Site icon DUNYA PAKISTAN

درفشاں کو کیسے پتا چلا کہ لوگ ان کی ہاٹ تصاویر تلاش کرتے رہتے ہیں، فاطمہ آفندی

Share

مقبول اداکارہ فاطمہ آفندی نے سوال اٹھایا ہے کہ درفشاں سلیم کو اس بات کا کیسے علم ہوا کہ لوگ انٹرنیٹ پر ان کی ہاٹ تصاویر تلاش کرتے رہتے ہیں۔

در فشاں سلیم کی گزشتہ ماہ ایک مختصر ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہوں نے ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انٹرنیٹ پر لوگ درفشاں ہاٹ لکھ کر ان کی تصاویر سرچ کرتے ہیں۔

درفشاں سلیم نے بتایا تھا کہ کچھ دن قبل بہت سارے لوگوں نے انہیں ایک ویڈیو بھیجی، جس کے بعد مجبور ہوکر انہوں نے مذکورہ ویڈیو دیکھی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ مذکورہ ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ عشق مرشد کو تلاش کر رہے ہیں لیکن مذکورہ ڈرامے کو تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک خاص چیز بھی تلاش کر رہے ہیں۔

اداکارہ نے شکوہ کیا تھا کہ ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ لوگوں نے انٹرنیٹ پر عشق مرشد میں درفشاں سلیم ہاٹ کو سب سے زیادہ تلاش کیا۔

اب ان کے بیان پر فاطمہ آفندی نے ایک ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ در فشاں سلیم کو کیسے علم ہوا کہ لوگ انٹرنیٹ پر ان کی ہاٹ تصاویر تلاش کرتے ہیں؟

فاطمہ آفندی ایک نیوز کے مزاحیہ پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں ایک سیگمنٹ میں ان سے در فشاں سلیم کے بیان پر رائے مانگی گئی۔

فاطمہ آفندی نے رائے دینے سے قبل سوال کیا کہ درفشاں سلیم کو کیسے علم ہوا کہ لوگ انٹرنیٹ پر ان کی ہاٹ تصاویر تلاش کرتے ہیں؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ لوگوں نے انہیں میسیج کرکے بتایا۔

اس پر فاطمہ آفندی کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر درفشاں سلیم کو معاملہ سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہوٖگی، گوگل پر ویسے بھی کسی کا نام لکھ کر سرچ کریں تو اداکاروں کی بہت ساری تصاویر بہت سارے انداز میں نظر آتی ہیں۔

ان کے مطابق ہو سکتا ہے کہ درفشاں سلیم کو گوگل پر نظر آنے والی مختلف تصاویر سے متعلق غلط فہمی ہوئی ہو۔

اسی معاملے پر میزبان و اداکار احمد علی بٹ نے کہا کہ عام طور پر ایسی تصاویر پرانی ہوتی ہیں لیکن شوبز شخصیات کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایسی تصاویر انٹرنیٹ پر اپلوڈ نہ کیا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے انٹرنیٹ پر پرانی چیزیں بھی تلاش کرنی کی اور ہوسکتا ہے کہ درفشاں نے کبھی ایسی تصاویر اپ لوڈ کی ہوں لیکن شوبز شخصیات کو تصاویر اپ لوڈ کرتے وقت خیال رکھنا چاہیے۔

Exit mobile version