صولت مرزا کا اعترافی بیان ۔۔اہم فیصلے کر لئے گئے

 raheelصولت مرزا کے سنسنی خیز انکشافات پر مبنی اعترافی بیان کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم فیصلے کر لئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ان اہم ترین فیصلوں پر عمل درآمد اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ پہلے مرحلے پر فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم میاں نوازشریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہونے والی ہے جس میں فوجی سربراہ اب تک جاری کراچی آپریشن کے بعض اہم ترین نتائج سے اُنہیں آگاہ کریں گے اور نئے فیصلوں پر اعتماد میں لیں گے۔دنیا پاکستان کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صولت مرزا کی ویڈیو ریلیز اُس کی پھانسی کی معطلی تک اور اُس کے نتائج کی روشنی میں نئے فیصلوں پر عمل درآمد تک سارے اقدامات نہایت سوچ سمجھ کر اُٹھائے گئے ہیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت یعنی ’’شریفین‘‘کی بیٹھک کے بعد اس پورے عمل کو اس کے منطقی انجام کی طرف لے جانے کا سفر شروع ہو جائے گا۔
باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد اگلے چند گھنٹوں میں گورنر سندھ کا مستقبل بھی طے کر لیا جائے گا۔ جو پہلے سے ہی قانون نافذ کرانے والے اداروں کو مختلف قسم کی یقین دہانیاں کر اکے بیٹھے ہیں۔قانون نافذکرانے والے اداروں نے اُن رہنماؤں کی ایک فہرست بھی مرتب کر لی ہے جو شہر میں ہونے والی قتل وغارت گری میں کسی نہ کسی سطح پر ملوث رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اُن رہنماؤں کے نام کسی بھی وقت ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کئے جاسکتے ہیں اور اُن کی مرحلہ وار گرفتاری کا بھی امکان ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ایک ایسے رہنما پر ہاتھ ڈالنے کا پروگرام ہے جن کا نام سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی تفتیش میں بھی سامنے آیا تھا۔ اورصولت مرزا نے بھی اُنہیں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے ایک پیغام رساں کے طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق اُن کی گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کی طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے بہت جلدی متوجہ ہو سکتے ہیں۔ جس کے لئے صولت مرزا سے ہونے والی تحقیقات کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق’’ شریفین ‘‘کی ملاقات میں ان امور کے علاوہ لندن میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت کے حوالے سے برطانیا میں معاملات آگے بڑھانے پر بھی کچھ امور زیر غور آئیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *