ایک نمک جہان اندر

مستنصر حسین تارڑMHT

ایک مختصر کھلونا ٹرین کھڑکھڑاتی، جُھولتی ایک تاریک غار کے گھپ اندھیر وں میں دفن ہوتی چلی جاتی تھی۔۔۔ ٹرین کے ماتھے پر ایک روشنی آویزاں تھی جو ڈرائیور صاحب کی رہنما ہوتی تھی، غار کی دیواروں میں نصب وقفوں وقفوں سے کچھ روشنیاں بہت مدھم گزرتی جاتی تھیں۔
دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کے اندر تک سفر بے شک ایک منفرد تجربہ ہوتا ہوگا لیکن میرے لئے یہ ایک ہول تھا، ایک آزمائش تھی، میں اس کے ہیجان سے لطف اندوز ہونے سے قاصر تھا کہ مجھے بند جگہوں کے اندر جانے سے خوف آتا تھا۔ میں تو پہلی بار غار حرا تک پہنچنے والی ایک غار کے اندر نہ جا سکا تھا، میرا وہاں دم گھٹتا تھا، میں تو چین کے چھوٹے کلہ ٹویو کے گاؤں کی بلندی پر وہ غار جسے اصحاب کہف کی غار مقامی لوگ قرار دیتے ہیں اس کے اندر داخل ہو کر گھبراہٹ میں واپس آگیا تھا لیکن یہاں میں مجبورتھا، خود نہ جاتاتھا، یہ بچہ گاڑی لڑکھڑاتی مجھے لئے جاتی تھی۔
اس غار میں اتنی سی گنجائش تھی کہ اس کے فرش پر بچھی آہنی پٹڑی پر ایک بچہ گاڑی چلتی جائے لیکن اس کے باوجود بائیں جانب کچھ سیاح یا تو پیدل اس کے اندر چلے جا رہے تھے اور یاپھر لوٹ رہے تھے اور وہ ٹرین کی کوک سن کر غار کی دیواروں سے لگ کر اپنے آپ کو محفوظ کرتے تھے۔۔۔
اور وہ بیوقوف لوگ تھے،
ان کے ہمراہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔
اگر یہ نمک کی کان کہیں یورپ اور امریکہ میں ہوتی تو یوں اس کے اندر پیدل جانے کی ہرگزاجازت نہ ہوتی کہ اس میں جان جانے کے امکانات تھے۔ چونکہ یہ پاکستان میں تھی اس لئے اپنی جان گنوانے کے لئے کھلی سرکاری اجازت تھی۔
ویسے تو ہر تاریخی اور دنیامیں شہرت رکھنے والے مقام کے بارے میں سیاحوں کو بیوقوف بنانے کے لئے فرضی داستانیں گھڑی جاتی ہیں اور اس لئے گھڑی جاتی ہیں کہ سیاح حضرات بیوقوف بننا پسند کرتے ہیں اور ان میں ایک داستان اس کھیوڑہ کی نمک کی کان کے بارے میں گھڑی گئی ہے کہ سکندر اعظم کی سپاہ کے گھوڑے باگیں تڑا کر اس سرزمین کے پتھروں کو چاٹنے لگے تھے کہ یہ پتھر نہیں نمک تھا۔ہم کیوں بحث کریں کہ آخر سکندر اعظم کے گھوڑے کوہستانِ نمک میں کہاں چلے آئے۔۔۔ اور ان کے پتھر چاٹنے سے یہ کھلا کہ ادھر نمک کی ایک دنیا نمکین ہوئی جاتی ہے۔ بہرطور یہ ایک سحر انگیز روایت ہے اس پرشک کرکے ایک نمکین رومان کو کیوں غارت کرنا۔
ویسے تو یہ ہماری تاریخی خصلت ہے کہ ہم ہمیشہ حملہ آوروں کے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں، اپنوں سے نفرت کرتے ہیں، سکندر نام رکھتے ہیں، پورس سے اجتناب کرتے ہیں، اپنا حسب نسب سکندر اعظم سے ملاتے ہیں، یہ کالاش وادی کے لوگ ہوں، درہ خیبر یا افغانستان کے باسی ہوں سکندر اعظم سے ناتا جوڑتے ہیں تو ایک نمکین رومان کو جو سکندر کے گھوڑوں سے منسوب ہے اسے کیوں غارت کریں۔
سکندر اعظم کے گھوڑوں کے بعدنمک کی یہ کان اکبر اعظم تک چلی آئی کہ اس کے عہد میں مقامی اکابرین نے مغل اعظم کو اطلاع کی کہ ظلِ الٰہی آپ کے گھوڑے کیا ہوئے، گھوڑے نہ سہی اپنے کچھ ہاتھی ادھر بھجوا دیجئے کہ ہمارا نمک چاٹ سکیں لیکن شاید ہاتھی نمک نہیں چاٹتے، وہ ادھر نہ آئے اور پھر گورے لوگ آگئے۔ داستانیں، رومانی روایتیں اپنی جگہ لیکن یہ واہیات گورے رنگ کے بندر انگریز تھے جنہوں نے باقاعدہ نمک کی اس کان کو دریافت کیا، اس کے اندر غاروں کا ایک جال بچھایا، جدید آلات سے کھدائی کی، سائنسی تحقیق کو بروئے کار لا کرنمک کی اس کان کو ایک حیرت انگیز عجوبے میں بدل دیا۔۔۔ اور جب لڑکھڑاتی بچہ ٹرین پر ہم اس ہول کے اندرچلے جاتے تھے یہ بھی انگریزوں نے ہی اس نمک خانے کے بھید میں اترنے کے لئے تخلیق کی تھی۔۔۔۔
ہم نے انگریز کے تخلیق شدہ نظام سے کچھ چھیڑ چھاڑ نہ کی، اسے جوں کا توں رہنے دیا۔۔۔ اس کے نظام جو قائم ہوئے، ریلوے، نہریں، پٹوار خانے، عدالتی اور معاشی نظام، انصاف کے پیمانے، زمین کی پیمائش، شاہراہیں، تعلیمی ادارے، فوج کی تربیت وغیرہ۔۔۔ ان سے کچھ چھیڑ نہ کی اور جب انہیں چھیڑا تو انہیں اپنی نالائقی سے برباد کردیا۔
بچہ ٹرین لپکتی، ٹیم اندھیرے میں بھٹکتی چلی جاتی تھی۔
اور ہمارے اوپر سرنگ کی جو چھت سرنگوں تھی اس پر کروڑوں ٹن شفاف نمک کی چٹانوں کا بوجھ تھا، جس کا کچھ اعتبار نہ تھا۔ لیکن اسی لمحے ٹرین کے ڈرائیور نے جو ہماری نظروں سے تو اوجھل تھا، ایک سیٹی بجا دی، بریکیں لگائیں اور ٹرین صد شکر کہ تھم گئی۔ تمام سیاحوں کو درخواست نہیں کی گئی بلکہ حکم دیا گیا کہ نیچے اتر جائیں، مسافر گرتے پڑتے اتر گئے اور یہ ایک کھلا مقام تھا اگرچہ نمک کا تھا۔
یہاں سے ہم پیدل ہو گئے اور ہم بھیڑوں کا چرواہا ایک عمر رسیدہ، کائیاں اور بیوپاری قسم کا سرکاری گائیڈ تھا، مجھے اس کا اسم شریف تو یاد نہیں رہا لیکن کچھ مضائقہ نہیں اگر ا سے اسم شریف ہی کہہ لیا جائے۔ اس نے عمر عزیز کھیوڑے کی کان کی یاترا کرنے والے سیاحوں کو اپنی چرب زبان سے بیوقوف بنانے میں گزاری تھی۔ اس نے فوری طور پر اس نمک کی دنیا کے بارے میں کچھ تاریخی کچھ نیم تاریخی اور کچھ من گھڑت معلومات فر فر سنادیں جو اس نے ایک نمک کے طوطے کی مانند رٹ رکھی تھیں۔
میں عرض کر چکا ہوں کہ ہم نسبتاً ایک کھلے مقام پر آگئے تھے، نمک کی چھت بلند ہو چکی تھی اور دیواریں پرے ہٹ چکی تھیں اور ہمارے قدموں تلے فرش نمک کا تھا۔۔۔ اور یہ ایسا مقام تھا جو ذرا پُر فضا تھا جہاں سانس آسانی سے آتا تھا کہ ہوا دار تھا، آپ اپنے رخساروں پر کان کی چھت میں پوشیدہ جو روزن تھے ان میں سے اترنے والی خوشگوار ہوا محسوس کرسکتے تھے، اگرچہ یہ ہوا بھی کسی نمکین محبوب کے بدن اسے چھو کر آرہی تھی کہ وہ ہونٹوں کو چھوتی تھی تو نمک عشق کا آپ کے بوسے لیتا تھا۔
کھیوڑا کی کان کا اندرون موسم گرما کی تنور شدت میں بھی ایک نیم خنک خوشگواری کا حامل ہوتا ہے بلکہ شنید ہے کہ ماہ رمضان کے ’’مہینے‘‘ میں روزہ دار اس کے اندر آکر اپنے روزے کو نمک سے بھلاتے تھے۔۔۔ روزے کے بھلانے کو غالب یہ نمک اچھا ہے۔
اسم شریف نے ہم بھیڑوں کو پکارا’’چلے آئیے، چلے آئیے، آپ کو ایک ایسی مسجد دکھاتے ہیں جو عجوبہ ہے، اس کی تعمیر میں نمک سے تراشیدہ اینٹیں استعمال کی گئی ہیں اورانہیں روشنیاں منور کرتی ہیں جو ان کے آرپار جاتی ہیں۔۔۔ چلے آئیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *