منہ توڑ جواب!

faisal butt

راقم کو رائے دینے کا شوق ہے۔  گھریلو امور کے بارے میں کوئی رائے سننا بیگم کو گوارا نہیں اور دفتری امور میں بن پوچھے رائے دینا ملازمت کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔  لے دے کر ملکی و غیرملکی امور ہی رہ جاتے ہیں جن پر خانگی ہم آہنگی اور روزگار کو خطرے میں ڈالے بغیر رائے دی جا سکتی ہے۔ عام تاثر کے برعکس اس کے لئے حاضر سروس اینکر یا ریٹائرڈ افسر ہونا لازم نہیں، اور اگر آپ کو حاضر سروس اینکران اور ریٹائرڈ افسران کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملا ہے تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ کسی بھی معاملے پر رائے دینے کے لئے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ آپ کو اس معاملے کا ادراک بھی ہو۔  لہٰذا ملکی و غیر ملکی معاملات پر خاکسار بھی بے لاگ تبصرے کرتا ہے، سوائے ان معاملات کے جن پر غیر محتاط تبصرہ لاپتہ افراد کی فہرست میں شمولیت کا باعث بن سکتا ہو۔

Image result for musharraf lecture

بین الاقومی امور پر طبع آزمائی کا تازہ ترین موقع امریکی صدر کی نئی افغان پالیسی کے اعلان نے فراہم کیا ہے۔  افغانستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کا لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان اپنی پرانی افغان پالیسی تبدیل کرے۔  راقم کو پاکستان کی افغان پالیسی سے پہلے پہل تعارف نوّے کی دھائی کے اوائل میں ہوا جب افغانستان کے بارے میں جنرل حمید گل مرحوم کے دو عدد لیکچر سننے کا موقع ملا۔  اس سے پہلے افغان جنگ کے بارے میں خاکسار کو صرف اتنا علم تھا کہ گھر میں خالص گھی کہ جو ڈبّے آتے ہیں وہ در حقیقت ایک یورپی ملک افغان مہاجرین کے لیے بھیجتا ہے۔  ہماری قومی غیرت کو چونکہ یہ گوارا نہیں کہ مہمان ہوں ہمارے اور اشیاٰء خوردونوش باہر والے دیں، لہٰذا باہر سے آنے والے گھی کو بازار میں بیچ دیا جاتا ہے اور افغانیوں کی مہمان نوازی مقامی طور پر تیّار کردہ گھی سے کی جاتی ہے۔

جنرل صاحب مرحوم کو دیکھ کر ازحد خوشی ہوئی کہ شخصیّت ان کی قد آور سہی، جسمانی قدوقامت میں وہ خاکسار کے برابر ہی تھے۔  افغان پالیسی سمجھانے کے لئے جنرل صاحب مرحوم نے جو اصطلاح استعمال کی وہ تھی "سٹریٹیجک ڈیپتھ" یعنی "تزویراتی گہرائی"۔  اب اس اصطلاح کا مطلب تو ایک طرف، خاکسار کو تو یہ تک سمجھ نہیں آئی کہ اس کے ہجّے کیا ہوں گے۔  سوال کرنے کی ہمّت نہ تھی لہٰذا چپ سادھ بیٹھ رہے۔  جنرل صاحب مرحوم کو دوبارہ سننے کا موقع چند دن بعد ملا جب وہ لیکچر دینے راقم کی یونیورسٹی میں آئے۔  دوبارہ سننے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ خاکسار کو امید تھی کہ جو بات پہلی دفعہ سمجھ نہیں آئی وہ شائد اس بار سمجھ میں آ جائے۔  دوسری وجہ یہ تھی کہ منتظمین کو سامعین درکار تھے اور یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ کی تعداد اگرچہ آٹے میں نمک کے برابر سہی، ان کی مناسب نمائندگی ضروری سمجھی گئ۔  آخری وجہ یہ تھی کہ جنرل صاحب مرحوم کو بات کرنے کا ڈھنگ آتا تھا اور پہلے لیکچر کے بعد انہوں نے تلخ سوالات پر بھی ماتھے پر ایک آدھ سے زیادہ شکن نہیں آنے دی۔  دوسرے لیکچر سے پہلے اگرچہ خاکسار نے تزویراتی گہرائی کے ہجّے سیکھ لئے تھے لیکن اس کا مفہوم لیکچر کے بعد بھی واضع نہیں ہوا۔  سمجھ آئی تو اتنی کہ افغان پالیسی کے مقاصد میں سے بھارت کا افغانستان میں اثرورسوخ روکنا اور مغربی سرحد کو پرسکون رکھنا شامل تھا۔  جنرل صاحب مرحوم افغانستان کے مستقبل کے بارے میں خاصے پرامید تھے تاہم ان کی رائے سے اتفاق کرنا خاکسار کو تو مشکل لگا کہ انہیں دنوں کے آس پاس افغانستان کے نامزد وزیر اعظم اپنے ہی دارالحکومت پر بمباری میں مشغول تھے۔

افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلّقات اور مغربی سرحد پر موجودہ صورتِ حال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ راقم کی طرح یا تو افغانیوں کو بھی پاکستان کی افغان پالیسی سمجھ نہیں آئی یا سمجھ تو آئی مگر پسند نہیں آئی۔

گذشتہ ایک آدھ عشرے میں دہشتگردی کے نتیجے میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کی افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں اس کا راقم کو کچھ علم نہیں۔  طالبان رہنماؤں کا فوت ہونے (یا مارے جانے) کے لئے پاکستان کا انتخاب، ریاستِ پاکستان کی طرف سے لال مسجد والوں سے درگذر اور اکوڑہ خٹک والوں پر باقاعدہ شفقت سے تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ تزویراتی گہرائی والی سوچ ابھی تک قائم ہے۔

راقم کی رائے (جس سے آپ کا متّفق ہونا ہرگز ضروری نہیں) میں صدر ٹرمپ نے سر عام وہی بات کی ہے جو ڈان لیکس کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے بند کمرے میں کی تھی۔  اس پر حکومت کی جو درگت بنی اس سے تو یہی لگتا ہے اس پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا فوری امکان نہیں۔

Image result for jamaat islami rally against trump

اس تناظر میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد ردّ عمل توقع کے مطابق ہے۔  وہ دینی سیاسی جماعتیں جو مشتعل ہونے کو تیّار بیٹھی ہوتی ہیں فوراً اشتعال میں آ گئیں امریکہ کی مذمّت میں ریلیاں نکالی گئیں (ایک سازشی نظریہ تو یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ نے تقریر محض جماعتِ اسلامی کو ریلی نکالنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے کی کہ جماعت کو آخری ریلی نکالے تقریباً ہفتہ ہو چلا تھا)۔  ٹی وی سکرینوں پر "ذرائع" تک رسائی رکھنے والوں کی طرف سے پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کا شکوہ کیا گیا ہے اور امریکی پالیسی کی ناکامی کی پیشین گوئیاں کر دی گئیں ہیں۔  قومی اسمبلی کو پالیسی بنانے کوئی دیتا نہیں اور قانون سازی میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔  بظاہر اس کا کام قراردادیں منظور کرنا رہ گیا ہے سو اس نے کر دی۔  حکومتِ پاکستان کا فوری جواب تو "ہٹو، ہم نہیں بولتے" قسم کا ہے لیکن شائد آگے چل کر اس میں کوئی تبدیلی آ جائے، خاص طور پر جبکہ کچھ حلقوں کی طرف سے امریکہ کو "منہ توڑ جواب" دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔  البتّہ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ منہ توڑ جواب کیا ہو سکتا ہے۔

امریکی ڈرون آئے دن (بظاہر ہماری منشاء کے خلاف) ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اسام بن لادن کو لینے وہ بن بلائے اور بغیر اطلاع دئیے ایبٹ آباد آ دھمکے۔  ان واقعات پر حکومت کا ردِّعمل دیکھیں تو صدر ٹرمپ کی تقریر کا منہ توڑ جواب زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ "جاؤ ہم تمہاری امداد نہیں لیتے"۔

ایک سوال جو راقم کے ذہن میں رہ رہ کہ آتا ہے وہ یہ ہے کہ "منہ توڑ جواب" کا مطالبہ کرنے والوں میں سے جن کے بچّے ابھی امریکہ جا کر آباد نہیں ہوئے، اگر ان کے بچّوں کو امریکہ سکونت اختیار کرنے کا موقع ملے تو کیا وہ بھی "منہ توڑ جواب" دیں گے یا منہ اندھیرے امریکی سفارت خانے کے باہر ویزے کی قطار میں کھڑے پائے جائیں گے؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *