بکروں سے مذاق نہ کریں

asghar nadeem syed.

غالباً میٹرک کی درسی کتاب میں ایک مضمون پریم چند کا ہمارے کورس میں تھا جس کا نام تھا " غم ناداری بز بخیر" مطلب یہ تھا کہ اگر آپ کو کوئی غم نہ ہو تو پھر بکری پال لیں لگ پتا جائے گا اس مزاحیہ مضمون میں بکری کی فطری معصومیت کو موضوع بنایا گیا تھا اور ایک جملہ بھی بکریوں یا بکروں کے خلاف نہ تھا نہ ہی گھٹیا جملوں سے بکروں کی دل آزاری کا کوئی سامان اس میں تھا اس کے باوجود پریم چند نے خوب ہنسایا تھا کیا اچھے زمانے تھے کہ طنز و مزاح کا ایسا نمونہ یا معیار موجود تھا دوسری طرف آج عید قرباں کے آتے ہی قربانی کے جانوروں کا مزاح کا نہیں مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں بد ذوقی عروجپر ہوتی ہے تمام چینلز اور پروگراموں میں بکروں کو طرح طرح کی جگتوں سے گھائل کیا جاتا ہے اس حوالے سے ہمارے مزاحیہ شاعروں کی غول بیابانی نے بد ذوقی کے جو پہاڑ سر کئے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ان مزاحیہ شاعروں نے تو اپنی بیویوں کو بھی چوراہے میں بے عزت کرنے کے بعد عورتوں پر رقیق حملوں سے جو گھٹیا مزاح پیدا کرنے کی روایت پیدا کر دی ہے اس پر عورتوں کی تنظیموں کو باقاعدہ احتجاج کرنا چاہئیے کہ یہ مزاح نہیں بد ذوقی ہے عید قرباں پر یہ مزاحیہ شاعر غول بیابانی بن کر مختلف چینلز پر آپ کو دکھائی دیں گے اور پھر بکروں اور بیویوں سے بے ہودہ ٹھٹھہ مخول کر کے دیہاڑی بنائیں گے ارے بھائیو کوئی ڈھنگ کا کام ہی سیکھ لو اور نہیں تو انور مسعود سے ہی لکھنا سیکھ لو

اب اگر عطاء الحق قاسمی جیسا مزاح نگار ہو تو وہ بکروں پر لکھتے ہوئے ان کی معصومیت اور ان سے محبت کا ایسا ثبوت دیتا ہے کہ بے ساختہ ہنسی آ جاتی ہے میں ان کے بہت سے کالموں کا حوالہ دے سکتا ہوں لیکن صرف ایک جملے پر اکتفا کروں گا لکھتے ہیں " میں ایک دنبے کے پاس گیا تو پتا چلا اسے مار مار کر دنبہ بنایا گیا ہے " اصل میں مزاح اور بد مذاقی میں ذرا سا فرق ہوتا ہے یہی باریکی ہی ایک مشکل پردہ ہے جو صرف تخلیقی مزاج سے سمجھ آتا ہے مجھے یاد ہے بہت سال پہلے کراچی سے ایک سٹیج ڈرامہ مقبول ہوا تھا اس کا نام تھا " بکرا قسطوں پر" یہ ڈرامہ اس لئے مقبول ہوا کہ اس وقت سٹیج ڈراموں کا بھرم قائم تھا اور کراچی کے کامیڈین اپنے فن کے ذریعے شستہ مزاح پیدا کر رہے تھے اس کھیل میں بکروں پر ہاتھ صاف کرنے کی بجائے ہمارے معاشرتی رویوں کو طنز کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ کئی سال ہوتا رہا عمر شریف اور انکی ٹیم نے بکروں پر جگت کرکے مزاح پیدا نہیں کیا تھا

Image result for bakra

یہ غالباً 1980 کی بات ہے جب پی ٹی وی لاہور نے مجھے عید الاضحی کا خصوصی کھیل لکھنے کی دعوت دی یہ میری زندگی کا دوسرا کھیل تھا جو مجھے لکھنا تھا نصرت ٹھاکر نے اسے پروڈیوس کرنا تھا جو ہدایت نامہ مجھے ملا وہ یہ تھا کہ یہ فیملی ڈرامہ ہونا چاہئیے اور پورے پاکستان نے دیکھنا ہے پورے ڈرامے میں بکرے کا نہ تو ذکر ہو نہ بکرے سے مزاح کشید کرنے کی کوشش کی جائے نہ ہی بکرا دکھایا جائے صرف عید قرباں کی مناسبت سے قربانی کے جذبے کو اجا گر کیا جائے مجھے یاد ہے یہ ایک نوبیاہتا جوڑے کی زندگی کے مسائل اور پھر قربانی کے جذبے پر اسے ختم کیا تھا روحی بانو اور عابد علی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا پی ٹی وی کا سکرپٹ سیکشن لائق لوگوں پر مشتمل تھا کراچی میں مدبر رضوی اور لاہور میں یونس منصور کے ساتھ ظہور بھائی ہوتے تھے جبکہ اسلام آباد میں سرمد صہبائی موجود تھے ۔ ہمیں بنیادی اخلاقیات سمجھا دی گئیں تھیں مثلاً یہ کہ معاشرے کے نچلے طبقے کے کرداروں مثلاً نرسوں ، صفائی کرنے والےعملے کی کسی طرح توہین یا کامیڈی کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا ۔ پٹھان کرداروں سے طنز و مزاح کا کام نہ لیا جائے خواجہ سراؤں کا کردار ڈراموں میں نہیں دکھایا جا سکتا تھا ان سے مزاح پیدا کرنا تو دور کی بات تھی لیکن پہلی بار غالباً محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دور میں شاہد ندیم نے اپنے سیریل جنجال پورہ میں باقاعدہ خواجہ سراؤں سے کامیڈی کا کام لیا تھا اور اگر آج کے چینلز پر کرنٹ افئیر کے پراگراموں میں کامیڈی شوز دیکھیں تو ہر چینل پر تھیٹر کے اداکار جگتوں کا جمعہ بازار لگائے ملیں گے اور سب خواجہ سراؤں پر ہاتھ صاف کر رہے ہونگے مثلاً اوئے تو چین دا کھسرا ایں ۔ اوئے کھسرے دے منہ آلیا وغیرہ وغیرہ یہ کس حد تک جائز ہے کہ ایک ایسی مخلوق اور اللہ کے بندوں کو ہم کم تر ثابت کرکے لوگوں کو ہنسائیں جو پہلے ہی معاشرے میں دیوار سے لگے ہوئے ہیں میرے خیال سے خواجہ سراؤں کی تنظیم نے کئی بار احتجاج کیا ہے مگر ان کا احتجاج ایک کمزور طبقے کے احتجاج کی طرح دب جاتا ہے-

Image result for transgender in pakistan

گذشتہ سال کراچی کے لٹریچر فیسٹیول میں انڈیا کے خواجہ سراؤں کی تنظیم کی صدر کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے طبقے سے متعلق ہندوستان میں جو حقوق حاصل ہوئے ہیں اس پر بات کرے پاکستان سے بھی خواجہ سراؤں کی رہنما الماس بوبی موجود تھیں وہاں معلوم ہوا کہ انڈیا ہم سے حقوق کے معاملے میں بہت آگے ہے ہم آج کی تاریخ میں کھروں کو ایک ٹھٹھے مخول کی تفریح سمجھتے ہیں اور تمام چینلز اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں میری نانی کہا کرتی تھیں ہیجڑوں کی آہ نہیں لینی میری پیدائش پر ملتان کے محلے کی تنگ گلیوں میں ہیجڑے ناچے تھے اور انہیں خوش کرکے بھیجا گیا تھا وہ دعائیں دے کر گئے تھے

بات کامیڈی سے شروع ہوئی تھی کہ ہم کن کن باتوں اور کرداروں اور مخلوقوں سے خود کو ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی کوئی ہم پر جگت کرے بھپتی کسے اور جملہ پھینکے تو ہم غصے میں مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں کبھی ہم نے سوچا کہ بے زبان بکروں اور جانوروں میں گدھوں کو ہم ہنسنے کا ذریعہ بناتے ہیں تو پھر خود کو بھی ان جانوروں کے سامنے ہنسنے کا موقع پیش کرنا چاہئیے خاص طور پر قربانی کے جانوروں کی آہ بھی نہیں لینی چاہئیے سوچیں اگر ہم پل صراط پر قربانی کے جانور پہ سوار ہو کے گذریں گے تو جسے ہم بھیڈو کہتے ہیں اس پر اگر کوئی حاجی صاحب اپنی توند اور تمبی کے ساتھ بیٹھ کر پل صراط سے گذریں گے تو وہ بھیڈو انہیں بیچ پل صراط کے گرا دے گا اور وہ حق بجانب ہوگا جو ذخیرہ اندوز ، ٹیکس چور تاجر ہیں جو اپنے مزدوروں کا حق مار کر ارب پتی ہوتے ہیں جو بڑے بڑے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی وجہ سے ٹیکس بچا کر کھرب پتی ہو جاتے ہیں وہ جتنا مضبوط وی وی آئی پی بکرا لے لیں جس کو پستے باداموں ، دودھ ، ملائی ، دیسی گھی کی خوراکیں اور فروٹ کھلا کر پالا گیا ہوگا وہی بکرا پل صراط کے عین درمیان میں اس تاجر کو گرا کر ثواب دارین حاصل کرے گا

تو اب سوچ لو بکروں سے کیا سلوک کرنا ہے اور مزاحیہ شاعرو کیا تم اب بھی بیویوں اور بکروں کو ایک لاٹھی سے ہانکو گے گریبانوں میں جھانکو اور رزق کے لئے اللہ سے رجوع کرو بکروں سے نہیں ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *