شادی اور زندگی کی تکرار اور اقرار

faheem-akhtar-uk

مجھ سے لوگوں نے ہمیشہ اس بات کا اصرار کیا کہ میں برطانیہ میں بسے لوگوں کی زندگی اور ان کے رہن سہن پر گاہے بگاہے کچھ لکھوں۔میری بھی کوشش رہی ہے کہ جب بھی مجھے کوئی موقع ملا میں نے اپنے قارئین کے لئے برطانیہ سے منسلک موضوعات کو پیش کیاہے۔ اس بار میں نے سوچا کیوں نہ ہم ایک مزاحیہ اور دلچسپ بات آپ کے لئے پیش کریں تاکہ آپ کے بوجھل ذہن کو کچھ پل کے لئے ہنسنے ہنسانے کا موقع ملے۔ مجھے برطانیہ میں رہتے ہوئے بیس سال سے زیادہ کاعرصہ ہوچکا ہے اور اس دوران یہاں کی سماجی اور ثقافتی ماحول کو بہت قریب سے جاننے کا موقعہ بھی ملا ہے ۔تاہم میں نے اکثر برطانیہ سے باہر رہنے والوں کو برطانیہ میں بسے لوگوں کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیتے دیکھا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں مثلاًلوگوں کا غلط مشاہدہ یا ایک خاص نظریہ یا غلط فہمی وغیرہ ہے۔
برطانیہ میں شادی کرنا اب بھی سماج کی ایک اہم روایت مانی جاتی ہے۔تاہم اب زیادہ تر شادیاں تفریح کے طور پر ہو رہی ہیں اور لوگ مذہبی طور پر شادی کو انجام دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ کافی لوگ شادی کو ایک فرسودہ رسم بھی سمجھ رہے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک مرد اور عورت کو ایک ساتھ رہنے کے لئے شادی کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر لوگ شادی کرنے کے بعد اپنی زندگی کو ایک قید کی زندگی سمجھتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ میاں اور بیوی کے مابین توں توں میں میں شروع ہو جاتی ہے اور نتیجہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے۔ان ہی باتوں کی وجہ سے لوگوں میں شادیاں اب بے اثر ہوتی جارہی ہے۔ آئیے آج ہم اسی موضوع کے تحت شادی اور زندگی کی تکرار کو ایک طنز و مزاح کے طور پر آپ کے لئے پیش کرتے ہیں۔
شادی اور زندگی کی ملاقات ایک بار پھر جناب روایت کے گھر ایک تقریب میں ہوئی۔یوں تو شادی اور زندگی میں کافی قربت تھی لیکن دونوں جب ملتے اپنی اپنی اہمیت کو بیان کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ دونوں پُر خلوص اور پر تپاک طریقے سے ملتے اور رسمی گفتگو کے بعد کچھ ایسے اُوٹ پٹانگ سوال پوچھ لیتے جس سے شادی اور زندگی میں توں توں میں میں ہونے لگتی۔ آخر کار شادی اور زندگی کو اکژ محفلوں سے منھ پھلائے رخصت ہونا پڑتا ۔جس کا شادی اور زندگی کو پچھتاوا بھی ہے۔
محفل میں شادی اور زندگی رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس بیٹھے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔مہمانوں کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے تھے اور فضا میں موسیقی لوگوں کے مزاج کو عاشقانہ بنا رہی تھی کہ اچانک شادی نے زندگی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ’ تو، آج کل کن مسائل سے دو چار ہے‘ ۔

phpThumb_generated_thumbnailjpgزندگی نے ساڑی کا پلّو سنبھالتے ہوئے کہا کہ ’ میں کیوں دو چار رہوں ۔ میں تو خوش ہوں‘۔
شادی نے فوراً پوچھ ڈالا ’ اچھّا ، کل ہی تو تمہاری پڑوس والی بازار میں ملی تھی چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھی ۔کہہ رہی تھی’ اللہ نے ہمیں ایسی زندگی کیوں دی ہے‘۔وہ تو یہ بھی کہہ رہی تھی کہ’ تم ہمیشہ کہتی رہتی ہو کہ زندگی ایک عذاب ہے‘۔
زندگی نے شربت کا گلاس منھ سے لگایا اور کہا ’ہاں کہا تو تھا اور تجھے پتہ ہے کہ ہماری زندگی کبھی کبھی عذاب ہوجا تی ہے‘۔ لیکن تو اتنا کیوں خوش ہے۔ تجھے پتہ ہے، آج کل سارے لوگ یہی کہتے پھر رہے ہیں کہ شادی بے رنگ ہے اور ایک فرسودہ روایت ہے‘۔
شادی نے شربت کا گلاس اپنے منھ سے لگا یا اور کہا کہ ’ اس میں حیرانی کی کون سی بات ہے۔ میرے بارے میں تو برسوں سے لوگ یہی کہہ رہے ہیں ۔ تم نے یہ کہاوت نہیں سنی۔شادی کا لڈّو جو کھایا وہ بھی پچھتایااور جو نہیں کھایا وہ بھی پچھتایا‘۔
زندگی نے کہا’ ہاں ہاں سنا ہے لیکن یہ کہاوت اب پرانی ہو چکی ہے۔ میں حال کی بات کر رہی ہوں ۔ جس سے بات کرو وہ شادی کر کے یا تو اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ کو کوس رہا ہے‘۔ کل ہی کی بات ہے پڑوس میں ایک تقریب میں شرکت کرنے گئی تو وہاں نوجوان لڑکیوں کو میں نے یہ کہتے سنا کہ’ یار شادی ایک بورنگ لفظ ہے۔ سچ پوچھو تو شادی کرنے کا مقصد سمجھ میں نہیں آرہا ہے‘۔
شادی کو زندگی کی باتیں کچھ ناگوار گزرنے لگیں اور اس نے فوراً زندگی سے پوچھ ڈالا اچّھا تو پھر کیوں ہر کوئی شادی کرنا چاہتا ہے اور تجھے بھی پتہ ہے کہ ہر روز نہیں تو ہر ہفتے شادیاں ہو رہی ہیں‘۔اس کے علاوہ سماج میں رہنے کے لئے شادی کرنا ضروری ہے‘۔
زندگی نے شادی سے کہا کہ ’ ایسی بات نہیں ہے اگر تو مغربی ممالک کی مثال لے تو تجھے پتہ چلے گا کہ وہاں شادی گڈّا گڑیا کا کھیل ہے‘۔ بلکہ اب تو لوگ شادی کئے بغیر اچھی زندگی جی رہے ہیں‘۔
شادی نے کہا ’ دراصل مغربی ممالک کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں تجھے علم ہی نہیں ہے۔ ارے وہ اکتا چکے ہیں اور اس کی ایک وجہ شادی نہ کرنا ہے‘۔
زندگی نے کہا ’مجھے تو علم ہے کہ مغربی ممالک والے بھر پور جیتے ہیں اور وہ زندگی سے کافی پیار بھی کرتے ہیں‘۔
شادی نے کہا ’ وہ زندگی سے اس لئے پیار کرتے ہیں کیونکہ وہ شادی شدہ ہوتے ہیں۔ ہاں جو شادی نہیں کرتے ہیں وہ زندگی سے مایوس ہیں‘۔
زندگی نے شادی کی باتوں کو ان سنی کرتے ہوئے پوچھا،’اچھّا یہ بتا اگر شادی سے زندگی خوشحال ہے تو سارے شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے سے بیزار کیوں ہیں‘۔
شادی نے کہا ’ وہ تو محبت کا ایک نمونہ ہے۔کیونکہ بیویوں کو اپنے شوہروں کی کمزوریوں کا علم ہوتا ہے جس سے بیویاں شوہروں کو ذلیل کرتی رہتی ہے۔
زندگی نے کہا ’ نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ شادی نے سبھوں کو اپنے جھانسے میں پھنسا رکھا ہے جس سے بیچارے لوگ گمراہ اور مجبور ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سبھی یہی کہتے ہیں کہ زندگی شادی کے بغیر اچھّی ہے‘۔
شادی نے کہا ’زندگی گزار تو سکتے ہیں لیکن بسر نہیں کر سکتے ہیں‘۔
زندگی نے کہا ’وہ کیسے‘۔
شادی نے کہا ’ وہ ایسے کہ سماج ، مذہب اور روایت کی بنیاد پر شادی لازمی ہے‘۔
زندگی نے ایک بار پھر ساڑی کا پلّو سنبھالتے ہوئے آہستگی سے کہا’ ہاں کچھ حد تک یہ بات درست ہے‘۔
شادی کو زندگی کی مایوسی پر ترس آنے لگا اور اس نے کہا ’ دیکھ ہم جب بھی ملتے ہیں ان ہی باتوں میں الجھ جاتے ہیں جب کہ تجھے پتہ ہے کہ شادی کے بغیر زندگی اور زندگی بنا شادی کے ادھوری ہے‘۔
زندگی نے شادی کی طرف ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا’ تو ٹھیک کہہ رہی ہے۔ تیرے بنا میں اور میرے بنا تو ادھورے ہیں‘۔
موسیقی نے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ تبھی جناب روایت بھاری بھر کم جسم کے ساتھ شادی اور زندگی کے قریب آتے ہیں اور انہیں احترام سے کھانا کھانے کی درخواست کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *