سو دن چور کے اور ایک دن

عرفان حسینIrfan Hussain

اگرچہ یومِ پاکستان پر ہونے والی پریڈ کے موقع پر جنرل راحیل شریف صاحب صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم نوازشریف کے پیچھے کھڑے تھے لیکن کسی کو ذرّہ برابر شک نہیں تھا کہ ہونے والے ایکشن کا اصل انچارج کون ہے۔ جب سے وہ آرمی چیف بنے ہیں، نہایت پراعتماد طریقے سے مقبولِ عام سکیورٹی ایجنڈاآگے بڑھا رہے ہیں۔ اگرچہ شروع میں موجودہ حکومت طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ان سے مذاکرا ت پر مُصر تھی اور ایک اے پی سی میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ہلاک کرنے والے دھشت گردوں کو ’’قبائلی علاقوں میں موجود اپنے آدمی‘‘ قراردیا گیا، لیکن جنرل راحیل شریف کو ان کے بارے میں شروع سے ہی کوئی ابہام نہ تھا۔
میں نے ہمیشہ سیاست میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی ، تاہم گزشتہ کئی سالوں سے جاری انتہائی ناقص گورننس اور بدترین نااہلی کو دیکھتے ہوئے میں بہت خوشی سے فوج کے ڈرائیونگ سیٹ پر ہو کر ان جہادی عناصر اور سیاست کے بھید میں ہماری زندگی کو اجیرن کرنے والے عناصر کا قلع قمع کرنے کی حمایت کرتاہوں۔ کراچی میں ایک مرتبہ پھر پی پی پی حکومت کی نااہلی ، بلکہ ’’ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘‘ کا تاثر اُس وقت گہرا ہوگیا جب پیرا ملٹری فورسز نے اپریشن شروع کیا اور اس اپریشن کی زد میں ایم کیو ایم کا ایک حصہ بھی آگیا۔ نہ تو پی پی پی اور نہ ہی ایم کیو ایم جانتی ہیں کہ اگلا قدم کیا ہوگا۔ کراچی میں ہونے والی حالیہ میٹنگ میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ شامل نہیں تھے۔میں نہیں سمجھ سکتا ہے کہ اب تک اُنھوں نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا۔ شاید اُن کے لیے اتناہی کافی ہے کہ وہ سیاسی پریشانی اٹھانے کی بجائے پرسکون طریقے سے گالف کھیلتے ہوئے وقت گزار لیں۔
دھشت گردوں کے خلاف دوٹوک کارروائیوں کی وجہ سے ملک بھر میں فوج کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے۔ دھشت گردوں کے خلاف اپریشن پر دائیں بازو کی جماعتوں، جیسا کہ پی ٹی آئی، پی ایم ایل (ن) اور دیگر مذہبی جماعتوں کو جو بھی اعتراضات تھے،آرمی پبلک سکول پشاور پر سفاکانہ حملے میں شہید ہونے والے ایک سو بتیس معصوم بچوں کے خون سے ملک بھر میں رنج و الم کے اٹھنے والے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ گوکچھ مذہبی جماعتوں نے کچھ دیر بعد دھیمے سروں میں واویلا شروع کردیا لیکن اب ان کی کوئی شنوائی نہیں اور نہ ہی عوام ان پر کان دھرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس حملے نے جنرل شریف کو ایک طرح سے کھلا اخلافی اور عسکری جواز فراہم کردیا کہ بہت ہوگئی، اب انتہا پسندوں کو پسندوں کا خاتمہ ہوگا ، اور پوری قوت سے ہوگا۔ اب اُنہیں بھاگنے ، چھپنے یا نئے ناموں کے ساتھ ابھرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا، بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی ختم کیا جائے گا۔ چونکہ اس اپریشن میں عوام پوری استقامت سے فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، اس لیے سیاست دانوں کو بھی چاروناچار یہی موقف اختیار کرنا پڑا ۔
چونکہ قبائلی علاقوں میں طالبان اورکراچی میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز، جن میں اکثریت کا تعلق ایم کیو ایم کے ساتھ بتایا جاتا ہے، کے خلاف اپریشن کو عوام کی بھرپورحمایت حاصل ہے،اس لیے ایم کیو ایم کی نارضی کے سوا اس کی کوئی سیاسی قیمت نہیں چکانی پڑی، لیکن جب پی پی پی کے خلاف سندھ میں اورطالبان کے خلاف جنوبی پنجاب میں ایکشن ہوگا تو ہمیں شاید زیادہ مزاحمت دیکھنے کو ملے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیان بازی کے سواسیاست دانوں نے پاکستان میں دھشت گردی کے کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ جب بھی ایکشن کی ضرورت محسوس ہوتی تھی، قومی اتفاقِ رائے کا ڈول ڈالا جاتا تھا اور نشستند، گفتند ، برخاستندنامی عمل کے ذریعے ٹارگٹ کلرز اور خود کش بمباروں اور ان کے ماسٹر مائینڈز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ چنانچہ عوام کا خون بہتا رہا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے لامتناہی کل جماعتی کانفرنسوں اور ان کے اختتام پر دلکش الفاظ میں اعلامیے سنائی دیتے رہے۔ سیاست دانوں... اور میں ان میں جنرل مشرف کو بھی شامل کرتاہوں... کے سامنے ایکشن کے سلسلے میں ایک مسلہ یہ تھا کہ وہ مذہبی جماعتوں اور ایم کیو ایم کی حمایت کے طالب ہوتے تھے۔ اس گھٹیا سیاسی مفاہمت کی وجہ سے قاتلوں اور دھشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے مل جاتے ۔ قانون کا ہاتھ اُن نہ پہنچ پاتا اور وہ سزا کے خوف کے بغیر ملک بھر میں خون کی ہولی کھیلتے رہتے۔ اُس وقت پاکستان ایک ایسی کمزور ریاست دکھائی دیتی تھی جو اپنے شہریوں کو جان کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو۔ یہی وجہ ہے جب کراچی اور فاٹا میں دھشت گردوں کے خلاف اپریشن شروع کیا گیا تو عوام نے سکون کا سانس لیا۔ اُن کا ریاست اور اس کے اداروں پر اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا۔
اس پرامید اور حوصلہ افزا ماحول میں شکوک و شبہات کے کچھ پہلو ضرور موجود ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ ، حافظ سعید ملک میں کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں حالانکہ ان پر ممبئی حملوں سمیت بہت سی دھشت گردی کی کارروائیوں کا الزام ہے۔ ہماری عدالتوں نے ضیا الرحمن لکھوی، جس پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، کی ضمانت منظور کرلی۔ اگرچہ ممبئی حملوں کو سات سال بیت چکے لیکن اس کیس کی ابھی تک عدالت میں سماعت کی نوبت نہیں آئی۔ یہ دونوں کیسز فوج کے عزم کا امتحان ہیں۔ تاہم ان دونوں کا تعلق حکومتِ پنجاب سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ شریف فیملی مذہبی جماعتوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ہماری عدلیہ بھی ماضی میں ایسے گروہوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرچکی ہے۔
فوج اور رینجرز کی طرف سے کی گئی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سیاسی عزم ہو تو ہم اپنے سکیورٹی کے مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ تاہم موجودہ عسکری قیادت کے حوصلے اور عزم کو دیکھتے ہوئے ہمیں زرداری، نواز شریف، مشرف اور جنرل کیانی کی بے ہمتی بھی یاد آتی ہے۔ کہا جاتا تھا کہ شمالی وزیرستان میں قدم رکھنا بچوں کا کھیل نہیں ، یا اگر ان انتہا پسندوں کو چھیڑا گیا تو ملک میں خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی۔ آج یہ دانش کہاں ہے؟آج بھی جبکہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان طے کرلیا گیا ہے، اس کے بہت سے مندرجات کھوکھلے الفاظ ثابت ہوئے ہیں۔ جس آفس نے صوبائی ایکشن کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مربوط کرنا تھا، اُس میں ابھی تک کوئی سٹاف موجود نہیں۔ چوہدری نثار کی ایک صلاحیت البتہ قابلِ تعریف ہے کہ وہ باتیں بہت اچھی کرتے ہیں... افسوس وہ وزیرِ داخلہ بھی ہیں۔ تاہم وہ پی پی پی کے رحمان ملک سے بہت بہتر ہیں۔ ملک صاحب کو وزیرِ داخلہ بنا ناپی پی پی حکومت کی طرف سے برملا اظہار تھا کہ وہ دھشت گردوں کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتی۔ ملک صاحب اپنے نہایت چمکدار بالوں اور چرب دار الفاظ کے ساتھ ٹی وی کی سدا بہار زینت تھے، بس اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ تاہم ان کی یہی ’’فعالیت ‘‘ پی پی پی کو لے ڈوبی۔
یہ بات قابلِ تشویش ہے کہ جب دوران ملک میں دھشت گردوں اور جہادیوں کے خلاف فیصلہ کن اپریشن ہورہا ہے، ہماری پولیس مناسب ہتھیاروں اور تربیت سے محروم ہے۔ ہمارا تھانہ مقامی سطح پر انتہا پسندوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ تھانے دار ہے جو اپنے علاقے میں موجود ایسے تمام عناصر کو جانتا ہے۔ ہمارے خفیہ ادارے بمشکل ہی ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، ہمارا میڈیا مذہبی انتہا پسندوں اور قاتلوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے قوم کو متواتر کنفیوژن کا شکار رکھتا ہے۔ اس دوران ہم اپنے فوجی جوانوں اور رینجرز کے شکر گزار ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے قوم کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *