50 سال پہلے جب ’’گاڈ فادر‘‘پاکستان آئے

the-godfather-ہم میں سے کتنے افراد جانتے ہیں کہ ایک شخص جو کہ اسٹیج اور کیمرے کے سامنے ظالمانہ حد تک حقیقت پسندی کی بدولت ہولی وڈ کے متعدد عظیم اداکاروں کے لیے مثال تھا یعنی بے مثال مارلن برانڈو، نے کبھی کراچی کا بھی دورہ کیا تھا؟
یقیناً بہت زیادہ افراد اس بات سے واقف نہیں، مگر وہ 1965 میں یہاں آئے تھے، ان کی زندگی کا ایسا مرحلہ تھا جو کہ باکس آفس پر کامیابی کی اصطلاح میں کافی کمزور دور کہا جاسکتا ہے۔
مارلن اکیس مارچ 1965 کو بیروت سے کراچی پہنچے۔ اس حقیقت کے برعکس کہ وہ ایک 'مشکل' شخص تھے جن پر اکثر ' خودپسندی' (آخر کیوں نہیں؟) کا الزام عائد کیا جاتا ہے، انہوں نے یہاں ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل میں کئی قلمکاروں سے ملاقاتیں کیں۔بائیس مارچ کو شائع ہونے والا ان کا انٹرویو کافی دلچسپ تھا اور ایسا نظر آتا تھا کہ مارلن برانڈو نے اپنے جوابات کو شوخی کے تسمے میں باندھا تھا جو کہ انٹرویو کرنے والے میں گم ہوگئے جبکہ کچھ سنجیدہ اظہار رائے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ وہ سیاسی اور سماجی شعور رکھنے والے فنکار ہیں۔مارلن کا کہنا تھا کہ ان کا پاکستان میں ایک فلم بنانے کا ارادہ ہے جو کہ ایک ناول پر مبنی ہوگی جسے ابھی انہوں نے پڑھا نہیں، جس کی ہدایات ناقدین کے سامنے خود کو منوانے والے جون ہسٹن اور کو اسٹار رچرڈ برٹن ہوں گے، جبکہ فلم کی شوٹنگ پشاور اور لاہور میں ہوگی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ فلم میں کیا کردار ادا کریں گے تو ان کا جواب قابل پیشگوئی تھا " میں بادشاہ کا کردار ادا کروں گا"۔جب انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا کہ اس پراجیکٹ میں ہیروئین کا کردار کون نبھائے گا تو دو بار آسکر جیتنے والے اداکار کا جواب تھا " ہوسکتا ہے کہ وہ آپ ہی ہوں"۔
کراچی میں مارلن نے قائداعظم کے مزار کا دورہ کیا اور اسے ' مسحور کن عمارت' قرار دیا۔مارلن کو کراچی شہر 'نشاط انگیز' لگا اور تبصرہ کیا " کراچی کے عوام مختلف قسم کے ہیں، ان کی بات چیت اور لباس پہننے کا انداز مختلف ہے، خواتین برقعہ اوڑھتی ہیں اور اپنے چہرے چھپاتی ہیں جبکہ مرد شرٹوں کو اپنی پتلونوں سے باہر نکال کر رکھتے ہیں"۔انہیں یہ سمجھنے میں محض چند ہی گھنٹے لگے " پاکستانی عوام ووٹ کے حقوق سے لطف اندوز ہورہے ہیں، جو کہ امریکا کے جنوبی علاقوں سے بالکل مختلف ہے جہاں سیاہ فام افراد ملک کے دیگر حصوں کے رہائشیوں کے برابر حقوق سے محروم ہیں"۔
پاکستان میں قیام کی مدت سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا " جیسی چیزیں میں دیکھ رہا ہوں تو ہوسکتا ہے کہ یہاں میرا قیام چھ ماہ تک ہوجائے"۔مگر مارلن تو مارلن تھے اور انہوں نے پاکستان میں بہت زیادہ دیر تک قیام نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی نے انہیں " ایک ایسی پیشکش کردی ہو جو وہ مسترد نہ کرسکے' اور پاکستان سے چلے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مارلن کے پہنچنے سے ایک دن قبل یعنی بیس مارچ کو ایک اور امریکی آرٹسٹ بھی کراچی میں موجود تھے پیانو نواز این شکین۔درحقیقت این نے اسی ہوٹل میں اپنے فن کا شاندار مظاہر کیا جہاں گاڈ فادر کے اسٹار ٹھہرے تھے، این نے یورپی اور امریکی کمپوزر کی کلاسیکل دھنوں کو بجایا مگر مارلن کی موجودگی کی خبر نے اس ہفتے کی ہر خاص چیز کو گہنا کر رکھ دیا۔
اس زمانے میں امریکی فنکاروں کی پاکستان آمد ان کے سفارتکاروں سے بھی زیادہ تھی، تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخر کیوں اس وقت کا پاک امریکن کلچرل سینٹر بہت متحرک انسٹیٹوٹ تھا جو کہ آج نہیں۔سولہ مارچ کو پاک امریکن کلچرل سینٹر نے ایک مجسمہ سازی کے شو کی میزبانی کی جو کہ اس وقت نوجوان رابعہ زبیری کے فن کا کمال تھا، جو بعد میں پاکستنا کی ایک ممتاز آرٹسٹ بن کر ابھریں، یہ نمائش بہت اچھی رہی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *