اسٹیبلشمنٹ ایک بار یہ کرکے تو دیکھے

tariq ahmed
اگر سپہ سالار غیر ملکی سفیروں بشمول امریکی سفیر سے ملنا چھوڑ دے۔ اسی طرح غیرملکی سفارتی وفود سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی روک دے۔ اور انہیں وزارت خارجہ کی حدود و قیود میں رھنے دے۔ اسی طرح غیرملکی صدور اور وزراء اعظم سے ملنا سپہ سالار کی جیورسڈکشن میں بلکل بھی نہیں آتا۔ بلکہ دفاعی معاملات اور ملاقاتیں بھی وزیر دفاع اور وزارت دفاع تک محدود کر دی جائیں ۔ البتہ غیر ملکی فوجی وفود سے روابط ضرور رکھے جائیں ۔ اور خارجہ اور دفاع کے معاملات میں فرنٹ پر آنے کی بجائے ان وزارتوں کے ذریعے اپنا موقف بیان کیا جائے ۔ کہ ساری مہذب دنیا میں ایسے ھی ھوتا ھے۔ تو اس سے نہ صرف اندرون ملک اور پوری دنیا میں ایک مثبت پیغام جائے گا۔ بلکہ یہ پالیسی شاک ابزرورز کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ سول حکومت کی ذمہ داری اور جواب دھی میں اضافہ ھو گا۔ اور سیاسی و سفارتی لوگوں کے فرنٹ پر آنے سے صورتحال بہت بہتر ھو جائے گی۔ جن کی تربیت ھی ان معاملات کو ھینڈل کرنے کی ہوئی ھے۔ ایک بار ہماری اسٹیبلشمنٹ قومی مفاد اور قومی سلامتی کے امور کو عوام کے نمائندوں کے حوالے کر کے تو دیکھے۔ لیکن قابل افسوس رویہ یہ ھے۔ کہ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ خارجہ ، دفاع اور داخلی معاملات پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کو تیار نہیں بلکہ جو وزیراعظم تھوڑا بہت ان اختیارات کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ھے۔ اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع ھو جاتا ھے۔ یہ سیکیورٹی رسک ھے۔ یہ مودی کا یار ھے۔ یہ کرپٹ ھے۔ اور آخر اس کی چھٹی کروا دی جاتی ہے ۔  یہ بھی ایک دلیل بن جاتی ھے۔ ایک کمزور اور کرپٹ وزیراعظم پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یا وزیراعظم اھل ھی نہیں ھے۔ اسے کیا معلوم خارجہ ، دفاع اور داخلہ امور کیا ھوتے ھیں اور کیسے نپٹاے جاتے ھیں ۔ یعنی بائیس کروڑ عوام کا منتخب وزیراعظم صرف اسی لیے نااھل ، کرپٹ اور سیکیورٹی رسک پینٹ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات چاہتا ھے۔ اسٹیبلشمنٹ نے کئی دھائیوں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی، دفاعی پالیسی اور داخلی پالیسی چلا کر دیکھ لی۔ اس راھ حق میں چار جنگیں لڑ لیں۔ پاکستان دو لخت ھو گیا۔ ستر ھزار معصوم لوگوں کی زندگیاں دھشت گردی کی نذر ھو گئیں۔ اٹھارہ وزراء اعظم کو بھینٹ چڑھا دیا۔ ھمارے سارے بارڈرذ غیر محفوظ ھو گئے۔ پوری دنیا میں چین کے علاوہ کوئی ھمارا دوست نہیں ۔ سیکیورٹی معاملات کی وجہ سے ریاست کے پاس کبھی اتنا سرمایہ نہیں رھا۔ کہ وہ لوگوں کو تعلیم ، صحت، ھاوسنگ، صاف پانی جیسی سہولیات مہیا کر سکے۔ یاد رھے۔ یہ سہولتیں فوجی آمر بھی مہیا نہیں کر سکے۔  اتنی قربانیوں کے باوجود دنیا ھمیں قصور وار  سمجھتی ھے۔ وہ امریکہ جس کے لیے آپ نے بہت کچھ کیا۔ ایک بار پھر آپ کو وھمکا رھا ھے۔ آپ کو آپ کی پالیسیوں کے سنگین نتائج سے ڈرا رھا ھے۔ تو پھر آپ کب تک ان معاملات سے چمٹے رھیں گے۔ اب تو آپ نے معیشت اور سی پیک پر بھی منہ ماری شروع کر دی ھے۔ آپ ایک بار یہ سارے مسائل اور معاملات سول حکومت کے حوالے کیوں نہیں کر دیتے۔ اور آرام سے پیچھے بیٹھ کر لائف انجوائے کریں ۔ برج کھلیں ۔ گالف کھیلیں ۔ پارٹیز انجوائے کریں ۔ پراپرٹی اور بزنس کے معاملات دیکھیں ۔ اپنے اسٹیکس کو محفوظ بنائیں ۔ آپ نے ستر سال اس ملک کو چلا لیا۔ اب ایک بار سول منتخب حکومت کو چلانے دیں۔ یار کرکے تو دیکھیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *