بمبار کا سر مل گیا

asghar nadeem syed.

پاکستان اپنے قیام کی ستر سالہ خوشیاں منا رہا ہے میں پاکستان سے 3 سال چھوٹا ہوں اور میری پرورش میں خرابیاں رہی ہیں شاید کچھ خرابیاں میرے وطن عزیز کی پرورش میں بھی رہی ہوں گی اور آپ نے بھی میری طرح کبھی کبھی یہ آواز سنی ہو گی "میرے عزیز ہم وطنو"

آج 14 اگست کی روشن صبح اخبار میں ایک سرخی پر نگاہ ٹھہری " بمبار کا سر مل گیا" کیا یہ سر 14 اگست کا تحفہ ہے اور اگر یہ تحفہ ہے تو سوچنا ہوگا ایسے تحفے کب سے ہمارا مقدر بنے ہیں آج ستر سالہ آزادی اور قیام کی سالگرہ پر یہ خوشخبری کہ آخرکار بمبار کا سر ہمارے سکیورٹی اداروں کو مل گیا ہے ایسے سروں کے تحفے 15 سالوں سے مل رہے ہیں اس سر کو ٹرے میں رکھ کر اوپر سفید رومال رکھ کر ڈی این اے کے لئے بھیجا جاتا ہے ڈی این اے کے بغیر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ سر کس کا ہو سکتا ہے چیتھڑوں اور سروں کے ڈی این اے ہم کیوں کراتے ہیں کیا ہم نہیں جانتے یہ کون سے بچے ہیں یہ کن آبادیوں میں پلے بڑھے ہیں یقیناً یہ سر کسی شہزادے کا سر نہیں ہے کسی حکمران کے بیٹے کا سر نہیں ہے کسی وی آئی پی کے بیٹے کا سر نہیں ہے سروں کو میں جان سکتا ہوں کیونکہ میں 40 سالوں سے بچوں کو پڑھا رہا ہوں ہر طرح کے گھر کا بچہ میرے پاس آتا ہے میں بچوں اور نوجوانوں کے سروں کو اچھی طرح پہچانتا ہوں سکیورٹی والوں کو مجھے بٹھا دینا چاہئیے میں ڈی این اے کے بغیر رپورٹ دے سکتا ہوں یہ کون سے گھر کا لڑکا ہے یہ سر کس کا ہو سکتا ہے یہ کسی اشراقیہ کا بیٹا نہیں ہے جو باہر کی یونیورسٹی سے پڑھ کر آیا ہوگا یا کسی بزنس ایمپائر ، پولیٹکل امپائر یا مافیا امپائر کا لڑکا نہیں ہوگا جن کی حفاظت کے لئے پورا عملہ ہوتا ہے ۔ گارڈز ، شوفرز ، مینیجرز اور ہالیڈے میکرز بانہیں پھلائے ان لوگوں کو راحت دینے کے لئے نئے سے نئے طریقے آزماتے ہیں تو پھر یہ سر کس کا ہے ۔ کیا میں اشتہار دوں کہ اپنے بیٹے کا سر لے جائیں حضرات ہمیں ایک سر ملا ہے ایک خود کش دھماکے کے بعد یہ سر ہمارے ہاتھ آیا جس کا ہو آکے لے جائے ، سر کی کیفیت یہ ہے کہ سر کے بال بڑھے ہوئے ہیں ، داڑھی مختصر مختصر ہے چہرے کی رنگت گندمی ہے نقوش واجب سے ہیں ، چہرے سے لگتا ہے کہ زیادہ اچھی خوارک اسے نہیں دی گئی ، چہرہ بہت اداس ہے ، مایوس ہے اور اپنی قسمت پر شاکی ہے بالکل بکری کے سر کی طرح جس کو لکشمی چوک کی کسی دکان پر سجا دیا جاتا ہے اور اس سری کی آنکھیں دیکھ رہی ہوتی ہیں اور وہ اپنے گاہکوں سے کہتی ہیں " بے غیرت لوگ کیا تم اب بھی میرا سر کھاؤ گے "

اب اگر بمبار کا سر سلامت مل جاتا ہے تو خود کش جیکٹ میں کوئی ٹیکنیکل خرابی ہے جس نے بھی خود کش جیکٹ بنائی تھی وہ کسی گھٹیا یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا جو اس طرح کی ٹیکنالوجی سے پوری طرح واقف نہیں تھا اگر جیکٹ میں بارود ہی بھرنا تھا تو سر تک کا کنٹوپ ہی بنا لیتے تاکہ کوئی سراغ ہی نہ ملتا لیکن جنت میں جانے سے پہلے اس بمبار کو کیسے کیسے خواب دکھائے گئے ہوں گے اور جب پیٹ میں بھوک ناچ رہی ہو تو معمولی سا خواب بھی کام کر جاتا ہے جب کسی بھوکے بے سر و ساماں بے آسرا اور ایک طرح سے عمر قید میں ہو تو اسے آپ جنت کی ایک کھڑکی ذرا سی کھول کر دکھا دیں گے تو ہر بات پر اعتبار کر لے گا یہ کون سے 13 - 14 سال کے لڑکے ہوتے ہیں یہ ان گھروں سے ہوتے ہیں جہاں وہ پیدا تو ہو جاتے ہیں اس کے بعد روٹی کپڑا اور مکان انہیں صرف مدرسوں میں ملتا ہے ان کے ماں باپ ہر سال ایک بچہ پیدا کرتے ہیں پھر بچوں کا ڈھیر ٹوکرے میں رکھ کر ایک مقامی مدرسے میں لے جاتے ہیں وہ مدرسہ ان سے وہ ٹوکرا وصول کر لیتا ہے اور اس ٹوکرے کے بچوں کو ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی یہ بچے ماں باپ کی محبت اور اپنوں کے ماحول سے محروم کر دئیے جاتے ہیں پھر وہ اپنے جیسے روٹی کپڑے اور تعلیم کے ڈھکوسلے پر قربان ہونے والے بچوں میں آ جاتے ہیہں میں نے انہیں ایک کمپاؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے بھی دیکھا ہے لیکن یہ سب ایک سکرپٹ کا حصہ ہوتا ہے تاکہ بچوں کو ایسے رکھا جائے کہ جب وقت آئے تو انہیں استعمال کیا جا سکے اس طرح بچوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے اور پھر ان کے دماغ کو اپنے قابو میں لانا ہوتا ہے

لیکن شاید یہ آدھا ادھورا سچ ہو کچھ اور سچائیاں بھی ہیں ہو سکتا ہے ایک باہر کی یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوان جس نے برانڈڈ سوٹ پہن رکھا ہو اور تراشی ہوئی داڑھی کے ساتھ بے حد جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہو پھر بھی اس کے اندر ایک خود کش بمبار چھپا ہو سکتا ہے جب اس طرح کے بمبار کا سر ملے گا تو ڈی این اے کیا بولے گا کہ یہ نوجوان ایک پڑھے لکھے امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا پاسپورٹ پر کئی ملکوں کی سفر کی مہریں موجود تھیں جدید ٹیکنالوجی کا علم رکھتا تھا پھر کیا ہوا کہ اس کے اندر خود کش بمبار نے جنم لیا اس کا پتہ کون لگائے گا کیا یونیورسٹیاں اس نوجوان کی اناٹومی پر ریسرچ کریں گی ؟ ایسے ہی ایک بمبار لڑکی کا سر ملنے سے بچ گیا کیونکہ اس میڈیکل کالج کی لڑکی کو بچا لیا گیا جس کا سندھ سے تعلق تھا اب تاریخ دان ریسرچ ضرور کریں کہ سندھ کی سر زمین جو صوفیاء اولیاء اور دانش کی سر زمین ہے وہاں ایک میڈیکل کی لڑکی کے اندر کس طرح خود کش بمبار کی روح شامل ہو گئی ایسے ہی آج پھر سندھ کی ایک لڑکی کا والدین کو فون موصول ہوا ہے کہ وہ جنت میں پہنچ گئی ہے دینی مدارس سے یونیورسٹیوں تک اور طالبان سے داعش تک ہمیں جڑوں تک پہنچنا ہے محض یہ ایک خوشخبری نہیں دینی کہ بمبار کا سر مل گیا یورپی ملکوں پاکستانیوں کے لئے حاصل کرنا کس قدر مشکل ہے کیا وجہ ہے کہ لندن ،پیرس ، بیلجئم ، سپین اور جرمنی میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں میں جن ملکوں سے دہشت گرد وہاں پہنچے ہیں ان میں لیبیا ، یمن ، شام اور مراکش کے ممالک کا نام آیا ہے انہیں ویزہ کیسے ملا ہوگا اور ان کا نیٹ ورک کیا ہوگا-

Image result for barcelona attack

ابھی کل جب بارسلونا کی ٹورسٹ سٹریٹ میں ایک یا دو دہشت گردوں نے معصوم سیاحوں پر ٹرک چڑھا دیا فائرنگ کی اور 13 سیاح جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو پتا چلا یہ کوئی مراکش کا شہری تھا ۔ میری بیٹی چند دن پہلے بارسلونا میں چھٹیاں گذار کر واپس آئی ہے میرے ساتھ ٹی وی پر بیٹھی بارسلونا کی اسی سٹریٹ میں ہونے والے حملے کی کوریج دیکھ رہی تھی اس نے سٹریٹ کو پہچانتے ہوئے بتایا کہ اسی مارکیٹ میں اس وقت چند دن پہلے وہ اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کر رہی تھی اور اسی نے بتایا کہ اس شہر کو دنیا کا محفوظ ترین شہر سمجھا جاتا تھا جہاں کرائم کا ریٹ دنیا بھر کے شہروں سے کم ہے اب شاید دنیا کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں سمجھا جائے گا حملہ آور کو مار دیا گیا ہے وہ مراکش سے تعلق رکھتا ہے کیا اب بھی اس کا ڈی این اے کرانا ضروری ہوگا آئندہ جب بھی کسی بمبار کا سر ملے تو اس کا ڈی این اے اس کتاب سے نکالا جائے جو اس نے پڑھی تھی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *