قوم کی تعلیم اور سیاسی طبقے کی اصلاح

ایاز امیرAyaz Amir

 فوج، فضائیہ اور خفیہ ادارے بہت سے محاذوں پر برسر ِ پیکار ہیں۔ فوج اور فضائیہ قبائلی ایجنسیوں میں لڑرہی ہیں۔ حالیہ دنوں وادی ِ تیراہ میں شدید جنگ جاری ہے۔ ماضی میں کوئی شخص وادی ِ تیراہ ، جس کا بیرونی دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع ہے اور یہاں جانا صحرائے گوبی سے بھی زیادہ دشوار ہے، میں قدم رکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، لیکن آخر کار اس میں فوجی دستے داخل ہوگئے اور آج سے پہلے اس کی ناقابل ِ تسخیر سمجھی جانے والی چوٹیوں پر پرچم لہرادیا گیا۔ فوجی جوان اور افسران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
جنوب میں فوج، رینجرز اور خفیہ ادارے کراچی کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کررہے ہیں۔ ایم کیو ایم شدید دبائو میں ہے کیونکہ نائن زیروسے بدنام ِ زمانہ ٹارگٹ کلرز پکڑے گئے اور شواہد بتاتے ہیں کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے اور طویل عرصہ تک منصب پر موجود رہنے والے گورنر عشرت العباد خان کو بھی ہٹایا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کسی کو ایم کیو ایم کی طرف انگشت نمائی کرنے کی بھی جرات نہیں تھی لیکن اب اس پر بہت تگڑا ہاتھ ڈالا جارہا ہے۔ میڈیا بھی آہستہ آہستہ خوف سے نکلتے ہوئے اس کے بارے میں کھلم کھلا رپورٹنگ کررہا ہے۔ وہ دن بھی شاید آنے والا ہے جب میڈیا چینلز، جو ویسے تو بہت دلیر اور بے باک ہیں، بھی اپنے معمول کے پروگراموں کو معطل کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما کی طویل تقاریر کو نشر کرنے کے پابند نہیں رہیں گے۔ شاید اُس دن کراچی کا طویل اور خون میں ڈوبا ہوا ڈروانہ خواب ختم ہوجائے گا اور اس پر راج کرنے والی سیاسی جماعت اور اس کے رہنما سمجھ لیں گے کہ ان کا کھیل ختم ہوچکا ۔ اگر ڈرا دھمکا کر اپنی تشہیر کرنے کی سہولت اور طویل پریس کانفرنسوں اور تقریروں کو ڈر کے مارے نشر کرنے کا سلسلہ موخر ہوجائے تو پھر پارٹی رہنمائوں، جیسا کہ ستار اور رضوی، کوآٹے دال کا بھائو معلوم ہوگا۔
یہ البتہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ ایم کیو ایم بطور ایک سیاسی جماعت کے باقی نہ رہے۔ یقینا اسے انتخابی سیاست کا حق حاصل ہے لیکن ایک سیاسی جماعت کو ملنے والی عوامی حمایت میں اور تشدد اور قتل و غارت گری کے ذریعے اپنا رعب قائم کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ تاہم اب خوف کی سیاہ پرچھائیاں چھٹنے والی ہیں ، اور پارٹی قیادت کو اس بات کا علم ہے۔ کراچی میں تبدیلی کی ہوائیں چل نکلی ہیں اور آپریشن کے باوجود پارٹی کا رد ِعمل اکا دکا بیانات کے علاوہ کچھ نہیں۔ ماضی میں موجودہ اقدامات کا دسواں حصہ بھی کراچی کو آگ اور خون کے سمندر میں دھکیل دیتا، لیکن اب کچھ نہیں ہوا ۔ کراچی میں پارٹی کو داخلی انتشار جبکہ قائد کو لندن میں سنگین مسائل کا سامنا ہے اور پھر صولت مرزا ، موٹا، چھوٹا وغیرہ سے اگلوائی جانے والی معلومات نے بھی قدموں تلے زمین سرکادی ہے۔ اس دوران ایک اور تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کراچی میں ہر قسم کے بیرئیرز ارضی خدوخال کا حصہ بن چکے تھے، لیکن اب اُنہیں حتمی طور پر ہٹایا جارہا ہے۔ تاہم اس سلسلے کا ایک لٹمس ٹیسٹ (بلاول ہائوس کے باہر لگے ہوئے بیرئیرز ہٹانا) باقی ہے۔ جس دن یہ بیرئیرز ہٹالئے گئے اورپھر دہراتا ہوں ، جس دن لند ن سے ہونے والی طویل تقریروں کو نشر کرنا بند کردیا گیا، وہ دن کراچی کی آزادی، یا کم از کم آزادی کے آغاز کا دن ہوگا۔
یہ معجزہ نما تبدیلیاں کیسے ممکن ہوئیں؟نہ تو فوج نے نئے ٹینک منگوائے ، نہ فضائیہ میں نئے جہاز شامل کئے گئے ، یہ وہی فوج ہے، وہی فضائیہ اور وہی خفیہ ادارے، لیکن نئی چیز عزم اور بے باک قیادت ہے۔ جنرل راحیل شریف صاحب کی قیادت میں فوج نے ماضی میں نہ ختم ہونے والے تذبذب، اگر مگر، ایسا نہ ہوجائے ، ویسا نہ ہوجائے وغیرہ، کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ کیا کہ بہت ہوگئی، لوہا گرم ہے یا ٹھنڈا، دہشت گرد مذہبی ہے یا سیکولر، اب اگر پاکستان کے وجود کو تمسخر کا نشانہ بننے سے بچانا ہے تو ضرب ، بلکہ کاری ضرب لگانی ہوگی۔ ایک مرتبہ جب یہ بنیادی فیصلہ کرلیا گیا، تو عمل قوم کے سامنے ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہورہا ہے۔
تاہم اس ضمن میں کچھ معروضات وضاحت طلب ہیں۔ یہ فکری تبدیلی آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد نہیں آئی، بلکہ اس سے بہت پہلے، کمان تبدیل ہونے کے ساتھ، فوج کے موقف اور فکر میں تبدیلی کے اشارے مل رہے تھے۔ مسئلۂ یہ تھا کہ تمام سویلین قیادت ، مجموعی طور پر تمام سیاسی طبقہ، فوج کے تبدیل شدہ موڈ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ کیا قوم کو وہ دن بھول گئے جب بلا تفریق تمام سیاسی قیادت باآواز ِبلند طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی دہائی دے رہی تھی؟اس سے قطع ِ نظر کہ شدت پسند مسلسل بم دھماکے کرکے شہریوں کو خون میں نہلاکر، اہل تشیع کی امام بارگاہوں اور مسیحی بھائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کرکے، فوجی جوانوں کے گلے کاٹ کر بہت ڈھٹائی سے ان گھنائونے افعال کی ذمہ داری قبول کررہے تھے لیکن عمران خان سے لے کر نواز شریف تک، تمام سیاست دان ان امن دشمن عناصر سے پرامن مذاکرات کا راگ الاپ رہے تھے۔ روایتی طور پرعوامی یادداشت قابل ِ اعتماد نہ سہی ، لیکن کیا عوام ستمبر 2013کی کل جماعتی کانفرنس بھول گئے جس میں ڈرون حملوں ،نیٹو اور ایساف فورسز کی افغان سرزمین پر کارروائی اور پتہ نہیں مریخ سے لے کر کوہ ِ ندا تک کیا کیا کچھ کہا گیا ، لیکن مجال ہے کسی کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور پچاس ہزار سے زائد شہریوں کو ہلاک کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف لب کشائی کی توفیق ہوئی ہو۔ ذرا ٹھہریں ، طالبان کا ذکر کیا گیا تھا۔ اُن کے لئے ’’قبائلی علاقوں میں موجود ہمارے اپنے لوگ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ۔ کسی کو خوش کرنے کے لئے اس سے زیادہ چاپلوسانہ الفاظ کا استعمال محال ہے۔ کل جماعتی کانفرنس اور اس کے تاریخی علامیے کے بعد ان سے بات چیت کرنے کا طربیہ ڈرامہ شروع ہوا۔ حکومت اور طالبان کی طرف قوم کے زخموں پر تیزابی نمک چھڑکنے کےلئے مسخروں کے دوٹولے اپنی اپنی نشستوں پر براجمان دکھائی دینے لگے۔ لیکن جس معرکے میں ملا ہوں غازی، اس کا انجام معلوم، اور یہاں تو دوسری طرف بھی ملا ہی تھے، چنانچہ معرکے سے پہلے ہی انجام نوشتہ دیوار تھا۔ اگر کسی کو فریقین کے نام، بمقام، یاد نہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ’’ہم جنس باہم پرواز‘‘ والا معاملہ ہی تھا۔
ستمبر میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کا انعقادجنرل کیانی کے طویل عہد کے اختتامی دنوں میں عمل میں آیا۔ اس کے دوماہ بعد، نومبر 2013میں جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنے۔ ان کے سامنے مسئلۂ یہ تھا کہ اس سے پہلے کہ فوج دہشت گردی پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکے، اُنہیں سیاسی طبقے کی کم ہمتی اور بزدلی کا بھی کوئی علاج کرنا تھا۔ بے شک اُس مرحلے پر قوم کےلئے سیاسی طبقے کی بزدلی طالبان کی دہشت گردی یا کراچی کی صورت ِحال سے بھی زیادہ خطرناک تھی۔ تاہم کم و بیش بیک وقت رونما ہونے والے دو واقعات نے فوج کو ارباب ِ سیاست کو حقیقی سیاست کا سبق سکھانے کا موقع فراہم کردیا۔ ایک مشرف غداری کیس اور دوسرا نامور صحافی ،حامدمیر پر حملے کے بعد میڈیا میں ہونے والی خانہ جنگی۔ ان دونوں واقعات سے پہلے حکومت کا مزاج مختلف تھا۔ سعد رفیق، خواجہ آصف ، پرویز رشید کم و بیش ہرروز نعرہ ِ مستانہ لگاتے ہوئے مبادیات ِ سیاست(عقل وغیرہ) کو للکارتے پھرتے ۔ بعد کے واقعات تاریخ ہیں، مشرف کیس کے غبارے سے ہوا نکل گئی، میڈیا سول وار میں حکومت کو اپنی حماقت کا احساس ہوگیا اور بیانات کے گولے داغنے والے وزرا کا یہ عالم کہ پوچھو تو منہ میں زباں نہیں، یا جیسے لتا منگیشکرکا نغمہ’’بدلے بدلے مرے سرکار نظر آتے ہیں‘‘۔
آج سبق سیکھنے ، بلکہ اچھی طرح ازبر کرنے، کے بعد حکومت مجموعی طور پرایسا تاثر دے رہی ہے جیسے دہشت گردی کے خلاف معرکہ آرائی کا منصوبہ اس کا تھا ، نہ کہ فوج کا۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ یہ آسمان کی مرضی ، لیکن زمین پر بھی کچھ تبدیلیاں اظہر من الشمس ہیں۔
اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں نواز شریف نے ہمیشہ محاذآرائی کی تھی ، لیکن آج(اور اس کا کریڈٹ اُنہیں دیناپڑے گا) وہ بھی سمجھوتے اور افہام و تفہیم کا سلجھا ہوا سبق سیکھ چکے ہیں۔ سیاسی طاقت کو حدود میں رکھنے اور حکومت کا اس پر سمجھوتہ کرلینے کے بعد عمران خان اور ڈاکٹر قادری کے لانگ مارچ اور دھرنے یقینی طور پر غیر ضروری تھے کیونکہ حکومت پہلے ہی سبق سیکھ چکی تھی۔اس لئے دھرنوں کے ذریعے حکومت کو مزید بے بس کرنے اور اس میں پس ِ پردہ ، کسی نادیدہ ہاتھ کی کارفرمائی کا تاثر ابھرتا تھا۔ اُن حالات میں ہمارے ہیروز، عمران اور قادری، سے بنیادی غلطی ہوگئی۔ وہ یہ نہ جان سکے کہ جب موجودہ حکومت طاقتور حلقوں کی وضع کردہ لائن پر چلنے کے لئے تیار ہے تو پھر اسے دھکاکیوں دیا جائے ؟کوئی باس اپنے تربیت یافتہ شاگرد(جیسا کہ حکومت) کو نکال کر غیر تربیت یافتہ(جیسا کہ عمران خان) کو ’’کام‘‘پر کیوں لگائے گا؟عمران اور قادری کو جان ملٹن کے اس شعر سے ’’قناعت‘‘ کا سبق سیکھنا چاہئے۔’’ They also serve who stand and wait‘‘۔ اُس وقت مجھ جیسے مبصرین غلط ثابت ہوئے، کیونکہ ہم سوچ رہے تھے کہ ہونی ہوکر رہے گی، لیکن ہم بھول گئے کہ سبق سیکھنے کے لئے ہی ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *