جب انصاف الٹی سمت چل رہا ہو

رافعہ زکریا

Jeremy Hogan | Herald-Times Rafia Zakaria is a Pakistani native, mother, lawyer, PhD student, advocate of women's rights and a critic of honor killings in Pakistan.

آسیہ ایرانی ایک کم عمر لڑکی تھیں جب ایران میں اسلامی انقلاب رونما ہوا اور مذہبی طور پر معاملات کو دیکھا جانے لگا۔ آسیہ کے خاندان کو یہ تبدیلی مناسب محسوس ہوئی کیونکہ وہ ایک دیہاتی مذہبی خاندان تھا۔ جب تشدد کا زمانہ اختتام کو پہنچا تو ان کے ماموں آیت اللہ گیلانی نئی عدلیہ میں چیف جسٹس بن گئے۔ آسیہ کی زندگی میں اس سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی سوائے اس کے کہ اب ان کا خاندان ایک مڈل کلاس طبقہ کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے تہران میں صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ بہت جلد انہیں ایک سخت مزاج سرکاری میڈیا ہاوس میں نوکری مل گئی۔ انہوں نے بہت تیزی سے ترقی کی اور انہیں بہت سے مرد صحافیوں کو سپر وائزر بنا دیا گیا۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ آسیہ کو استعفی دینے پر مجبور کیا جائے لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو فیمنسٹ نہیں سمجھتی تھیں۔

وہ اپنے خاوند سے ایک دوسرے اخبار کے دفتر میں ملیں۔ 1997 میں خاتمی ایران کے صدر بنے تو انہوں نے بہت سے اخبارات شائع ہونے کا اجازت نامہ جاری کیا۔جب آسیہ کی شادی ہوئی تب تک سخت مزاج مولویوں نے خاتمی کی طرف سے میڈیا کو دی گئی آزادی کے خلاف تحریک شروع کر لی تھی۔ اخبار پر پابندی لگا دی گئی اور نئے شادی شدہ جوڑے کو بے روزگار ہونا پڑا۔ ماں بننے کے بعد آسیہ کی آنکھیں کھلنا شروع ہوئیں اور انہیں احساس ہوا کہ مردوں اور خواتین کے بیچ خاندان کے بوجھ کو کیسے غیر منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کی مدت حامل اور بچے کی پیدائش کے عرصہ کے دوران ان کے خاوند باقاعدگی سے کام کرتے رہے۔ پھر آسیہ کو بھی ایک نوکری مل گئی ۔

2004 کی گرمیوں کے موسم میں انہوں نے ایران کے داخلی علاقوں کا دورہ کیا اورصاہالی نامی لڑکی کے کیس پر تحقیقات کا آغاز کیا جسے سنگسار کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے کیس میں بہت سے باقاعدگیاں دیکھ لی تھیں ۔ آفیشل رپورٹ کے مطابق بتایا گیا تھا کہ صاہالی 22 سال کی تھیں جب انہیں سنگسار کیا گیا لیکن انہوں نے جس شخص سے بھی پوچھا اس نےبتایا کہ صاہالی کی عمر 16 سال تھی۔ سچائی کا پتہ انہیں اس وقت لگا جب انہوں نے لڑکی کے والدین سے ملاقات کی۔ لڑکی کی والدہ کی وفات ہو چکی تھی اور اس کے والد نشہ کرتے تھے۔ لڑکی اپنے نانا نانی کے ساتھ رہتی تھی جو بہت غریب اور بوڑھے تھے اور بچی کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تھے۔ اس وقت لڑکی کی عمر صرف 9 برس تھی۔ اس سال ایک ہمسائے نے لڑکی کی عزت لوٹی اور اسے رقم دے کر خاموش رہنے کا کہا۔ لڑکی نے اس رقم سے کھانا خریدا۔ جب وہ 13 سال کی ہوئی تو ایران کی مورالٹی پولیس نے اسے گرفتار کر لیا اور جج نے اسے 100 کوڑوں کی سزا دی۔ اس کے بعد انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا اور پھر ایک دن سنگسار کر دیا گیا۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک نابالغ فرد کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی اس لیے صاہالی کی عمر جعلی طریقے سے بدل دی گئی۔ آسیہ امینی نے لڑکی کا اصل پیدائشی سرٹیفیکیٹ دیکھا اور پتہ لگا لیا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ جس اخبار کے ساتھ وہ کام کرتی تھیں اس کی انتظامیہ نے لڑکی کی کہانی شائع کرنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کہانی ایک دوسری خاتون نے بدل کر شائع کر دی۔ تب آسیہ امینی ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ ایک اسلامی عدالتی نظام میں بھی خواتین پر کس قدر ظلم کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں اور مہینوں میں انہوں نے اپنے آپ کو ملک کے عدالتی نظام کے خلاف جدو جہد کے لیے وقف کر دیا۔ ایران میں اپنے ہی خاندان کے افراد کے ہاتھوں عزت لٹانے والی لڑکیوں کو وحشیہ قرار دیا جاتا ، ان کی عمریں اور شناخت کی دستاویزات بدل دی جاتیں، اور انہیں سنگسار کر دیا جاتا باوجود اس کے کہ سنگساری ایرانی اسلامی قانون کے مطابق جائز نہیں تھی۔ ایک کیس میں آسیہ نے خود اس گاوں کا دورہ کیا جہاں لڑکی کو سنگسار کیا گیا تھا۔ گاوں کے ایک باسی نے انہیں خون سے رنگے پتھر بھی دکھائے۔ خاتون چیختی چلاتی رحم کی بھیک مانگتی رہی لیکن عوام کو اس پر ترس نہ آیا۔

اس واقعہ کے بعد آسیہ امینی نے ایک مہم شرو ع کی جس کا نام رکھا گیا: سنگساری پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔آسیہ اور ان کے ساتھیوں نے معاشرے کو آگاہی دینے کی کوشش کا آغاز کیا اور سنگساری کے تمام کیسز کھولنے اور ان کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کےآفس میں بے شمار کیسز اکھٹے ہو گئے اور بہت سی کالز موصول ہونے لگیں۔

اس کے بعد ان کے لیے حالات مشکل تر ہونے لگے۔ 2007 میں احمدی نژاد ایران کے صدر تھے جنہیں پریس اور این جی او کے خواتین کے حقوق اور عدالتی اصلاحات کے لیے احتجاج سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ امینی پر عجیب و غریب الزامات لگا کر انہیں جیل میں ڈالا گیا جس کے بعد وہ بہت بیمار پڑ گئیں جس کی وجہ تھکاوٹ اور ذہنی دباو تھا۔ پریشر بڑھنے لگا اور مہم میں مزید سختی لائی گئی اور پھر 2009 میں احمدی نژاد ایک بار پھر صدر بن گئے۔ کچھ عرصہ بعد جیل سے رہا ہونے والی ایک خاتون امینی کے گھر پہنچیں اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ ملک چھوڑ کر چلی جائیں۔ امینی نے ایسا ہی کیا۔

آسیہ امینی ایران کی اس نسل سے تعلق رکھتی ہیں جو حقیقی طور پر جان چکی ہیں کہ ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔ انہیں ایران میں پڑھایا لکھایا گیا جہاں ان کے چچا ایک با وقار کلرک تھے۔ وہ اس قدر با اثر نہ تھیں کہ مسلم دنیا کے مرد انہیں مغربی خیالات پروان چڑھانے کا الزام دے سکیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک فیمنسٹ بھی نہیں سمجھتی تھیں۔ ان کی تو بس یہی خواہش تھی کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں اور خواتین پر ظلم و جبر اور عدم انصاف کے مسائل کو ختم کریں ۔

یہ حقیقت کہ وہ چاہتی تھیں کہ معاشرے میں تبدیلی لائی جائے، خواتین کو ان کے وہ تمام حقوق ملیں جن کی وہ حقدار ہیں، ظلم کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کو قتل کر کے ہمیشہ کے لیے بھلا دینے کا رویہ ختم ہو، ان سب چیزوں نے انہیں جلا وطنی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جہاں سے اب وہ اپنے ملک اور اپنے لوگوں کو صرف دور سے دیکھ سکتی ہیں۔مسلم دنیا میں بہت سے خواتین کو جو اپنے اور ساتھی خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ جیسے ہی وہ عوام کے سامنے اپنی آراء کا اظہار کرتی ہیں، اور اختلاف کی جرات دکھاتی ہیں، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نفرت کا بازار گرم کرنے والوں کو ننگا کرنے کی کوشش کرتی ہیں انہیں مغربیت زدہ اور غیر اخلاقی اور بے شرم فیمنسٹ قرار دیا جاتا ہے۔

ان پر تہمتوں اور رالزامات کی بارش کر دی جاتی ہے جو ان کے لیے موت سے کم نہیں ہوتی۔یہ عام زندگی کے خوفناک خاتمہ کی مانند ہی ہوتی ہے ۔ پاکستانی معاشرہ اس چیز کا چیمپئن بن چکا ہے۔ یہاں بے شمار آسی ایمییز ہیں جنہیں طاقت کے بل پر خاموش کر دیا جاتا یا قتل کر دیا جاتا ہے صر ف اس لیے کہ وہ اپنی آواز بلند کرنے کی ہمت دکھاتی ہیں اور برابری کے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔


courtesy:https://www.dawn.com/news/1354792/when-justice-is-regressive

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *