لیڈی ڈیاناکو شاہی محل کیوں چھوڑناپڑا؟

dianaprincessفروری کے اوائل میں بی بی سی سے دو اقساط پر مشتمل دستاویزی پروگرام”Reinventing the Royals“ نشر ہوا جس میں انکشاف ہواکہ شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد جب شہزادہ چارلس میڈیا میں شدید تنقید کا نشانہ بنے، تو انہوں نے اپنے دفاع میں ایسا قدم اٹھایا جس کی توقع ایک مہذب، شائستہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان سے ہرگز نہیں ہوتی۔ شہزادہ چارلس ملازمین کے ذریعے اخبارات میں اپنے ہی بچوں کو بدنام کرنے والی خبریں چھپوانے لگےمگر برطانوی عوام پر وہ خبریں یہ تاثر چھوڑتیں کہ ”ہمدرد اور شفیق“ باپ بن ماں کے بچوں کی عمدہ خبر گیری کررہا ہے۔ ان خبروں کا مقصد یہ تھا کہ برطانیہ میں شہزادہ چارلس کا ”مثبت امیج“ ابھارا جائے۔
تفصیلات کے مطابق شہزادہ چارلس کی خود غرضانہ داستان کا آغاز 1971ءمیں ہوتا ہے جب کامیلا نامی ایک خوبصورت لڑکی سے ان کی ملاقات ہوئی اوراس کی محبت میں گرفتار ہوگئے ۔ ان کا معاشقہ تقریباً ڈیڑھ سال چلا۔دلچسپ بات یہ کہ کامیلا اسی دوران ایک اور جوان اینڈریو پارکر سے بھی عشق لڑا رہی تھی۔ جب ملکہ ایلزبتھ نے کامیلا کو بطور بہو قبول کرنے سے انکار کیا تو اس نے اینڈریو سے شادی کرلی تاہم شہزادہ چارلس اور کامیلا ملتے جلتے رہے۔
1981ءمیں شہزادے نے حسین و جمیل شہزادی ڈیانا سے شادی کرلی تاہم شادی کے بعد بھی شہزادے نے کامیلا سے ملنا جلنا جاری رکھا۔ شہزادی ڈیانا اپنی دلچسپیوں میں مگن رہنے والی لڑکی تھی اور وہ سنجیدہ مزاج شہزادے سے ذہنی مطابقت نہ کرسکی۔ چنانچہ شہزادہ چارلس اپنی محبوبہ کی سمت جھکتا چلا گیا۔
1992ءمیں آخر کار انکشاف ہوا کہ شہزادہ چارلس اور کامیلا نے شادی شدہ اور بال بچے ہونے کے باوجود ناجائز تعلقات استوار کررکھے ہیں۔ اس انکشاف نے برطانیہ بھر میں شہزادے اور کامیلا کو بدنام کردیا۔ شہزادے کو ”دھوکے باز شوہر“ اور ب±رے باپ“ کے القابات سے یاد کیا جانے لگا اور دسمبر 1992ءمیں شہزادی ڈیانا کے شاہی محل کو خیر باد کہنے کی وجہ بھی یہی معاشقہ بنا۔
بیگم کے ساتھ بے وفائی نے نہ صرف شہزادہ چارلس کی نیک نامی کو نقصان پہنچایا بلکہ برطانوی شاہی خاندان بھی متاثرہوا۔ برطانیہ میں عام لوگ سوال کرنے لگے کہ ان کا پیسہ آوارہ مزاج اور بگڑے شہزادوں کے اللّے تللّوں پر کیوں خرچ ہوتا ہے؟
1996ءمیں شہزادہ چارلس نے برطانوی عوام میں اپنا امیج بہتر بنانے کی خاطر ایک پبلک ریلیشنگ آفیسر، مارک بولینڈ کی خدمات حاصل کرلیں۔ شہزادے نے اسے اپنا پرائیویٹ سیکرٹری بنایا اور یہ مشن سونپا کہ وہ عام برطانویوں میں اس کے لیے محبت و ہمدردی کے جذبات پروان چڑھائے۔مارک بولینڈ ایک چالاک و مکار شخص تھا۔ وہ اپنے تعلقات کے بل پر برطانوی و یورپی میڈیا میں شہزادی ڈیانا کے خلاف افواہیں پھیلانے لگا۔ اس نے سعی کی کہ شہزادی کو ایک کھلنڈری اور آوارہ مزاج لڑکی کے روپ میں پیش کیا جائے۔ شہزادی کے خلاف یہ میڈیا مہم جاری تھی کہ اگست 1997ءمیں لیڈی ڈیانا کار حادثے میں ہلاک ہوگئی۔
اب مقتولہ کو بدنام کرنے کے لیے مارک بولینڈ کو کھلی چھٹی مل گئی۔ اس نے پینی جو نور ( Penny Junor) نامی برطانوی ادیبہ کی خدمات حاصل کیں اور 1998ءمیں اس سے ایک کتاب’چارلس،ستم رسیدہ یا ولن‘لکھوا ئی۔ اس کتاب میں شہزادہ چارلس تقریباً فرشتے کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ جبکہ لیڈی ڈیانا کو بطور حرافہ پیش کیا گیا۔کتاب لکھنے کیلئے مارک بولینڈ ہی نے پینی جونور کو مواد مہیا کیا۔ کتاب کی رو سے لیڈی ڈیانا نے پہلے شوہر کو دھوکہ دیا اور پھر دوسرے مردوں سے ناجائز تعلقات قائم کرنے لگی۔
جب 1998ءمیں یہ کتاب شائع ہوئی تو برطانوی عوام نے اس کے خلاف جلوس نکالے اور غم و غصّے کا اظہار کیا۔ انہیں یقین تھا کہ کتاب کے ذریعے ان کی چہیتی شہزادی کو بدنام کیا جارہا ہے۔ راتوں رات پینی جونور برطانیہ کی قابل نفرت ادیبہ بن گئی۔ مگر بولینڈ بذریعہ کتاب کئی برطانوی مردوزن کے دلوں میں لیڈی ڈیانا سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔ وہ یہی سمجھنے لگے کہ بچارہ شہزادہ چارلس ایک عیار و مکار لڑکی کے جال میں پھنس گیا۔ بولینڈ برطانویوں میں اسی قسم کے جذبات و خیالات پیدا کرنا چاہتا تھا۔1998ءہی میں باپ کے دباو¿ پر 16 سالہ شہزادہ ولیم نے اس کی محبوبہ، کامیلا سے پہلی ملاقات کی۔ یہ بہت حساس معاملہ تھا، اسی لیے ملاقات کو خفیہ رکھا گیا۔ شہزادہ ولیم جانتا تھا کہ اس کی ماں کامیلا سے نفرت کرتی تھی۔ اسی باعث شہزادہ طوعاً کراہاً ہی کامیلا سے ملاقات کرنے پر آمادہ ہوا۔
لیکن مارک بولینڈ نے اس ملاقات کی تفصیل مشہور برطانوی اخبار، دی سن کو فراہم کردیں  لہٰذا اخبارنے خوب دھوم دھڑکے سے یہ خبر شائع کی۔ شہزادہ چارلس دراصل یہ خبر دے کر برطانوی عوام پر یہ تاثر چھوڑنا چاہتے تھے کہ ان کے بیٹوں نے کا میلا کو قبول کرلیا ہے۔
ایکسپریس میگزین کے مطابق دوسری طرف شہزادہ ولیم کا غصّے کے مارے برا حال ہو گیا۔ اسے سمجھ نہیں آئی کہ ایک خفیہ ملاقات کی تفصیل اخبار تک کیسے پہنچ گئی۔ وہ اپنے ملازمین سے یہی پوچھتا رہا ”یہ کیسے ہوا؟ یہ کیسے ہوا؟“ شہزادے کو بہت دیر بعد احساس ہوا کہ یہ خبر اس کے باپ نے ہی پھیلائی ہیں جس کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی عوام میں شہزادہ چارلس کے لیے مثبت جذبات ابھارے جاسکیں۔
ظاہر ہے، جب بیٹے ماں کی سوکن کو قبول کرلیتے تو شہزادہ چارلس کا دامن صاف ہوجاتا۔ اس امر سے یہی عیاں ہوتا کہ دوران شادی شہزادے نے کامیلا سے ناجائز تعلقات نہیں رکھے اور یہ محض لیڈی ڈیانا کی غلط فہمی تھی اور مارک بولینڈ کے مشورے سے شہزادہ چارلس برطانوی عوام میں یہی تاثر پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *