے اگر کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں تو انکو معاف کرکے آگے سیاسی عمل کا حصہ بنانے کے پوری طرح حامی ہیں اور ہم یہ کوششیں کرتے رہیں گے...( واضح رہے کہ میں اس سوچ پہ شدید تحفظات رکھتا ہوں اور اس کا تجزیہ اگلے کسی مضمون میں پیش کروں‌ گا )...ان دونوں حضرات سے میں نے یہ سوال بھی کیا کہ آپ یہ کیسے کہ سکتے ہیں کہ آپکے پاس جو لوگ آئے اور شامل ہوئے ہیں وہ واقعی دل سے آپ ہی کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ آپکے کیمپ میں بیٹھے بہتیروں کی وفاداریاں اب بھی دوسری طرف ہیں اور وہ محض اپنی کھال بچانے کے لیئے آپ کے ساتھ جو بیٹھ گئے ہیں تو یہ صرف حالات کا جبر ہے اور صورتحال بدلتے ہی یہ پرندے اپنی پرانی ڈال پہ جابیٹھیں گے ،،،؟؟ میرے اس سوال کا کوئی واضح جواب دینے کے بجائے بس یہ ہی کہا گیا کہ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ...وغیرہ وغیرہ

آخر میں یہ عرض ہے کہ اگر میں سلامت رہ پایا تو اس ملاقات کے بارے میں اور شہری سیاست کی نئی کروٹوں کے بارے میں جلد ہی اپنا تفصیلی تجزیہ پیش کروں‌ گا... فی الوقت میں بس اسی جملے پہ آج کا یہ کالم ختم کرتا ہوں کہ 'ہرچمکتی چیز سونا نہیں ہوتی' اور ہمارے شہر کے لوگ تو شدید حبس کے اتنے مارے ہوئے ہیں کہ انہیں چلچلاتی لُو کو بھی باد نسیم باور کرنے کے لیئے اتاؤلے ہونے سے روکنا کوئی آسان کام نہیں...

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *