این اے 120 کا ووٹ ججوں کو طاقتور کرے گا، عمران خان

imran

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کے بچوں نے کونسا کاروبار کیا کہ وہ اربوں پتی بن گئے،یورپ کے وزیروں کے بچے ارب پتی کیوں نہیں بنتے، جارج بش کے بچے کیوں ارب پتی نہیں بن سکے ۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز جب ووٹ مانگنے آئیں تو ان سے یہ سوال پوچھیں، کہ حسن نواز نے کیا جادو کیا کہ وہ 6 ارب روپے کے گھر میں رہتا ہے،مریم بی بی کو تو لیکچر دینا چاہیے کہ ارب پتی کیسے بنتے ہیں،جب یہ ووٹ مانگنے آئیں تو ان سے پوچھیں کہ ارب پتی کیسے بنتے ہیں،عوام پیچھے رہ جاتے ہیں اور یہ ارب پتی بن جاتے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ لاہور کے حلقہ این اے 120میں عوام کا ووٹ ججز کو طاقت ور کرے گا، یہ انتخاب نہیں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جارہا ہے ،جب یہ ووٹ مانگنے آئیں تو ان سے پوچھیں یہ ارب پتی کیسے بنے؟

این اے 120 لاہور میں تحریک انصاف نے قرطبہ چوک مزنگ میں میدان سجالیا، جس میں کارکنوں کا جوش خروش دیدنی تھا۔

انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ این اے 120 کے لوگو، آپ کےعلاقوں میں غنڈے ہیں جو ظلم کرتے ہیں،یہ الیکشن نہیں ہے،پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جارہاہے ،پاکستان کے کمزور طبقے کو پیغام دینے آیا ہوں ،جب سے پاکستان بنا ہے طاقتور ہمیشہ جیتا ہے ،کمزوروں کو کبھی انصاف نہیں ملا، طاقتور ہر ناجائز کام کرسکتا تھا ،کمزور کو اپنے جائز کام کے لیے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں آپ ووٹ ڈال کر ججوں کا شکریہ ادا کرو گے،این اے 120 میں آپ کاووٹ سپریم کورٹ کو مضبوط کرے گا، آتش بازی تب چلےگی جب الیکشن جیتیں گے،آپ کا ووٹ فیصلہ کرے گا پاکستان کس طرف جائے گا، کیاآپ اس آدمی کوووٹ ڈالیں گےجس کو عدالت نے صفائی کا پورا موقع دیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم ایک نئے دور میں جارہے ہیں ، نیا پاکستان بننے جارہا ہے ،طاقتور ڈاکو جی ٹی روڈ پر کہتا پھر رہاتھا مجھےکیوں نکالا؟آپ کا ووٹ جج صاحبان کو طاقت دے گا، کیاآپ اس آدمی کوووٹ ڈالیں گےجس کو عدالت نے صفائی کا موقع دیا،اربوں روپے چوری کرنے والوں کو پولیس سلام کرتی تھی ،سوا سال میں عدالت میں جواب جمع نہیں کرایا گیا ، انہوں نے عدالت میں جعلسازی کی ، قطری خط لائے ، نوازشریف کا لندن میں محل جیلوں میں قید سارے چوروں کی چوری سے زیادہ ہے،اگراتنےبڑے ڈاکو کو ووٹ ڈالنے ہیں تو چھوٹے چوروں کا کیا قصور ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز سمجھتےہیں کہ طاقتور کو تو نہیں پکڑا جاسکتا اس لیے کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا،سوا سال بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا،جب ادارے تباہ ہوتے ہیں تو ملک کا مستقبل تباہ ہوجاتا ہے ،ن لیگ والے سب کچھ کرلیں لیکن لاہور کے ووٹر فیصلہ کرچکے ہیں،یاسمین راشد کو مبارکباد،انشاءاللہ 17تاریخ کوالیکشن آپ جیتیں گی،یاسمین راشد کا مقابلہ ریاست سے ہے،فیڈرل گورنمنٹ سےہے۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پولیس مریم بی بی کی مدد کررہی ہے،لاہور کے لوگ 17 تاریخ کو ووٹ سے بتائیں گے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ ہیں،میں نے برطانیہ میں 13 سال کرکٹ کھیلی ،جب کرکٹ کھیلتا تھا تو 13 سال بعد 60 لاکھ کا فلیٹ قرض سے لیا،دبئی میں اربوں روپے کے گھر اور ٹاورز کہاںٕ سے آئے ہیں،خیبرپختونخوا میں ٹورازم آئی ، لوگوں کو نوکریاں ملیں ،خیبر پختونخوا میں غربت کیسے کم ہوئی کیونکہ عوام کو تحفظ ملا،بلین ٹری منصوبے سے 5 لاکھ لوگوں کو روزگار ملا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا چیک اپ ہوتا ہے وہ باہر چلے جاتے ہیں، ان کے گھر والے لندن علاج کیلئے چلے جاتے یں، یہاں عوام کا علاج ہوتا ہے، میرا خود کا علاج کئی بار شوکت خانم میں ہوا،اتنے عرصے ان کی حکومت تھی ایک ایسا اسپتال نہ بناسکے جہاں کلثوم نواز کا علاج ہوتا30 سال میں 6 باریوں کے باوجود ایک اسپتال نہیں جہاں شریفوں کا علاج ہوجاتا،حلقے کے لوگو!ان سے پوچھنا کہ آپ یہاں اسپتال نہیں بناسکے ؟

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پولیس سے غلط کام کرائے جاتے ہیں،پولیس کا یہ حال ہے کہ لوگوں کو پولیس سے خوف آتا ہے ،پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو کالے کوٹ پہنا کر وکیلوں کے فنکشن میں بھیجا جاتا ہے،الیکشن کمیشن کو کہنا چاہتے ہیں ،30ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہوئی،حلقے میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں ۔

انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کا کہ یہ ضمنی انتخاب نہیں بلکہ دو نظریات کا مقابلہ ،نواز شریف کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں تھی، تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *