نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ کی بالادستی ؟

OLYMPUS DIGITAL CAMERAکیا نیشنل سیکیورٹی کمیٹی وزیر اعظم نواز شریف کے، پارلیمنٹ کی بالا دستی کے تصور کی نفی ہے؟ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت میں (الاّ ماشاء اللہ) اہلِ سیاست کے حوالے سے پائے جانیوالے ”تحفظات“ کی تاریخ پاکستان کے قیام ہی سے شروع ہو جاتی ہے، چنانچہ بانی ٴ پاکستان کو پاک فوج کے بعض اعلیٰ افسران کو سختی سے یاد دلانا پڑا کہ ان کا کام حکومتی امور میں مداخلت نہیں۔ پالیسی بنانا اور فیصلے کرنا سول حکومت کا کام ہے اور ایک ماتحت ادارے کی حیثیت سے فوج کا فرض سول حکومت کے احکامات کی بجا آوری ہے۔ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کے لیے برادر ملک ترکی کا نظام پسندیدہ رہا جہاں امورِ مملکت میں فوج فیصلہ کن کردار کی حامل تھی۔ طیب اردگان نے ان دس برسوں میں فوج کو بڑی حکمت کے ساتھ واپس اس کی اصل حدود میں دھکیل دیا اور منتخب حکومت کی بالا دستی کا اہتمام کیا۔ پاکستان اور ترکی کے معاملے میں بنیادی فرق یہ تھا کہ جدید ترکی کے قیام میں فوج نے اتا ترک کی زیرِ قیادت کلیدی کردار ادا کیا تھا جبکہ پاکستان کا قیام ایک سیاسی قائد اور سیاسی جماعت کی زیرِ قیادت سیاسی و جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ پاک فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ جنرل ایوب خاں نے اپنی کتاب میں تفصیل سے لکھا کہ 1950 کی دہائی میں وہ سیاسی لیڈروں کی باہمی کشمکش پر کڑھتے رہتے اور ان کی کتنی ہی راتیں پاکستان کے سیاسی حالات کی اصلاح کے لئے غور و فکر کرتے گزر جاتیں۔ یہاں تک کہ وہ ملک کے آئینی نظام کی بساط لپیٹ کر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔
سویلین کے مقابلے میں وردی والوں کی برتری کا احساس ہماری بیشتر فوجی قیادت میں موجود رہا ہے۔ چنانچہ امورِ مملکت میں غالب اور فیصلہ کن حصے کے لئے ان کی خواہش ہر دور میں موجود رہی۔ چار بار تو وہ براہِ راست ملک کے مالک و خودمختار بنے۔ ان میں سے تین کا عشرہ ٴ اقتدار ایک ایک عشرے کے لگ بھگ تھا۔ ایک یحییٰ خاں بد نصیب تھا کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے باعث صرف پونے تین سال نکال سکا۔ ضیأالحق اس فکر و فلسفے کے کھلے داعی تھے۔ 1985 میں غیرجماعتی انتخابات کے بعد وہ وقتاً فوقتاً یاد دہانی کراتے رہتے کہ یہ انتخابات انتقالِ اقتدار کے لئے نہیں، اشتراکِ اقتدار کے لئے تھے۔ چنانچہ انہیں گیانی ذیل سنگھ (اس دور کے بھارتی صدر) اور ملکہ الزبتھ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ مارشل لا کے خاتمے کے لئے آٹھویں ترمیم کی تیاری کے دوران وہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قیام پر اصرار کرتے رہے۔ پارلیمنٹ کے آزاد منش ارکان کی مزاحمت کے باعث یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تو آرٹیکل 58-2/B کا ڈول ڈالا گیا جس کے تحت صدر کو حکومت اور قومی اسمبلی کا اختیار حاصل ہو گیا۔ تب یہ کہا گیا کہ اس کے ذریعے ملک میں چوتھے مارشل لأ کا راستہ روک دیا گیا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدہ سوِ ل حکومت سے نجات کے لئے ایوانِ صدر سے راستہ نکل آیا تھا۔ 11 سال کے عرصے میں 4 منتخب حکومتیں 58-2/B کی نذر ہو گئیں ۔ یہاں تک کے نواز شریف نے دوسری بار آکر تیرھویں آئینی ترمیم کے ذریعے منتخب حکومت اور قومی اسمبلی پر لٹکتی ہوئی 58-2/B کی تلوار کو نیام میں ڈال دیا۔ مشرف دور میں اکتوبر 2002 کے انتخابات کے بعد سترھویں ترمیم کے بعد یہ اختیار دوبارہ ایوانِ صدر کو حاصل ہو گیا۔
جس چیز نے نواز شریف کو قومی سطح کا بڑا سیاسی لیڈر بنا دیا، وہ منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی پر ان کا اصرار تھا جسے ”اینٹی اسٹیبلشمنٹ “کا نام بھی دیا گیا۔ان کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کا آغاز ہوا ہی تھا کہ جنرل اسلم بیگ سے خلیج کی جنگ پر ان کا اختلاف ہو گیا۔ وہ پاک فوج کے سربراہ کے موٴقف کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، عالمی برادری کے موٴقف اور پاکستان کے قومی مفادات کے منافی سمجھتے تھے۔ تب مسلح افواج کے سربراہوں کا اختیار صدر کے پاس تھا۔ اسلم بیگ سرکشی پر قائم رہے تو وزیرِ اعظم نے صدر غلام اسحاق سے صاف صاف کہہ دیا کہ پاکستانی عوام نے انہیں نوکری کرنے نہیں، حکومت کرنے بھیجا ہے، آرمی چیف نے منتخب حکومت کی اطاعت نہ کی تو وہ وزارتِ عظمیٰ کو ٹھوکر مار کر واپس لاہور چلے جائیں گے۔ اس سوال پر کہ اپنے دونوں ادوار میں فوجی قیادت کے ساتھ آپ کی کیوں نہ بن سکی ؟ میاں صاحب کا جواب ہوتا، مجھے کسی سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں رہا۔ آئین نے تمام اداروں کی اپنی اپنی حدود متعین کردی ہیں۔ ادارے اپنی اپنی حدود میں رہیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔
جنرل جہانگیر کرامت ڈسپلن کے پابند پروفیشنل سولجر تھے لیکن کرنا خدا کا کیا ہوا کہ نیول کالج لاہور میں ان کی تقریر کے بعد سوال جواب کے دوران انہوں نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی بات کر دی جو میڈیا میں ہیڈ لائن بن گئی۔ اپوزیشن اسے لے اڑی اور پراپیگنڈہ کا طوفان اٹھا دیا کہ فوج سول حکومت کے ساتھ نہیں رہی۔ کچھ ہی عرصہ قبل عدلیہ کے بحران سے نجات ملی تھی جس میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور صدر فاروق لغاری رخصت ہوئے۔ اپوزیشن اور میڈیا کا ایک حصہ اب فوج اور سول حکومت میں اختلافات کا تاثر پھیلا کر سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے نفسیاتی فضا پیدا کر رہا تھا۔
وزیر اعظم نے آرمی چیف کو طلب کیا اور بتایا کہ ان کی گفتگو نے کیا فتنہ اٹھا دیا ہے۔ شریف النفس آرمی چیف نے معذرت کی ، استعفیٰ لکھا اور گھر کی راہ لی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے بعض عقاب صفت رفقااس پر سخت سیخ پا ہوئے۔ نواز شریف اب تیسری بار وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے اقتدار اس حال میں سنبھالا ہے کہ پاکستان 1971 کے بعد خارجی اور داخلی محاذ پر سنگین ترین حالات سے دو چار ہے۔ دہشتگردی ان میں بدترین ہے۔ قومی سلامتی کے لئے اس سنگین چیلنج نے قومی معیشت کو بھی جان کنی کی کیفیت سے دو چار کر دیا ہے۔ افغانستان سے نیٹو فورسز کی واپسی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والے حالات نئے چیلنج لے کر آئیں گے۔ نواز شریف گزشتہ دو، تین سال سے میثاقِ پاکستان کی بات کرتے آرہے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ( اس میں وہ فوج اور عدلیہ کو بھی شامل کرتے ہیں) سر جوڑ کر بیٹھیں اور پاکستان کو درپیش حال اور مستقبل کے چیلنجوں کے لئے اتفاق رائے کے ساتھ ایک لائحہ عمل تیار کریں ۔ کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کے گزشتہ اجلا س میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قیام کا فیصلہ انہی چیلنجوں کا موٴثر جواب دینے کی کاوش ہے۔ وزیرِ اعظم کے سیکیورٹی ایڈوائزر سرتاج عزیر کے بقول یہ تصور محض دفاع تک محدود نہیں، اس میں داخلی وخارجی امور اور معیشت سمیت بہت سے معاملات آتے ہیں۔
اس کا باقاعدہ سیکرٹریٹ ہو گا۔ ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینکس ہوں گے۔ ایک پلاننگ کمیٹی ہو گی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پرائم منسٹر آفس میں اس کے سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ وزیرِاعظم کی زیرِ قیادت نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں دفاع، امورِخارجہ ، داخلہ اور خزانہ کے وزرأ کے علاوہ چاروں سروسز چیفس بھی شامل ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نیشنل سیکیورٹی ہی کی ایک شکل ہے تو کیا وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے متعلق اپنا موقف بدل لیا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ وزیرِ اعظم کا موٴقف نہیں بدلا، حالات بدل گئے ہیں۔ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے۔ روایتی جنگ سے مختلف اور کہیں زیادہ خطرناک جنگ۔ اتفاق رائے سے فیصلے اور مکمل یکسوئی کے ساتھ ان پر عملدرآمد ان سنگین حالات کا تقاضا ہے اور نیشل سیکیورٹی کمیٹی اس تقاضے کا جواب۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *