ڈرون حملے: امریکہ پر عالمی دباو¿ بڑھانے کی ضرورت

Ashraf qپاکستان اور یمن میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف امریکہ میں رائے عامہ بیدار ہو رہی ہے۔ رائے عامہ کو بیدار کرنے میں دوسری کئی تنظیموں کے ساتھ خواتین کی تنظیم ”کوڈ پنک“ بہت نمایاں ہے۔ اگرچہ ”کوڈپنک“ دوسرے کئی معاملات پر بھی مو¿ثر احتجاج کرتی رہتی ہے۔ جیسے مصر میں خون ریزی اور فوجی بغاوت، شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال وغیرہ، لیکن ڈرون حملے اس تنظیم کا مستقل ہدف ہیں۔ اس تنظیم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی عہدے نہیں ہیں۔ کوئی دعوت نامہ جاری ہوتا ہے تو اس پر دس بارہ تمام خواتین کا نام ہوتا ہے۔ مڈئیا بنجامن اس تنظیم کی روح رواں ہیں، لیکن اُن کا بھی کوئی عہدہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کتاب "Killing by Remote Control" لکھی ہے۔ وہ جگہ جگہ، شہر شہر جا کر اس کتاب کی رُونمائی کرتی ہیں اور اس طرح لوگوں میں ڈرون حملوں کے خلاف بیداری پیدا کرتی ہیں۔ مڈئیا کی کتاب پر معروف دانشور ڈیوڈ سوانسن نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: قتل تو روبوٹ کرتے ہیں، لیکن خونِ ناحق تو ہمارے ہاتھوں پر ہے“۔

پاکستان کے دورے کے بعد مڈئیایمن گئیں اور وہاں بھی احتجاجی جلسے کئے اور جلوس نکالے۔ اُن کی واپسی پر مَیں نے اُن سے چند سوالات کئے۔ یہ سوالات اور جوابات مندرجہ ذیل ہیں۔

سوال: آپ کے یمن کے دورے کے تاثرات؟

جواب: (اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا)

سوال: یمن سے پہلے آپ پاکستان بھی گئی تھیں۔ دونوں ملکوں کے دورے میں آپ کو کیا فرق محسوس ہُوا؟

جواب: پاکستان میں ڈرون حملے زیادہ ہوتے رہے ہیں، لیکن اب صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ اب یمن میں ڈرون حملے بڑھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یمن میں یہ آسانی ہے کہ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے لوگوں اور علاقوں تک رسائی میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ متاثرہ لوگوں اور علاقوں تک بآسانی پہنچا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں ڈرون حملوں کا شکار لوگ اور علاقے ملک سے کٹے ہوئے دور دراز اور دشوار گزار ہیں۔ اس لئے پاکستان کی نسبت یمن میں ان حملوں کے بارے میں ٹھیک ٹھیک رپورٹنگ اور نقصانات وغیرہ کا اندازہ لگانا آسان ہے۔

سوال: پاکستان میں آپ نے ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے علاقے کی بجائے جنوبی وزیرستان کا رُخ کیوں کیا تھا؟

جواب: ہم عمران خان کے قافلے کا حصہ تھے۔ ہمارا اپنا کوئی پروگرام نہیں تھا اور انہوں نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کا ایک جنرل پروگرام بنا رکھا تھا۔

سوال: جس وقت آپ پاکستان گئی تھیں، اس وقت پاکستان کی حکومت ڈرون حملوں کو بند کرانے میں کوئی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہی تھی۔ نئی حکومت اس پر متعدد بار احتجاج کر چکی ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں بھی اس پر احتجاج کیا گیا ہے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اس طرح آپ کے مشن کو تقویت ملے گی؟

جواب: جی ہاں! ہمیں اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ حمایتیوں کی ضرورت ہے جو ہمارے ساتھ مل کر ڈرون حملوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ حکومتِ پاکستان کے لئے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف مضبوطی اور استقامت کا مظاہرہ کرے اور پُر زور آواز اُٹھائے کہ یہ حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف اور ٹارگٹ کلنگ ہیں، انہیں بند کیا جائے۔

سوال:پاکستان میں اس تبدیلی کے بعد آپ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟

جواب:مجھے سوال کی پوری طرح سمجھ نہیں آئی، لیکن ہمارا لائحہ عمل یہی تھا اور یہی رہے گا کہ جب تک یہ حملے رُک نہیں جاتے، ہم ان کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سوال: مستقبل قریب میں آپ کو ”کوڈ پنک“ کی کامیابی کے کیا آثار نظر آتے ہیں؟

جواب: ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک سال پہلے کی نسبت امریکی عوام میں ان حملوں کی حمایت کم اور مخالفت بڑھ گئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آئندہ عوام جب اپنے نمائندے چُنیں گے تو اس بات کا بھی خیال رکھیں گے کہ کون ان ڈرون حملوں کے حق میں ہے اور کون مخالف ہے۔ وہ ان قاتل ڈرون حملوں کے حامیوں کو منتخب کرنے کی بجائے انہیں بند کر نے کے حامیوں کو ووٹ دیں گے۔

سوال: امریکی حکومت اور وزارت دفاع (پینٹاگون) کا مو¿قف ہے کہ ڈرون حملے انصاف کے تقاضوں کے مطابق، قانونی اور آئینی ہیں، لیکن آپ اور ڈرون حملوں کے دوسرے مخالفین کا مو¿قف ہے کہ یہ سراسر غیر منصفانہ، خلاف قانون اور خلاف آئین ہیں۔ دونوں قسم کے مو¿قف کے مابین بہت بڑی خلیج ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ آپ اس خلیج کو پاٹ سکیں گی۔ کیسے اور کب تک؟

جواب: دُنیا میں ڈرون حملوں کی مخالفت نے تعلیمی اداروں، وکلائ، سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ سارے کے سارے لوگ بین الاقوامی قوانین کے تحت ان حملوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ یہ اتحاد اور یکجائی، اقوام متحدہ اور عالمی رہنماو¿ں پر ایسا دباو¿ ڈالیں گے کہ وہ ان حملوں کو کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں گے۔

سوال: آپ کے پاس کوئی ایسے قابل اعتماد اعداد و شمار ہیں، جن سے معلوم ہو سکے کہ پاکستان میں یا دُوسری جگہ ڈرون حملوں کا شکار ہونے والے معصوم بچے، عورتیں اور مرد تھے اور ان میں شاید چند ہی حقیقی دہشت گرد تھے۔

جواب: صحافیوں کی ایک معتبر تنظیمBureau of Interogative Journalism اس سلسلے میں متاثرین کے نام۔ تفصیلات اور اعداد و شمار جمع کرتی ہے۔ ہمارا ذریعہ یہی تنظیم ہے، جس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکثر مارے جانے والوں کی عمریں دس سال یا اس سے بھی کم تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بچے دہشت گرد ہر گز نہیں تھے۔

سوال: کیا امریکی آئین حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عدالت میں فیئر ٹرائل کے بغیر کسی شہری کو خواہ وہ غداریTreasun کا ملزم ہو۔ قتل کر ڈالے۔ (میرا اشارہ یمن میں امریکی شہری ”اولاکی“ کو ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کی طرف تھا)

جواب: ہرگز نہیں۔ امریکہ میں ایک باقاعدہ قانونی اور عدالتی کارروائی ہم سب کو بے حد عزیز ہے۔ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ حکومت قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ ان اقدار (قانون کی بالادستی اور قانونی عدالتی کارروائی کے حقوق) کا اطلاق صرف امریکی شہریوں پر ہی نہیں، دُنیا بھر میں ہونا چاہئے۔(یاد رہے امریکی آئین حصول انصاف، سیاسی و شہری حقوق کے لئے امریکی اور غیر امریکی میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھتا)

سوال: آپ کا آئندہ کا کیا پروگرام ہے؟

جواب: نومبر میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس(SUMMIT) ہو رہی ہے۔ کانفرنس جارج ٹاو¿ن لاءسینٹر کے ہارٹ آڈیٹوریم میں ہوگی اور اس کی میزبانی کوڈ پنک کے ذمہ ہے۔ اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطاب معروف ماہر تعلیم کورینل ویسٹ کا ہوگا۔ دو دن تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں دُنیا بھر سے مندوبین شرکت کریں گے۔ تقاریر کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی ڈرون حملوں کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

انٹرویو کے خاتمے کے بعد مَیں نے اس نئی عالمی ویب سائٹ کو دیکھا، یہ ”گلوبل ڈرونز واچ“ کے نام سے بنائی گئی ہے۔ اس پر زیادہ تر معلومات نومبر میں ہونے والی کانفرنس کے بارے میں ہے، لیکن زیادہ تر معلومات کے لئے کوڈپنک کی ویب سائٹ کے لنکس ہی کُھلتے ہیں۔ سائٹ پر ایک بٹن ڈیلیگیٹ کا بھی ہے، لیکن اس میں ڈیلیگیٹس کے بارے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ مڈئیا بنجامن کے دورئہ پاکستان کی خبریں ہی خبریں ہیں۔ البتہ اس پر ایک نام نُور پیرو ملا۔ جس کے بارے میں لکھا ہے کہ پاکستانی شرکا یا شرکت کے خواہش مند ان کے ای میل پتے پر رابطہ کریں۔ مَیں نے اس پر رابطے کی کوشش کی۔ دو روز بعد جواب ملا۔ مَیں نے خوشی کا اظہار کیا اور دریافت کیا کہ پاکستانیوں کو متحرک کرنے کے لئے کیا ہو رہا ہے اور کن لوگوں یا تنظیموں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس استفسار کا جواب دو روز بعد بھی نہیں ملا، تاہم مجھے توقع ہے کہ پاک یو ایس فریڈم فورم اور فورم کے روح رواں ڈاکٹر شفیق اور کامریڈ شاہد اس سلسلے میں ضرور اپنی کوششیں کریں گے۔ وہ پہلے ہی کوڈپنک کے تمام پروگراموں میں ضرور شریک ہوتے ہیں۔ ٭

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *