موت کی سائنس

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

ایک صاحب ہیں،نام ہے ان کا Dmitry Itskov‘عمر چونتیس سال ہے‘ روس میں رہتے ہیں ‘ ارب پتی ہیں ‘ ان کا ارادہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے کا ہے ‘ اس مقصد کے لئے وہ ایک پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں جس کا نام انہوں نے ’’اوتار‘‘ رکھا ہے ‘اس پروجیکٹ کی کامیابی کے لئے انہوں نے تیس سائنس دانوں کی ٹیم تشکیل دی ہے جس کاکام اگلے دس برسوں میں انسانی دماغ کو روبوٹ کے’’ جسم‘‘ میں منتقل کرنا ہے ۔اتسکوف نے فوربز میگزین کی فہرست میں سے اپنے ہم پلہ ارب پتی افراد کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں انہیںپیشکش کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو کچھ سرمائے کے عوض ابدی زندگی پا سکتے ہیں ‘بقول اتسکوف ’’ہم تہذیب کی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے وہاں آن پہنچے ہیںجہاں ایسی ٹیکنالوجی کو تخلیق کرنا قریباً ممکن ہو چلا ہے ‘یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ ابدی حیات کے اس خواب کو اپنی زندگی میں ہی حقیقت میں بدل لیں !‘‘اتسکوف نے ان ارب پتیوں سے درخواست کی ہے کہ ابدی حیات پروجیکٹ کی تکمیل میں وہ اس کی مدد کریں ۔اتسکوف کی سائنس دانو ں پر مشتمل ٹیم 2045ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کو تشکیل دے کر اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جس کے ذریعے پہلے مرحلے میں کسی انسان کے شعور کوartificial carrierمیں منتقل کرکے cybernetic immortalityکو ممکن بنایا جا سکے گا ‘گویا انسانی ذہن کو ’’اپ لوڈ‘‘ کرکے جسم کو خالی کر دیا جائے گااور جسم کا مالک ’’روبوٹ میں سرایت ‘‘کر جائے گا‘دوسرے مرحلے میں انسانوں کے لئے ایک نیا جسم تیار کیا جائے گا جس میں ایک مکمل مشینی دماغ انسان کی زندگی اور ذہن کو یوں کنٹرول کرے گا کہ انہیںجسم کے باہر بھی زندہ رکھا جا سکے اور تیسرے مرحلے میں ایک ایسی کمپیوٹر کی دنیا تخلیق کی جائے گی جہاں مصنوعی انسانی دماغ اپ لوڈ کئے جا سکیں(خدا جانے اس سب کا کیا مطلب ہے )!اتسکوف کا خیال ہے کہ ان مراحل کو عبور کرنے کے بعد انسان روشنی کی رفتار سے سفر کر سکے گا ‘دیوار کے آرپار جا سکے گاوغیرہ وغیرہ۔اتسکوف نے روس میں Evolution 2045کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی رجسٹرڈ کروا لی ہے۔روسی ارب پتی کو فی الحال ہم اس کے حال پر چھوڑتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں ‘ گوگل کے مستقبل شناس Ray Kurzweilکا بھی یہی خیال ہے کہ اگلے تیس برسوں میں انسان اس قابل ہو جائے گا کہ اپنا مکمل دماغ کمپیوٹر پر اپ لوڈ کر کے digitally immortalہو جائے ‘ اگر ایسا ہو گیا تو یہ واقعہ singularityکہلائے گا۔مسٹر رے کا کہنا کہ سن 2100ء تک انسانی جسم کے حیاتیاتی اعضاکو میکانکی اجزا سے تبدیل کیا جا سکے گااور اگر یہ ہو گیا تو انسان کا ابدی حیات کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔میری طرح جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب باتیں محض دیوانے کا خواب ہیں ان کے لئے یہ اطلاع دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ پینٹاگون نے بھی اسی قسم کے اوتار نامی پروجیکٹ کے لئے سات ملین ڈالر کا بجٹ مختص کر رکھا ہے ۔یہ تو میں نہیں جانتا کہ اگلے تیس برسو ں میں سائنس دان انسان کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں ‘ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگلے تیس برسوں میں انسانی زندگی اپنی موجودہ شکل میں برقرار نہیں رہے گی ‘جسے اس بیان میں مبالغہ آرائی کا شبہ ہو وہ گزشتہ پچاس برس میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے سکتا ہے ۔ذاتی استعمال کے لئے پہلا کمپیوٹر 1957میں آئی بی ایم نے بنایا تھا‘ 1982میں سی ڈی روم ایجاد ہوئی تھی جبکہ20نومبر 1985کو مائیکروسوفٹ نے ونڈوز کا پہلا ورژن پیش کیا تھا، ونڈوز کی تخلیق نے کمپیوٹر کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا اور اس کے بعد سے کمپیوٹر ہر گھر میں پہنچ گیا ‘یہ وہ زمانہ تھا جب کمپیوٹر میں فلاپی ڈرائیو ہوا کر تی تھی ‘اور جس ہارڈ ڈسک کی میموری دس ایم بی ہوتی تھی اسے رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی ‘اصل انقلاب 1990میں آیا جب انٹرنیٹ یعنی ورلڈ وائڈ ویب وجود میں آئی ‘غالباً حالیہ انسانی تاریخ میں انٹرنیٹ سے زیادہ پر اثر ایجاد شاید ہی کوئی ہو‘ اس ایجاد نے ہمارے سوچنے سمجھنے اوررہن سہن کے انداز تبدیل کر دئیے اورتہذیب ‘ثقافت ‘ اخلاقیات کے معنی بدل کر رکھ دئیے۔ جو بچہ 1990کے بعد پیدا ہوا ہے اس کا ذہن اپنے والدین سے ایک سو اسّی ڈگری مختلف ہے ‘ آج پیدا ہونے والے بچے کے والدین اگر اسّی کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے تو اس وقت بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی اور وی سی آر کوٹیکنالوجی کی معراج سمجھا جاتا تھا‘ جبکہ آج تین سال کا بچہ وائی فائی کا پاس ورڈ مانگتا پھرتا ہے!اب ذرا سوچئے کہ جب یہ تین سال کا بچہ باپ بنے گا تو اس کا اپنا بچہ تو غالباً ماں کے پیٹ میں ہی آن لائن ہوگا!
سائنس کی اس شتر بے مہار ترقی کے تین نتائج نکلیں گے‘ پہلا‘ ٹیکنالوجی سے بوجھل زندگی‘ پرائیویسی کا خاتمہ اور زمین پر سکڑتی ہوئی جگہ ۔ہماری زندگیاں ٹیکنالوجی کی اس قدر محتاج ہو چکی ہیں کہ اینڈرائیڈ فون کے بغیر ایک دن گزارنا بھی محال ہے ‘ہاتھ میں اگرفون نہ ہو تو خواہ مخواہ یتیمی کا احساس ہونے لگتا ہے ‘یقیناً اس میں لطف بھی ہے اور آسائش بھی ‘ مگر ساتھ ساتھ انسان نیچر سے دور ہوتا جا رہا ہے‘ خاص طور پر ہم جیسے پسماندہ ممالک جہاں لوگ ٹیکنالوجی کو صرف کینڈی کرش کھیلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔سائنسی ترقی کا دوسرا نتیجہ خاصا خطرناک ہے اور اس کے نتائج ابھی سے سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں ‘ہماری زندگیوں سے پرائیویسی ختم ہو چکی ہے ‘ہم جیسے ممالک میں تویہ بات کہنا مذاق اڑوانے کے مترادف ہے ‘یار لوگ جگتیں لگانا شروع کر دیتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے پیش نظر یہ مسئلہ سرفہرست ہے ‘ اسی لئے امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے اہلکار ایڈروڑ سنوڈن نے جب اپنے ادارے کے جاسوسی حربو ں کا پول کھولا تو وہ تاریخی جملہ کہا ’’میں ایسی زندگی نہیں گزارنا چاہتا جہاں ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہو!‘‘صبح ناشتے کے وقت آن لائن اخبار پڑھنے سے لے کر اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے تک‘ انٹر نیٹ سرفنگ کرنے سے لے کرٹویٹ کرنے تک ‘ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے سے لے کر ای میل کرنے تک ‘کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کیNSA نگرانی نہ کرسکے اور NSAپر ہی کیا موقوف کوئی بچہ بھی آج یہ کام کرسکتا ہے ‘ سائنس کی یہ قیمت ہے جو شاید ہم چکا تو رہے ہیں مگر اندازہ نہیں کہ یہ کس قدر بھاری ہے۔ سائنسی ترقی کا تیسرا منطقی نتیجہ بڑھتی ہوئی آبادی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ‘ بیماریوں پر قابو پانے سے انسانی عمر میں اضافہ ہو گیا ہے ‘ جسکے نتیجے میں آج کرہ ارض پر سات ارب انسان بستے ہیں جبکہ زمین کے ذرائع دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں ‘ ممکن ہے ٹیکنالوجی کی بدولت اسی زمین سے ہم دس ارب انسانوں کی زندگی کے اسباب پیدا کر لیں مگر فی الحال صورتحال خاصی خوفناک ہے۔مجھے سائنس کی اس جادوئی ترقی سے خوشی تو ہو رہی ہے مگر ایک انجانا خوف بھی محسوس ہو رہاہے ۔ہماری زندگیاں ایسے بدلنے والی ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوگا کہ کب ہم انسان سے مشین بنیں گے اور امر ہوجائیں گے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *