سلگتی سیاست ، صحافت اورانسانیت

hafiz yousuf saraj
 میاں نواز شریف کی نااہلی کے واقعہ کو ملکی تاریخی کا سب سے بڑا فیصلہ کہا گیا۔ ایک طرف اسے آزاد عدلیہ کا سنہرے حروف میں لکھا جانے والا جرأت مندانہ فیصلہ کہا گیا اور کہا گیا کہ پہلی دفعہ عدالتوں نے کسی بڑے آدمی کے خلاف بھی فیصلہ دیا ہے تودوسری طرف اس فیصلے پر شایدسب سے زیادہ تنقید بھی کی گئی ۔قانون دان تو خیر کیسے پیچھے رہتے، قوم کا بچہ بچہ اس فیصلے کی تشریح و توضیح میں کود پڑا ۔ بڑے بڑے ججوں کے فیصلے چھوٹی چھوٹی پوسٹوں کے ذریعے ناپے تولے اور پرکھے جانے لگے۔ ایسی ایسی تشریحات کی گئیں کہ محسوس ہوا کہ یہ ملک شرح خواندگی میں جتنا بھی پیچھے ہو، یہاں کا ہر دوسرا شخص کم از کم بھی شریف الدین پیرزادہ،ایس ایم ظفر اور اعتزاز احسن کے کینڈے کاوکیل ضرور ہے ۔ میاں کے حامیو ں نے فیصلے کی وہ بھد اڑائی کہ اسے تمسخر اور طعنے کا امیر مقام بنا کے رکھ دیا۔ فیصلے کی کرپشن والی اٹھان کے بعد محض اقامے کی بنیاد پر نااہلی نے کچھ لوگوں کو مایوس کیاتوکچھ کو سخت مشتعل۔ ایسے ایسے نکتے نکالے گئے کہ اگر جمع کر لئے جائیں توسپریم کورٹ کے باہر اس سے بھی بڑاعدالتی پھٹا لگایا جاسکتاہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ توگویامیاں صاحب کو کلین چٹ دے دی گئی اور یہ بھی کہا گیاکہ خدا مچھر سے ہاتھی مروا دیتاہے اور ایک سوراخ سے ٹائی ٹینک برباد کروا دیتاہے۔ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ اصل فیصلہ تاریخ ہی کرے گی۔ ہمیں دونوں طرح کی رائے کا احترام ہے، تاہم اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنانا ملک و قوم کے حق میں نہیں۔
Image result for nawaz vs imran
 سیاست میں یہ ہوتا رہتاہے۔ مگر جو نہیں ہوتاتھا، اب وہ سوشل میڈیاکی وجہ سے ممکن ہو گیاہے، ہوا یہ ہے کہ فیصلے نے سگے بھائیوں، پکے دوستوں اور ایک جگہ کام کرنے والوں میں نفرت کی آگ اور مخالفت کی خطرناک خلیج پیدا کر دی ہے۔ اتفاق کی کمتر بنیادیں رکھنے والے معاشرے کیلئے یہ قطعاً اچھاشگون نہیں۔ برداشت ہم میں پہلے ہی زیرو درجے کی ہے اور ہم پہلے ہی مسلکوں، خطوں اور برادریوں کی تفریقوں میں منقسم ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو مزید تقسیم مزید تباہ کن ہے، اس کے زہرناک نتائج ہماری نفسیات، ہماری ذاتی و سماجی زندگی اور خدانخواستہ ہمارے ملک وملت تک دراز ہوسکتے ہیں۔ سیاست معاشرے کے چند طے شدہ اصولوں کے تحت سہولت وتحفظ سے اجتماعی زندگی بسر کرنے کا نام ہوتا ہے۔ اس کی ادنیٰ وکالت کی خاطر اخوت و اخلاق اور اپنے رشتوں کو قربان کر دینا دانش مندی نہیں۔ اصل چیز ایک دوسرے سے جڑے رہنا ہے ۔ سیدنا موسیٰ طور پہاڑ پر لقائے ربی کیلئے گئے تو ان کے بھائی ہارون قوم کے پیشوا رہے۔ موسیٰ علیہ السلام مدتِ معینہ کے بعد واپس آئے تو قوم کا عجب حال دیکھا، سامری جادوگر نے خواتین سے جمع کئے زیورات کو بھٹی میں ڈھال کر ان سے ایک بچھڑا بنا لیا تھا، یہ بچھڑا ایسی تکنیک سے بنایا گیاتھا کہ ہوا اس میں داخل ہوتی تو سیٹی بجاتی ہوئی گزرتی۔ سامری نے قوم سے کہا ، موسیٰ توبے وجہ کسی اور خدا کی تلاش میں نکلے ،  تمھارا اصل معبود تو یہی بچھڑا ہے۔ قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں، سونے کے نئے نئے بچھڑوں کی پجاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کے دیکھا توقوم کواسی میڈ بائی سامری معبود کے سامنے سر بسجود دیکھا۔ انھیں بہت غصہ آیا، غصے میں انھوں نے ہارون علیہ السلام کی داڑھی پکڑ کے انھیں جھنجھوڑ ڈالا کہ تم نے دیکھتے بھالتے بھی قوم کو ایسی کرتوت سے کیوں نہ روکا ؟ جواباً ایک ہی بات جنابِ ہارون نے عرض کی کہ جناب! میں تو محض یہ سوچ کر چپ رہا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے میرے بعد قوم کی وحدت کو تقسیم کرڈالا، یعنی میں بات کرتا توکچھ لوگ مانتے اور کچھ نہ مانتے۔ سو میں نے انتظار کیا۔ اسی سے اندازہ کرلینا چاہئے کہ قوم کو تقسیم کرنا کتنا خطرناک عمل ہے۔ امت کے حق میں رسول اللہ  ﷺ نے بے شمار دعائیں کیں ، آپ نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ باہر سے آپ کی امت پر دشمن مسلط نہ کرے ، یہ دعا قبول ہو گئی مگر ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ اب باہر سے تو دشمن مسلط نہیں ہوگا مگر اس امت کو اس کے باہمی انتشار اور افتراق کے ذریعے سے بہرحال عذاب دیا جاتا رہے گا۔ اس سے واضح ہوتاہے کہ معاملہ مذہبی ،سیاسی یا کوئی سا بھی ہو، اختلافِ رائے کو مستقل اختلافات میں ڈھال لینا، گویا اس امت کو خدا کے عذاب کی نذر کردینے کے مترادف ہے۔
 اس سلسلے میں زیادہ ذمے داری میڈیا کی بنتی تھی مگر افسوس میڈیا اس وقت جس بری طرح بٹ گیاہے، وہ خود اس معاملے میں کسی عذابِ الٰہی سے کم نہیں۔ صحافی کیا پورے پورے گروپ جانبداری کی نئی نئی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ تجزیوں کے نام پر خواہشات پیش کی جا رہی ہیں، جو جلد ہی جھوٹی بھی ثابت ہو جاتی ہیں مگر افسوس ان کے کہنے یا لکھنے والوں کو اک ذرا سی شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔ وہ نئے دن کے لئے نئی جرات و جسارت سے زیادہ بعید از قیاس اور عجیب ترکہانیاں تراشنے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ من گھڑت اور من پسند خبریں چھاپی جا رہی ہیں ، سپریم کورٹ تک نے بعض خبروں اور اخبارات کا نوٹس لیا ہے۔ زبان محتاط نہیں رہی۔ انداز شائستہ نہیں رہا۔ ایک جید کالم نگارنے کہ جن کے بات کہنے کے سلیقے کو ہم طالب علم رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، ایک دن لکھا اپوزیشن کی زبانیں گز گز بھر کی ہو کے لٹک رہی تھیں۔ یعنی پوری اپوزیشن ایک ہی جملے میں لپیٹ ڈالی۔ جب قوم کی تربیت کرنے اور انھیں سبق دینے والوں کا یہ حال ہو توعام عوام کی کیا حالت ہو سکتی ہے ، وہ جو بھی ہو سکتی ہو، اب برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کے لئے اخلاقی اور نفسیاتی طور بہتر پاکستان چھوڑ کے جانا ہے تومیڈیا کوخود پر خودہی ذمے داری عائد کرنی ہوگی۔
 خواتین کی نجی زندگی کو جس سفاکی سے سیاسی مقاصد کے لئے برتا جانے لگاہے ، سیاست کا تو یہ سیاہ ترین داغ ہے ہی ، صحافت نے بھی اس میں ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لگتا ہے، اپنی اپنی حمایتوں اور مخالفتوں کے علاوہ ریٹنگ کی بھی دوڑ لگی ہے۔ خواہ کوئی گالی دے یا خواتین اور بچوں کے نہ دیکھے نہ سنے جانے والی غیر اخلاقی و غیر انسانی زبان بولے ، میڈیا ضرور دکھاتاہے ، اس ڈر سے بھی کہ ورنہ دوسرے دکھائیں گے اور اس کے ناظرین کم ہو جائیں گے۔ یہ ایسی آگ ہے جو آہستہ آہستہ ہمارا اخلاق ہی نہیں ہمارا وجود بھی نگل جائے گی۔ اسلام نے ہمیں جو سماجی زندگی بخشی تھی، بڑی حد تک آج اس پر عمل کرکے مغرب آسانی سے جی رہا ہے تو ہم اس پر پوری طرح عمل کرکے اپنی زندگی زیادہ محفوظ اور زیاد پرسکون کیوں نہیں بنا لیتے؟ جبکہ ہمیں اس سے آخرت میں بھی فائدہ ہونا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ اولاً تو کسی کی پرائیویسی میں جھانکو ہی نہیں، کسی کی جاسوسی نہ کرو۔ پھر اگر اتفاقاً کسی کا کوئی عیب نظر آبھی جائے تو ممکن ہو توحسنِ ظن سے کام لو ورنہ بالضرور پردہ پوشی کرو ، تم آج کسی کا عیب چھپاؤ گے تو حشر میں خدا پوری انسانیت سے تمھارا عیب چھپائے گا۔ پھر اگر بیان کرنا لازم ہو تو وہ پبلک میں نہیں عدالت یا مجاز اتھارٹی میں بیان کرو۔ اللہ نے انسان کو گناہ کرسکنے کی صلاحیت دے کے پیدا کیاہے، فرشتہ نہیں بنایا ، لیکن اسلام معاشرے میں برائی اور بے حیائی کے کھلے عام تذکرے پسند نہیں کرتا۔ ایسا ہوتا گیاتوکوئی بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔انھی اصولوں کو اپنانے کی آج سخت ضرورت ہے۔ وگرنہ معاشرہ وہ جہنم بن جائے گا کہ لوگ جنگلوں کی طرف بھاگ نکلیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *