جنسی ہراسمنٹ کی حقیقت

بشکریہ :ماریہ وقار

maria waqar

کئی سال پہلے میرے کالج میں ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا۔ ایک لڑکی کو اس کے اکیڈیمک ایڈوائزر نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ اس لڑکی نے مجھے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایڈوائزر نے اسے پشت سے زبردستی دبوچ لیا۔ لڑکی نے گرفت سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئےبمشکل اس  شخص کو خود سے الگ  کیا۔ صورتحال کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے اس لڑکی نے بات چیت کے ذریعے تصویر کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔ اس واقعہ نے اسے بہت پریشانی سے دوچار کیا۔ یہ ایڈوائزر ہی وہ شخص تھا جس نے اس لڑکی کو سکالر شپ کےلیے درخواست دینے پر آمادہ کیا اور ان کی تعلیم میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس لڑکی کو ڈر تھا کہ اگر اس نے سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا تو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ بالآخر ہمت باندھ کر اس لڑکی نے ایڈوائزر کے خلاف شکایت کی اور اسے نجات مل گئی۔ لیکن یہ مرحلہ آسان نہیں تھا کیونکہ اس کے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ دفاتر میں جنسی حملوں کے واقعات میں اکثر خواتین کے پاس ثبوت کی کمی کی وجہ سے سخت رد عمل کا اظہار نہیں کر سکتیں۔ ان کے لیے آسان نہیں ہوتا کہ بازار میں چھیڑنے والے شخص کو تھپڑ رسید کر کے چلتی بنیں۔ حملہ آور اور مظلوم کے بیچ طاقت کا فرق معاملات کےبگاڑ کا باعث بنتا ہے اور ہراساں کرنے کے معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔

لیکن ٹویٹر استعمال کرنے والے اور میڈیا اینکرز کے لیے معاملہ مختلف رہتا ہے جب وہ ایم این اے عائشہ گلالئی سے ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ انہوں نے فوری طور پر رد عمل کیوں نہ دکھایا۔ گلالئی کی طرف سے جنسی حملوں کے الزامات کا وقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہوا بھی ہے تو بھی یہ ان کے پارٹی سے علیحدگی کے فیصلے کا بنیادی محرک نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان کے الزامات کو یکسر مسترد کیا جائے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مرد آزادی سے خواتین کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں، کسی لڑکی کی طرف سے گندے پیغامات موصول ہونے کی شکایت پر یقین کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔

Related image

پچھلے چند ہفتوں میں ہم نے بہت سے سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر گندے اور گھناونے الزامات لگاتے اور کیچڑ اچھالتے دیکھا ہے۔ ایک سیاستدان کا کہنا تھا کہ پانامہ پیپرز سکینڈل ایک بین الاقوامی چال ہے۔ لیکن ایسے بیانات کے سامنے آنے کے ساتھ ساتھ ایسا کیونکر ممکن ہوا کہ ایک خاتون کے الزامات پر عوام کی ایک بڑی تعداد مشتعل ہو گئی؟ پارلیمانی سیاست میں خواتین کے کردار کو سیکسزم اور خواتین سے تعصب پر مبنی واقعات کے ذریعے محدود کیا جاتا ہے۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیاسی جماعتوں میں شامل خواتین کے الزامات پر کان نہ دھرا جائے؟ سچ یہ ہے کہ خواتین کو پارلیمان میں لانے کا طریقہ کار ہی خواتین کو مردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا باعث ہے۔ میں نے اپنے مقالے کے لیے پارلیمنٹیرین خواتین سے جو گفتگو کی اس میں خواتین کی عزت و احترام کے معاملے کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی اور بہت سے خواتین نے شکایات کا اظہار کیا۔

بہت سی خواتین کا دعوی تھا کہ انہیں پارلیمنٹ میں دوسرے درجے کی مخلوقات سمجھ کر ڈیل کیا جاتا ہے کیونکہ وہ براہ راست منتخب نہیں ہو سکتیں۔ بعض خواتین کے مطابق خواتین کا کوٹہ ان پر پارٹی لیڈرز کی طرف سےا حسان سمجھا جاتا ہے اس لیے جن خواتین کو اس کوٹہ پر منتخب کیا جاتا ہے ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ پارٹی لیڈر کی ہر خواہش کا احترام کریں۔ کچھ دوسری خواتین کا ماننا ہے کہ منتخب ہونے کےلیے پارٹی لیڈر کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا اور پارٹی کے سیئنر حضرات کے سامنے جھکے رہنا ہی بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے خواتین کو اپنے سیاسی کھیل کےلیے استعمال کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے ان کی زندگی جہنم بھی بنا سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی ممبران نے گلا لئی کے الزامات پر بہت جلد میں رد عمل ظاہر کیا اور ان کے الزامات کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ البتہ اس طرح کا کوئی بھی رد عمل پاکستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خاتمے کےلیے مثبت قدم نہیں ہے۔ اس سے خواتین کو اندازہ ہو گا کہ اگر وہ اپنی آواز اٹھائیں گی تو ان کو کیسا رد عمل دیکھنے کو ملے گا۔


courtesy:https://tribune.com.pk/story/1475555/the-reality-of-harassment/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *