پاکستان

ملک ریاض ایک کھرب روپے کے اراضی اسکینڈل میں ملزم نامزد

Share

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں رفاہی پلاٹ پر پاکستان کی سب سے بلند عمارت بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر کے لیے غیر قانونی الاٹمنٹ پر ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کردیا۔

مذکورہ ریفرنس سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کا ہی ایک حصہ ہے۔

 رپورٹ کے مطابق یہ پہلا ریفرنس ہے جس میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین کو نامزد کیا گیا، ان کے ساتھ نیب نے ان کے داماد زین ملک کو بھی ملزم نامزد کیا ہے۔

ان کے علاوہ ریفرنس میں نامزد ملزمان میں پی پی پی کے سابق سینیٹر یوسف بلوچ، وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر ڈاکٹر ڈنشا انکل سریا، سابق چیف سیکریٹری سندھ عبدالسبحان میمن، سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت قائم خانی، وقاص رفعت، غلام عارف، خواجہ شفیق، جمیل بلوچ، افضل عزیز، سید محمد شاہ، خرم عارف، عبدالکریم پلیجو، خواجہ بدیع الزمان اور دیگر شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ نیب جو زیادہ تر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف صرف تحقیقات کی سطح پر ہی پریس ریلیز جاری کرنے میں پھرتی دکھاتا ہے، اس نے اس مرتبہ نہ تو کوئی بیان دیا اور نہ ہی ریفرنس کی تفصیلات کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا۔

تاہم احتساب عدالت کے رجسٹرار کے پاس فائل کردہ ریفرنس میں کہا گیا کہ باغ ابنِ قاسم سے متصل رفاہی پلاٹ پر بحریہ ٹاؤن نے آئیکون ٹاور تعمیر کیا ہے، جسے غیر قانونی طور پر الاٹ کر کے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

واضح رہے کہ یہ بلند و بالا عمارت کراچی میں بحیرہ عرب کے ساحل کے نزدیک واقع ہے جس کی 62 منزلیں ہیں جس میں سے 40 منزلیں مختلف استعمال کی ہیں۔

اسکروٹنی کے بعد رجسٹرار آفس مذکورہ ریفرنس احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد بشیر کو بھجوائے گا۔

گزشتہ برس جون میں سندھ ورکس اینڈ سروسز کے سابق سیکریٹری سجاد عباسی کو آئیکون ٹاور کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا جو بعد میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔

عدالت میں دیے گئے بیان میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ جب ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو تعینات تھے اس وقت انہوں نے یہ رفاہی پلاٹ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا کو فروخت کیا تھا، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا نے یہ پلاٹ ملک ریاض کو فروخت کیا جنہوں نے اس پر بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر کی۔

یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ کراچی کے سابق ناظم اور پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال اور دیگر افراد بھی کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے 5 ہزار 500 مربع گز کمرشل زمین بحریہ ٹاؤن کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کے الزام میں نیب ریفرنس کا سامنا کررہے ہیں۔

اس سلسلے میں جب بحریہ ٹاؤن انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو کرنل (ر) خلیل نے دعویٰ کیا کہ بحریہ ٹاؤن نے مذکورہ زمین شفاف طریقے سے خریدی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس جعلی اکاؤنٹس کیس سے تعلق نہیں رکھتا کیوں کہ زمین کی خریداری کے لیے حقیقی اور مصدقہ اکاؤنٹس کے چیکس کے ذریعے ادائیگی کی گئی۔