بیانیہ نہیں عملیہ

ammar-masood

ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا ہمارے بارے میںجو سوچ رہی ہے ہم ایسے لوگ نہ پہلے کبھی تھے نہ اب ہیں۔ پیش منظر جو نفرت کا بازار گرم ہے یہ نہ ہمارا شعار ہے نہ روایت۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی بات تھی کہ ہم اپنے فنکاروں پر جان چھڑکتے تھے۔ اپنے گلوکاروں کی تانوں پر سر دھنتے تھے۔ اپنے موسیقاروں کو سر پر تاج کی طرح رکھتے تھے۔ اپنے مصوروں کی شان میں قصیدے پڑھتے تھے۔ اپنے شاعروں کو قومی ہیرو مانتے تھے۔ فراز، فیض ، مجید امجد اور منیر نیازی پر جان چھڑکتے تھے۔ نور جہاں اور مہدی حسن کو اوتار مانتے تھے۔ یہی ملک تھا جہاں ادب اور ادیب کی بحث ہو تی تھی۔ ترقی پسند اور رجائیت پسندوں کے گروہ بنے تھے۔ وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی ادب کے ستون کہلاتے تھے۔ اشفاق صاحب اور بانو قدسیہ کے جملوں کے دلدادہ تھے۔ ممتازمفتی کے افسانے پڑھتے تھے۔ ناصر کی غزل پر سر دھنتے تھے۔ نیاز احمد، مجاہد حسین ، قادرعلی شگن، وزیرافضل اور روبن گھوش کی رومانوی دھنوں سے عشق کرتے تھے۔ ہمارے ہاں محبت کی کہانیاں لکھی جاتی تھیں۔ ہیر رانجھا اور آئینہ جیسی لازوال فلمیں بنتی تھیں۔ ٹی ہائوس میں ادبی بحثیں ہوتی تھیں۔ آرٹس کونسلز بنی ہوئی تھیں۔ تقریری مقابلے ہوتے تھے۔ بات کہنے کی اجازت تھی۔ اظہار سے کوئی منع نہیں کرتا تھا۔
اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب وہ وقت ہے کہ ہماری شناخت دہشت گردی کے حوالے سے ہے۔ اب ہم ایسے لوگ معروف ہیں جو عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرتے ہیں۔ فنکاروں کا گلا گھونٹتے ہیں۔ شاعروں کی تضحیک کرتے ہیں۔ دانشوروں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ فنکاروں کا استحصال کرتے ہیں۔ بچوں پر ظلم کرتے ہیں۔گلوکاروں کو قتل کرتے ہیں۔ ٹی وی پر نفرت کے پیغامات دیتے ہیں۔ فلموں میں تشدد دکھاتے ہیں۔ موسیقی کی بجائے شور کی پذیرائی کرتے ہیں۔ فنون کو اہمیت نہیں دیتے ۔ دنیا بھر میں کوئی سانحہ ہوتا ہے ہمیں فکر رہتی ہے کہ ہمارا نام نہ آ جائے۔ دنیا بھر میں ہمارے پاسپورٹ کو دیکھ کر امیگریشن حکام جس طرح چوکنا ہوتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ہمارا طرز عمل بدلا ہے یا نہیں مگر ہماری شناخت ضرو ر مختلف ہو گئی ہے۔جو کچھ ہو گیا ہے اس پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ماضی کی راکھ کریدنے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ اس بدنما شناخت کو تبدیل کرنے کے لئے اب ایک اجتماعی کاوش درکار ہے۔ حکومتی اور عوامی کاوش مل کر ہی ثمر آور ہو سکتی ہیں۔
پانچ جنوری دو ہزار سولہ کو حکومت پاکستان کے ایک نوٹیفکیشن کے تحت قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن معرض وجود میں آیا۔اس ڈویژن کو قومی تاریخ اور ادبی ورثے کی حفاظت اور ترویج کا کام سونپا گیا۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے نیشنل بک فاونڈیشن ، اکادمی ادبیات، مقتدرہ قومی زبان ، اقبال اکیڈمی، اردو ڈکشنری بورڈ، اردو سائنس بورڈ، نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ، قائد اعظم اکیڈمی، ایوان قبال کمپلیکس، قائد اعظم مزار مینجمنٹ، ڈپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم اور نیشنل لائبریری جیسے ادارے اس ڈویژن کے زیر انتظام دئیے گئے۔اس ڈویژن کی سربراہی وزیر اعظم پاکستان کے مشیر معروف کالم نگا ر اور دانش ور جناب عرفان صدیقی کے حوالے کی گئی۔ عرفان صاحب نے ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں نہایت محنت ، محبت اور دانشمندی سے ان مفلوج اداروں کو متحرک یونٹس میں بدل دیا۔ہر ادارے کی کارکردگی میں نہ صرف بے پناہ اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کی فعالیت بھی پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔اب بیانیے کی تبدیلی پر پوری شدومد سے کام ہو رہا ہے۔ سوچ کے نئے آہنگ سجھائے جا رہے ہیں۔ امن کا پیغام دیا جا رہاہے۔ آشتی کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ فنکاروں کا احترام سکھایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی فنکاروں کو مدعو کیا جا رہا ہے ۔ ان کے علم سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ ان تک اپنا بیانیہ پہنچایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میںپہلی بین الاقوامی خطاطی نمائش بھی اس سلسلے کی کڑی تھی۔ موجودہ صورت حال میں یہ نمائش ایک معجزہ ہی تھی۔ دنیا کے تیرہ ممالک سے 43 فنکاروں نے اس میں شرکت کی۔ پاکستان کے 36 فنکاروں کے شہہ پارے بھی اس نمائش میں شامل تھے۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک کے مندوبین نے اس میں شرکت کی۔ فن پاروں کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) میں آویزاں کیا گیا تھا۔ ترکی کے نامور خطاط دائود بیک تاش نے اس نمائش میں نہ صرف شرکت کی بلکہ سیمینار کی ایک نشست میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے بھی شرکت کی۔ اس پیمانے کی خطاطی نمائش دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی منفرد نمائش گردانی جاتی ہے۔لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اس نمائش میں شرکت کی۔ لیکن اہم بات یہ کہ پاکستان کے خطاطوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ کوئٹہ سے خطاط اپنے فن پاروں کو لے کر اس نمائش میں شریک ہوئے۔ وزیرستان سے پاکستانی خطاط اس نمائش کا حصہ بنے۔یہ بین الاقوامی نمائش اس ملک میں اتنا بڑاواقعہ ہے جس کا ادراک کم ہی لوگوں کو ہو گا۔ ’حرف‘ سے محبت کا سبق اس نمائش کا پیغام تھا۔ لفظ سے عشق کا درس اس نمائش کا پیغام تھا۔ فنکار کی عزت اس نمائش کا پیغام تھا۔ اور اس پیغام کو نہایت دانشمندی سے ساری دنیا تک پہنچایا گیا ہے۔اس سلسلے میں محترم عرفان صدیقی کی کاوشیں قابل صد تعریف ہیں۔ انہی کی شبانہ روز محنت ، عرق ریزی اور معاملہ فہمی نے اسے کامیاب بنایا۔قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن کے علم وادب سے خصوصی شغف رکھنے والے وفاقی سیکرٹری جناب انجینئر عامر حسن ، جوائنٹ سیکرٹری سید جنید اخلاق اور جوائنٹ سیکرٹری کیپٹن (ر) عبدالمجید نیازی اس بڑے کام میں ہر موقع پر انکے معاون رہے۔
پاکستان کے 70سالہ جشن آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب کو کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی۔ انکی ذاتی دلچسپی، محنت اور ہمت سے سارے ملک میں آزادی کے اس عظیم جشن کو منانے کی تیاریاں مثالیں انداز میں جاری رہیں۔ خطاطی کی یہ نمائش بھی اس مبارک جشن کی ایک خوبصورت کڑی تھی۔
گزشتہ چار سال سے حکومت پاکستان کی جانب سے بیانیے کی تبدیلی کا بہت شہرہ ہے۔ اس سلسلے میں قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے علاوہ وزارت اطلاعات و نشریات وقومی ورثہ کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔ فنکاروں ، لکھاریوں اور ہنر مند وں کو یہ ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ پاکستان کا مثبت امیج دنیا کو دکھائیں۔ ’ضرب عضب‘ کے ساتھ ساتھ آپریشن ’ضرب قلم‘ پر بھی زور دیں۔ دنیا کو بتا دیں کہ ہم وہ لوگ نہیں جیسے ہم دِکھ رہے ہیں۔ ہم محبت کرنے والے، امن کے خواہاں لوگ ہیں۔ عشق کا اقبال بلند کرنے والے لوگ ہیں۔
ان اداروں اور فنکاروں کی کاوشیں اپنی جگہ مگر بیانیے کی تبدیلی کے لئے یہ سب کچھ کافی نہیں ہے۔ فنکاروں کا فن ، ہنر مندوں کا ہنر، لکھاریوں کے لفظ، گلوکاروں کی تانیں اس مقصد میں ممد و معاون تو ہو سکتی ہیں مگر حتمی نہیں کہلا سکتیں۔ اٹل تبدیلی اس وقت آئے گی جب بیانیے کے ساتھ عملیہ بھی تبدیل ہو گا۔ جب ہم اپنے عمل سے تبدیلی دکھائیں۔ تبدیلی تقریر کے مرحلے سے گزرکے تنویر بنے گی۔ یہ وہ وقت ہو گا جب مارشل لا کا خوف ہمارے دلوں سے نکلے گا۔ جب آمریت کا خطرہ ٹلے گا۔ جب ادارے اپنی بساط میں رہیں گے۔ جب عوام کے ووٹ کی قدر ہو گی۔ جب منتخب وزیراعظم کو ایک اقامے کے سبب فارغ نہیں کیا جائے گا۔ جب ستر سال سے وزرائے اعظم کو برخواست کرنے والی روایت دم توڑے گی۔جب ٹرمپ ہم پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام نہیں لگا ئے گا۔ دنیا ہمیں دہشت گرد کی نظر سے نہیں دیکھے گی۔جب جمہوریت کا پودا تروتازہ رہے گا۔ جب ادارے مضبوط ہوں گے۔ جب عوام کا اظہار نصیب ہوگا۔ اس سے پہلے بیانیے کی تبدیلی تقریروں اور نمائشوں کی زینت توبن سکے گی۔ سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ذہنوں میں انقلاب نہیں آئے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *