Tight Rope Walk

رؤف طاہرrauf

 کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ بھی ہوسکتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو یہی زیبا تھا اور اِس سے (بجا طور پر) اسی کی توقع تھی۔ سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرے سے نمٹنے کے لئے اس کا دست و بازو بننے کا فیصلہ۔۔۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف سے سعودی وزیر خارجہ جناب سعودالفیصل نے رابطہ کیا۔ ہر آزمائش میں کام آنے والے مخلص دوست نے پاکستان کو پکارا تھا، وزیراعظم پاکستان نے اس پر لبیک کہا۔ جمعرات کو اعلیٰ سطحی مشاورت کا اہتمام ہوا جس میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف، قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ایئرچیف مارشل سہیل امان اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختربھی شریک تھے۔ اجلاس میں یمن کی تازہ ترین صورتِ حال اور سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جس وقت یہ سطور رقم کی جارہی ہیں، خواجہ آصف ، سرتاج عزیز اور اعلیٰ عسکری حکام پر مشتمل ایک وفد ریاض روانہ ہونے کو ہے۔
مشرقِ وسطیٰ تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ 2003میں عراق پر امریکی حملہ، صدام حکومت کا خاتمہ اور امریکہ کی مسلط کردہ نوری المالکی کی حکومت(صدام کی سیکولر حکومت کے خاتمے کو’’سُنی حکومت‘‘کے خاتمے اور نوری المالکی حکومت کے قیام کو یہاں ایرانی اثر ونفوذ میں توسیع سے تعبیر کیا گیا) پھر تیونس سے اُٹھنے والی ’’عرب بہاراں‘‘ کی لہر، جس نے ایک طرف لیبیا اور مصر کو طویل عرصے سے مسلط ظالم و جابر آمریتوں سے نجات دلائی تو دوسری طرف یہاں بدترین خانہ جنگی اور سنگین عدم استحکام کا باعث بنی۔ ادھر شام میںبھی حالات نے کروٹ لی۔ بشارالاسد بچ نکلا لیکن اب شام(اور عراق) کو’’داعش‘‘ کاسامنا ہے جو سعودی عرب اور ایران کے لئے بھی مستقبل کے بڑے خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ بحرین کی شاہی حکومت شیعہ اپ رائزنگ میں سروائیو کر گئی لیکن جانے حالات کب نئی کروٹ لے لیں؟ ادھر یمن میں حوثی باغیوں کی پیش رفت جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی صدر عبدالربوہ منصور ہادی نے سعودی عرب میں پناہ لے لی ہے۔ یمن میں حوثی بغاوت کو کچلنے کے لئے مصر ، سوڈان، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے بھی اس کی پُرجوش تائید کی ہے۔ اِدھر ایران نے یمن میں مداخلت کو خطے کے امن کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔ عراق کا ردعمل بھی یہی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، سعودی عرب سے اس کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری دور تھا، یا فوجی آمریت، آزمائش کی کسی بھی گھڑی میں سعودی عرب نے پاکستان اور پاکستانیوں کی امداد میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔
بہار ہو کہ خزاں لَا اِلٰہ اِلاّ اللہ
سعودی قیادت ہی نہیں، وہاں کے عوام بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور پاکستانیوں کو اپنا دوست نہیں، بھائی کہتے ہیں کہ دوست بدل سکتے ہیں،بھائی نہیں۔ شاہ عبداللہ (مرحوم) کو یہی بات دہلی میں کہنے میں بھی کوئی باک نہ تھا۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد شاہ عبداللہ نے مملکت کی باگ ڈور سنبھالی (2005) ….. تو 1950کی دہائی کے بعد کسی سعودی سربراہ کا یہ ہندوستان کا پہلا دورہ تھا۔ شاہ نے روانگی سے قبل ریاض میں بھی یہ بات کہی اور دہلی پہنچ کر بھی اس کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمارا بھائی ہے ،دوست بدل سکتے ہیں، بھائی نہیں اور پاکستان کے لئے انہی والہانہ جذبوں کے اظہار انہوں نے امریکیوں کے روبرو بھی کیا تھا ، جب یورپ اور امریکہ نے ایٹمی دھماکوں کی سزا کے طور پر پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ وہ پاکستان کا بازو مروڑنا اور اس کی ناک رگڑوانا چاہتے تھے، ایسے میں سعودی عرب نے امریکہ اور یورپ کی ناراضی کی پرواہ کئے بغیر پاکستان کو تیل کی مفت فراہمی کا فیصلہ کیا۔ امریکیوں کو شاہ عبداللہ(تب ولی عہد تھے) کا جواب تھا، کوئی یہ نہ سمجھے کہ مشکل کی گھڑی میں ہم پاکستان کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں۔
2013 میں نوازشریف نے اس حالت میں اقتدار سنبھالا کہ قومی معیشت کی نبضیں ڈوب رہی تھیں، ہمارے مغربی مہربان اپنی شرائط پر ہماری دستگیری کرنا چاہتے تھے، ایسے میں سعودی عرب کی طرف سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا عطیہ پاکستان کے لئے ایک عظیم نعمت سے کم نہ تھا۔
پاک سعودی تعلقات ایک طویل تحریر کا موضوع ہیں۔ 1947سے اب 2015تک پاکستان حالت ِجنگ میں تھا یا حالت ِامن میں،سعودی عرب پاکستان کی پشت پر موجود رہا۔ کہتے ہیں، سقوطِ ڈھاکہ پر شاہ فیصل کی کتنی ہی راتیں بے خواب گزری تھیں۔ اس سانحہ کی خبر پر وہ اپنے آنسو ضبط نہ کر پائے تھے۔
محبت کا یہ معاملہ یکطرفہ نہ تھا۔ الحمد للہ پاکستان اور پاکستانیوں نے بھی سرزمین حرمین سے محبت اور عقیدت کا حق ادا کرنے میں کوئی کمی نہ رہنے دی۔سعودی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں پاکستانیوں کا کردار ایک الگ موضوع ہے اور اس کی تعمیر و ترقی میں پاکستانیوں کا حصہ ایک الگ داستان۔پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی تعاون بھی تاریخ کا اہم باب ہے۔ سرزمین حرمین جب بھی کسی خطرے سے دوچار ہوئی، پاکستان اور پاکستانیوں نے اس کے تحفظ کو اپنے لئے عظیم سعادت سمجھا۔
1990 میں کویت کے خلاف صدام کی احمقانہ مہم جوئی نے سعودی عرب کی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کئے تو پاکستان نے اپنی فوج بھجوانے میں تاخیر نہ کی۔(بے نظیر صاحبہ کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد، یہ غلام مصطفیٰ جتوئی کی نگران حکومت تھی لیکن ظاہر ہے، اصل فیصلے غلام اسحاق خاں کے ایوانِ صدر ، جنرل اسلم بیگ کے جی ایچ کیو اور جنرل حمید گل کے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں ہورہے تھے)۔کویت کی آزادی کیلئے اقوامِ متحدہ کی تائید کے ساتھ امریکہ کی زیرقیادت فوجی کارروائی کے وقت (جنوری 1991) پاکستان میں نوازشریف کی (پہلی) حکومت تھی۔ تب جنرل اسلم بیگ نے قلابازی کھائی اور صدام کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اپنے آرمی چیف کی ناراضی کی پروا کئے بغیر ایک طرف کویت کی آزادی کی حمایت کی تو دوسری طرف امن مشن پر روانہ ہوگئے۔ اس موقع پر انہیں وار زون میں اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہ تھا۔
سعودی عرب کے لئے یہ محبت اپنی جگہ ، لیکن پاکستان نے اپنے پڑوسی ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی کبھی پسِ پشت نہیں ڈالا۔ یہ بلاشبہ تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف تھا(Tight Rope Walk)۔ ایران عراق جنگ کے دوران امریکیوں کی خواہش تھی کہ پاکستان، ایران کی سرحد پر دباؤ بڑھائے لیکن جنرل ضیاء الحق نے انکار کردیا۔ایران، عرب مفاہمت بھی پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے جس کے لئے اس نے مقدور بھر کوشش بھی کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے دوسری بار حکومت سنبھالنے کے بعد 23مارچ 1997کو پاکستان کی گولڈن جوبلی منانے کے لئے اوآئی سی کے خصوصی سربراہی اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس میں 54مسلم ممالک نے شرکت کی۔ سعودی عرب سے ولی عہد عبداللہ آئے تھے۔ ایرانی قیادت بھی موجود تھی۔ پاکستان کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سردمہری کی برف پگھلی۔ پاکستان ایک نئے چیلنج سے دوچار ہے ، اُمید کی جانی چاہیے کہ ہماری معاملہ فہم قیادت اس چیلنج سے بحسن و خوبی عہدہ برآہوگی۔ وہ سعودی عرب سے وفاداری کے تقاضے ضروری نبھائے گی لیکن کسی فرقہ ورانہ محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *