جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے ،رضا ربانی

Rabbaniپاکستان پیپلز پارٹی نے متنبہ کیا ہے ملکی جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کیلیے باقاعدہ منظم کوششیں کی جارہی ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس طرح کی سازشوں سے نمٹنے کیلیے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعہ کو سینیٹ میں صدر کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں رضا ربانی نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئین کو خطرات لاحق ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک رہنما کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کی بات کی گئی اور اس کے ایک دن بعد کراچی کو آئین کے ارٹیکل 245 کے تحت فوج کے حوالے کرنے کا شوشہ چھوڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کبھی بھی آئین کے آرٹیکل 245 کا نفاذ ہوتا ہے تو جن جن علاقوں میں فوج آتی ہے وہاں کا نظام قانون قابو سے باہر ہو جاتا ہے، اس وقت اسی طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے پنجاب کے علاوہ بقیہ تینوں صوبے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کو ڈی ریل کیا جاتا ہے تو دوبارہ جمہوریت کے قیام کیلیے ایک طویل جدوجہد درکار ہو گی۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے قومی سلامتی کے معاملے پر وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز کو اڑے ہاتھوں لیتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پارلیمنٹ کونظر انداز کر رہی ہے اور متعدد درخواستوں کے باوجود وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی نے ایوان میں آکر سیاسی بیان دینے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔

سینیٹ میں سابق قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جن جن جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں ان پر پابندی عائد کی جائے۔

انہوں نے کراچی کو ملک کی معاشی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کو عسکری ونگ ختم کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں اور جو جماعتیں ایسا کرنے میں ناکام رہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے حکومت پر پارلیمنٹ سے حقیقت چھپانے کا الزام عائد کیا، سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے سربراہ نے کہا کہ حکومت مستقل بجلی کی پیداوار کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لے رہی ہے اور اعلان کیا کہ وہ گردشی قرضے کے خاتمے کیلیے کی جانے والی 500 ارب روپے کی ادائیگی کی تحقیقات کریں گے۔

پیپل پارٹی کے جہانگیر بدر نے اعتراف کیا کہ پی پی پی کی حکومت اپنے پانچ سالہ دور میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے عوام اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔

مسلم لیگ ن کے جعفر اقبال نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بحیثیت صدر غیر آئینی فیصلے کیے، ان کا کہنا تھا کہ آئین مین ڈپٹی وزیراعظم کی تعیناتی کی کوئی شق موجود نہیں لیکن غیر آئنی انداز میں اس عہدے کا قیام عمل میں لاتے ہوئے یہ منصب مسلم لیگ ق کو دیا گیا۔

انہوںنے کہا کہ صدر زرداری نے کوشش کی کہ ان کے دور میں عدالت سے سزا یافتہ قاتلوں اور دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا نہ دی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *