ایم کیو ایم ، اب معاملہ مختلف ہے

رؤف طاہرrauf

 بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ملک ایک اور سیاسی زلزلے کی زد میں تھا۔ صولت مرزا کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سیاسی ایوانوں میں بھونچال کی سی کیفیت تھی۔ لہریں لندن تک جا پہنچی تھیں۔ یوں تو سیاسی دھماکوں کا نیا سلسلہ 11مارچ کی صبح ہی شروع ہوگیا تھا۔ سینیٹ الیکشن کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا تھا۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لئے رابطے جاری تھے کہ الیکشن سے ایک روز قبل رینجرز نے نائن زیرو کا رُخ کیا اور جیو/جنگ کے رپورٹر ولی خاں بابر کے (سزا یافتہ) قاتل فیصل موٹا سمیت کچھ خطرناک مجرم قابو کر لئے۔ یہاں سے بھاری تعداد میں خطرناک اور جدید ترین اسلحہ بھی ملا۔ رینجرز کے مطابق جسے نیٹو کنٹینرز سے چرایا گیا تھا۔
الطاف بھائی کے بقول رینجرز یہ اسلحہ ایم کیو ایم پر ڈالنے کے لئے کمبلوں میں چھپا کر لائے تھے جبکہ گرفتار ہونے والے خطرناک مجرموں سے انہیں گلہ تھا کہ انہوں نے پناہ کیلئے نائن زیرو کا انتخاب کیوں کیا، وہ کہیں اور اِدھر اُدھر ہوجاتے۔ انہوں نے اپنی مثال دی کہ آخر میں بھی تو اتنے برسوں سے لندن میں ہوں۔
ادھر کراچی میں موجود ایم کیو ایم کے لیڈر اس اسلحہ کو حفاظتِ خود اختیاری کے لئے باقاعدہ لائسنس یافتہ قرار دے رہے تھے۔ گرفتاریوں کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں کسی اور جگہ سے گرفتار کیا گیا لیکن ایم کیو ایم کو بدنام کرنے کے لئے یہ گرفتاریاں نائن زیرو سے ظاہر کی گئیں۔ نائن زیرو کی بے گناہی کے حق میں ایک دلیل یہ بھی تھی کہ اس کے گردو پیش کی گلیوں میں کوئی آکر ٹھہر جائے تو یہاں سے اس کی گرفتاری پر نائن الیون کو کیسے موردِ الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے جبکہ یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ نائن زیرو کے گردوپیش کا یہ سارا علاقہ نائن زیرو ہی کی تحویل میں ہوتا ہے۔یہاں ان کے نہایت قابلِ اعتماد لوگ رہائش پذیر ہیں۔ نائن زیرو کی اجازت کے بغیر یہاں چڑیا بھی پر نہیں مارسکتی۔ حامد میر کے کیپٹل ٹاک میں جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا یہ انکشاف خاصا دلچسپ اور چشم کشا تھا کہ برسوں پہلے، سندھ رینجرز کے ڈی جی کے طور پر وہ نائن زیرو گئے تو(وردی میں ہونے کے باوجود ) انہیں بھی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا۔ نبیل گبول اِن گھروں کی تعداد 200 کے لگ بھگ بتاتے ہیں۔ (بے چارے نبیل گبول کے ساتھ بھی دلچسپ المیہ ہوا۔ پیپلز پارٹی ان کی پہلی اور دیرینہ سیاسی محبت تھی۔ کوئی دو سال قبل انہوں نے ایم کیو ایم کا رُخ کیا۔ اپنے پہلے سیاسی عشق سے دستبرداری کا سبب انہوں نے یہ بتایا کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ( اور نبیل کے حلقہ انتخاب) لیاری میں ذوالفقار مرزا نے امن کمیٹی کے نام پر پیپلز پارٹی کا مسلح ونگ تیار کیا تھا ۔ یہ امن کمیٹی اتنی طاقتور ہوگئی کہ یہاں سے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے اُمیدواروں کا فیصلہ بھی کرنے لگی۔ وہ ایک ڈی آئی جی کے ساتھ عزیر بلوچ کی تصویر کا ذکر بھی کرتے ہیں جو بعد میں سندھ کا آئی جی بھی بنا۔نبیل کی قسمت دیکھئے کہ سیاست کو اسلحہ سے پاک دیکھنے کی آرزو میں اس نے پیپلز پارٹی چھوڑی تو نائن زیرو جا پہنچا۔ (اس سادگی اور سادہ لوحی کو داد دیجئے) ۔ ایم کیو ایم نے 2013 کے الیکشن میں اسے نائن زیرو سے ایم این اے منتخب کرایا لیکن اس کا نیاسیاسی رومانس ، ڈیڑھ، دوسال ہی چلا، اس کے بقول، یہاں اس کا کردار محض مہمان اداکار کا تھا۔ ایم کیو ایم جیسی ’’منظم‘‘ جماعت میںوہ خودکو’’مس فٹ‘‘ محسوس کرنے لگا۔ بالآخر اس نے ترکِ تعلق کا فیصلہ کرلیا۔ چھٹی حِس(یا سیاسی شعور) نے اِسے الرٹ کردیا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے بعد جھاڑو پھرنے والی ہے۔ گزشتہ روز اس نے یہ ہولناک انکشاف بھی کیا کہ ’’پٹنی‘‘ نامی ٹارگٹ کلر کے ہاتھوں، اس کی ٹارگٹ کلنگ کا فیصلہ ہوچکا تھا، جائے واردات کے لئے لیاری کا انتخاب کیا گیا تھا تاکہ الزام لیاری گینگ پر آئے۔ (نبیل کا اشارہ واضح تھا)۔ ایم کیو ایم کے بُرے دن آچکے تھے، اس سے قبل 250افراد کی ہلاکت والے سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بھی ایم کیو ایم والے ذمہ دار قرار پائے تھے(تنازع بھتے کی رقم کا تھا)۔
نائن زیرو پر گیارہ مارچ کے چھاپے اوریہاں سے سزایافتہ اور خطرناک مجرموں کی گرفتاری اور خطرناک اسلحہ کی برآمدگی پر الطاف بھائی رینجرز پر چڑھ دوڑے۔ جہانزیب خانزادہ سے ان کی گفتگو کو رینجرز کے لئے کھلی دھمکی قرار دیا گیا تھا جس پر رینجرز نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرادیا جس میں دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 7 اور جان سے مارنے کی دھمکی کی دفعہ 506 بی بھی شامل تھی۔ یہ ایک اور سیاسی دھماکہ تھا۔ تحریکِ انصاف کی آپا زہرہ شاہد کے مبینہ قاتل کی گرفتاری نے ایک اور لہر پیدا کی ۔ اس کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے بتایاگیا تھا۔
کراچی کو سیاست کی سرپرستی میں ہونے والے جرائم سے پاک کرنے کا عمل آگے بڑھ رہا تھا۔ ایم کیو ایم سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاقِ رائے کے ساتھ کراچی آپریشن کا فیصلہ ہوا تو وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اس کے کپتان قرار پائے تھے۔ وزیراعظم نوازشریف کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانے کے لئے پُرعزم تھے جس میں انہیں صاحبِ عزم آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مکمل تائید بھی حاصل تھی۔ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی تو اسے مؤثر تر بنانے کے لئے ایپکس کمیٹیاں تشکیل پائیں۔ کراچی ایپکس کمیٹی کے سربراہ کور کمانڈر تھے۔ کہا جاتا ہے ، وزیراعظم کے گزشتہ دورۂ کراچی میں آرمی چیف نے انہیں کور کمانڈرز آفس چلنے کی درخواست کی جہاں انہوں نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے طرزِ عمل سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے جناب زرداری کو صورتِ حال کی سنگینی کی طرف توجہ دلائی۔
15-16 مارچ کے یوحنا آباد واقعات نے کراچی سے لوگوں کی توجہ ہٹا دی تھی لیکن کراچی اب پھر فوکس میں آگیا ہے۔ صولت مرزا کے انکشافات نے ایم کیو ایم کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ ادھر وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خاں نے برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں لندن میں مقیم برطانوی حکومت کے مہمان کے حوالے سے بھی بہت سے حقائق پر روشنی ڈالی۔اگلے ہی روزہائی کمشنر وطن روانہ ہوگئے، برطانوی ہائی کمیشن کے بقول ہائی کمشنر معمول کی سالانہ چھٹی پر گئے ہیں لیکن جناب سرتاج عزیز کے بقول وہ وزارتِ داخلہ کا مہیاکردہ ضروری ریکارڈ اور بعض اہم دستاویزات بھی ساتھ لے گئے ہیں۔کہا جاتا ہے ، ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان سید محسن علی اور کاشف خاں کامران کی برطانیہ کو سپردگی کے لئے’’ مخصوص انتظام ‘‘بھی کیا جارہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ’’تحویل مجرمان‘‘ کا معاہدہ نہیں۔ ایم کیو ایم ماضی میں بھی آپریشنوں سے گزری لیکن اب معاملہ مختلف ہے۔ ایم کیو ایم اپنی تاریخ کے بدترین چیلنج سے دوچار ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس چیلنج سے کیسے عہدہ برآہوتی ہے۔ جرم اور سیاست کو الگ کرنا اس کا اوّلین تقاضا ہے۔ یہ ’’فیصلہ سازوں‘‘ کے لئے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو کہاں تک دھکیلنا چاہتے ہیں، جسے اب بھی مہاجروں کی قابلِ ذکر تعداد کی حمایت حاصل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *