مشرقوں اور مغربوں کے درمیان کمزور ترین قوم

سعود عثمانی

saud usmani

پھر حیرت سے پوچھتے ہیں دہشت گرد پیدا کیوں ہوتے ہیں؟کون سے حالات انہیں پیدا کرتے ہیں ؟ کس نصاب میں دہشت گردی پڑھائی جاتی ہے اور کون سے ذہن ان کی ذہن سازی کرتے ہیں ؟
کچھ دن سے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت ساری موبائل ایپلی کیشنز سے نظریں چراتا پھر رہا ہوں۔کٹی پھٹی خون آلود لاشیں،دھان کے پانی بھرے کھیتوں میں بھرے ہوئے الٹے سیدھے پڑے ہوئے جسم،خاک اور خون میں لتھڑے ہوئے شیر خوار بچے،زندہ اور مردہ عورتوں کے بے حرمت برہنہ جسم،سوختہ بدن۔جلے ہوئے مکان ، بہتے ہوئے آنسو روتے ہوئے لوگ اور ان کے ساتھ ہول ناک تفصیل۔ایک تصویر بھی دیکھنے کی ہمت نہیں۔ ایک خبر بھی پڑھنے کا یارا نہیں۔نظریں نہ چرائیں تو کیا کریں؟آنکھیں بند نہ کریں تو کہاں جائیں؟
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بند آنکھیں اور چرائی ہوئی نظریں سفاک حقیقتوں کامنہ نہیں پھیر سکتیں۔سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی تمام تصویریں سچ نہ سہی،تمام بے رحم ویڈیوز روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں درست نہ سہی لیکن کس کس چیز کو جھٹلایا جاسکتا ہے۔خبریں مسلسل ہیں اور روہنگیا مسلمان کی کس مپرسی اور مظلومیت ایک تاریخی حقیقت۔ایک ایسا گروہ جن کا کوئی ملک نہیں.ایک ایسی قوم جس کی کوئی قومیت نہیں۔جو زمین کے کسی ٹکڑے پر اپنا حق نہیں رکھتے ۔زمین کا ٹکڑا تو کیا وہ اپنی جانوں پر بھی حق نہیں رکھتے۔وہ مجبور اور مقہور افراد جو شاید جبر اور قہر برداشت کرنے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں.
ڈیڑھ صدی سے زائد اورچارپانچ نسلیں زمانے اور زمین کا رزق ہونے کے باوجود یہ طے نہیں ہوسکا کہ آخر یہ گروہ کہاں پناہ لے اور زمین کے کون سے ٹکڑے پر انہیں دیگر انسانوں کے برابر حقوق مل سکتے ہیں۔کون سی مٹی ہے جس پر وہ بدھ اکثریت اور فوج کے قتلِ عام سے بے خوف ہوکر زندگی گزار سکتے ہیں؟ان کی اگلی کتنی نسلوں کو اس غلامی سے گزرنا پڑے گا انہیں نہیں معلوم۔انہیں کیا کسی کو بھی معلوم نہیں۔نسل در نسل قتل ، عصمت دری ،گھیراؤ ،جلاؤ کے بیچوں ِ بیچ زندگی کرنے کا اندازہ تو لگائیے۔دس بیس سال نہیں ،ایک دو نسل نہیں ،معاملہ اس سے بہت زیادہ ہے۔
سوشل میڈیا کو چھوڑ دیجیے.دنیا بھر کے مسلمانوں کے احتجاج اور غم و غصے کو ایک طرف رکھ دیجیے۔الجزیرہ ،نیویارک ٹائمز، گارڈین، انڈی پنڈنٹ، بی بی سی کی خبریں ہی اٹھا کر دیکھ لیجیے۔اقوام متحدہ کے مبصرین کی رپورٹیں پڑھ لیجیے۔کسی صحافی رپورٹر اور فوٹو گرافر کو علاقے میں پھٹکنے کی بھی اجازت نہیں۔اقوام متحدہ کی بھیجی ہوئی امداد اور خوراک برمی فوج نے روک دی ہے ۔ کوئی کچھ نہیں کرسکتا ۔ اجتماعی قتل ، پوری کی پوری بستیوں کو نذر آتش کردینا ، اجتماعی عصمت دری ۔ سب خبروں میں موجود ہے اگرچہ ان سب میں لگتا ہے کہ اعداد و شمار کم سے کم کرکے بتائے جارہے ہیں اس لیے اعداد و شمار پر اعتبار مشکل ہے ۔.لیکن کھلی اور دبی آواز میں سب کا کہنا ہے کہ بلا امتیاز پوری نسل کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔گھروں اور انسانوں کو جلایا جارہا ہے ۔ اور میانمار کے نہایت پسماندہ شمالی راکھینی صوبے میں جہاں روہنگیا مقیم ہیں جگہ جگہ سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔خود اقوام متحدہ کے مطابق لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان اپنے علاقے چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرحد کی طرف ہجرت کرچکے ہیں۔لیکن خود بنگلہ دیش میں بھی ان کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں اور حکومت انہیں پناہ گزین ماننے سے انکاری ہے۔انہیں یہاں بھی چھپ کر رہنا پڑ رہا ہے اور خوراک کا کوئی بندوبست نہیں ۔ مون سون کی بارشوں میں وہ ہیں اور کھلا آسمان ۔ ایسے میں صر ف ایک مسلمان لیڈر طیب اردوان کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ کھل کر ان جرائم کی مذمت کرے ۔ اردوان نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ' ' وہ لوگ جنہوں نے جمہوریت کے لبادے میں اس قتل عام پر آنکھیں بند کی ہیں وہ سب اس قتل عام میں شریک ہیں ' ' ۔ اردوان نے بنگلہ دیش سے بھی یہ کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کو پناہ دے اور ان پر ہونے والا خرچہ ترکی اٹھائے گا۔ برطانوی وزیر خارجہ نے برمی لیڈر نوبل انعام یافتہ اونگ سان سو چی (Aung san Suu kyi) کی خوب مدح سرائی کرنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے میں کافی لفظ صرف کرنے کے بعد نرم سے نرم الفاظ میں ان سے توقع کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گی۔معاملے کو دیکھیں گی ؟ چہ خوب ۔ محترمہ نے توکافی عرصے سے ریت میں منہ چھپا رکھا ہے۔ چھ ماہ سے صحافیوں اور پریس سے بات کرنے سے گریزاں ہیں اور ایک بار فرما چکی ہیں کہ برمی فوج قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے۔اس بیان کو کون تسلیم کرے گا جب کہ صورت حال سب کے سامنے ہے اور یہ بھی نظر آرہا ہے کہ یہ سب فوج سے اپنے تعلقات بحال رکھنے اور اپنی سیاسی پارٹی نیشنل لیگ کی نوزائیدہ حکومت کو بچانے کی کوشش ہے ۔دنیا بھر کی انسانیت نواز تنظیمیں جو کیچڑ میں ڈالفن کے پھنس جانے پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتی پھرتی ہیں ، سینکڑوں ہلاکتوں اور لرزہ خیز خبروں کے بعد بھی گونگے کا گڑ کھاکر بیٹھی ہوئی ہیں اورہمارے ہاں ایک مخصوص ذہنیت کے سوشل ریفارمرز کو عید قربان پر گھسے پٹے اور فرسودہ اعتراضات اکٹھے کرنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔
کوئی ملک روہنگیا کا ملک نہیں ہے۔جہاں یہ نسلوں سے رہتے آئے ہیں.وہ بھی نہیں۔میانمار کی دنیا کے ملکوں میں کیا حیثیت ہے ؟ کمزور ترین ملکوں میں سے ایک ملک۔ بنگلہ دیش خود دنیا کے کمزور ملکوں میں سے ایک ملک۔لیکن یہ کمزور ترین ملک بھی اس قوم کومار رہے ہیں اور دھتکار رہے ہیں ۔ تو یہ کہنا کیا غلط ہوگا کہ روہنگیا مسلمان قرآن کے الفاظ میں "مشرقوں اور مغربوں" کے درمیان کمزور ترین قوم ہے ۔ لیکن یاد کیجیے کہ آج سے ساڑھے تین چار ہزار سال پہلے بھی انسانوں کا ایک ایسا ہی گروہ مصر میں تھا جس پر زمین اپنی فراخی کے باوجود تنگ کردی گئی تھی۔کہہ دیا گیا تھا جہاں تم صدیوں سے رہتے چلے آئے ہو وہ ملک تمہارا نہیں ۔اب وہ اپنے ملک میں محض غلام تھے اور ان کا وہی استحقاق تھا جو غلاموں کا ہوسکتا ہے۔جابر اور قاہر قوم کے سربراہ نے کہا تھا کہ ہم ان کی نسل کو نابود کردیں گے۔ ' ' ہم ان کے مردوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان کے سر پر قاہروں کی طرح ہیں ' ' ۔
لیکن یاد کیجیے کہ وہی قوم جو ' ' مشرقوں اور مغربوں کے درمیان کمزور ترین قوم ' ' تھی۔آج دنیا بھر میں اپنے مذہب کے ساتھ، اپنی روایات ،اپنی رسومات کے ساتھ موجود ہے اور دنیا کی اقوام میں باوسائل ترین سمجھی جاتی ہے اوروہ جوان پر قاہرین تھے، محض قاہرہ اور دیگر شہروں کے عجائب گھروں میں عبرت کے لیے باقی ہیں۔کہیں ممّیوں کی شکل میں ،کہیں پائپرس کے مخطوطات میں اور کہیں سنگی تختیوں پر۔ان خداؤں اور اس مذہب پر ایمان رکھنے والا کوئی فردِ واحد نہیں پایا جاتا۔پایا جاتا ہے تو محض محققین میں ان کے خداؤں اور ان کے مذہب اور ان کے زمانوں کے بارے میں ا ختلاف ،جو بکثرت پایا جاتا ہے ۔ فرعونوں کی طرح ان کا مذہب بھی عجائب گھر میں حنوط ہوگیا اور فرعونوں کے ساتھ یہی ہوا کرتا ہے ۔ ' ' پھر دیکھو تو سہی جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ' ' ۔

کون سا نصاب؟کون سی تربیت اور کون سی ذہن سازی ؟ گھیرنے ' جلانے عصمت دری کرنے ،دھتکارنے اور مارنے والوں کے درمیان ہاتھ پکڑنے والا ،بچانے والا کوئی نہ ہو تو چاقو، لاٹھی ، بندوق اور پٹرول بم اٹھا لینے والوں کو کسی نصاب کسی تربیت کسی ذہن سازی کی ضرورت ہے ؟ پھر حیرت سے پوچھتے ہیں دہشت گرد کیسے بنتے ہیں ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *